عید الاضحی کے بعد مسائل کے حل کے لیے مارچ اور کے الیکٹرک کے خلاف سپریم کورٹ میں ’’ون ملین پٹیشن ‘‘ دائر کریں گے: حافظ نعیم الرحمن

عید الاضحی کے بعد مسائل کے حل کے لیے مارچ اور کے الیکٹرک کے خلاف سپریم کورٹ ...
 عید الاضحی کے بعد مسائل کے حل کے لیے مارچ اور کے الیکٹرک کے خلاف سپریم کورٹ میں ’’ون ملین پٹیشن ‘‘ دائر کریں گے: حافظ نعیم الرحمن

  



کراچی (ڈیلی پاکستان آن لائن)جماعت اسلامی کراچی کے تحت کے الیکٹرک کی جانب سے کراچی کے شہریوں سے 200ارب روپے سے زائد غیر قانونی طور پر وصول کر نے اووربلنگ ،لوڈشیڈنگ ،کے الیکٹرک ،نیپرا اور حکومتی گٹھ جوڑ کے خلاف اور سپریم کورٹ میں ’’ون ملین پٹیشن ‘‘ دائر کرنے کے سلسلے میں شاہراہِ قائدین پراحتجاجی دھرنا دیا گیا ، احتجاجی دھرنے میں نیو سبزی منڈی کے متاثرہ تاجر وں سمیت عوام کی بڑی تعداد نے شرکت کی اور کے الیکٹرک کے مظالم کے خلاف شدید غم و غصے کا اظہار کیا ، اس موقع پر تاجروں اور شہریوں نے اپنی شکایات بھی بیان کیں اور اپنے کئی کئی لاکھ روپے کے بِل بھی دکھائے اور بتایا کہ کے الیکٹرک نے  شکایت کے باوجود بلوں کو درست نہیں کیا۔

احتجاجی دھرنے سے امیر جماعت اسلامی کراچی نے  خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جماعت اسلامی کسی مراعات ، وزارتوں یا دفاتروں کو کھلوانے کے لیے احتجاج نہیں کرتی بلکہ صرف عوام کے حقوق کے لیے احتجاج کرتی ہے ،جب تک ڈھائی کروڑ شہریوں کو کے الیکٹرک کے مظالم سے نجات ،اوور بلنگ اور لوڈ شیڈنگ کا خاتمہ نہیں ہوگا اور عوام سے لوٹے گئے 200ارب روپے واپس نہیں کیے جائیں گے کے الیکٹرک کے خلاف احتجاجی تحریک جاری رہے گی ۔انہوں نے کہا کہ کراچی میں کے الیکٹرک کے علاوہ دیگر اداروں اور حکومت کی نااہلی اور ناقص کارکردگی کی وجہ سے بے شمار مسائل ہیں ، عوام کو پینے کا پانی میسر نہیں بہت سے علاقوں میں گندا پانی فراہم کیا جارہا ہے ، شہریوں کو سیوریج ، سڑکوں کی خستہ حالی اور ٹرانسپورٹ کے سنگین مسائل کا سامنا ہے ، جماعت اسلامی کراچی کے شہریوں کے مسائل کے حل کے لیے عید الاضحی کے بعد ایک بہت بڑا مارچ منعقد کرے گی ۔انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی کے کارکنان اورذمہ داران کے الیکٹرک کے متاثرہ عوام کے ساتھ آئی بی سیز کے اندر جائیں گے اور مسئلہ حل کرائیں گے ۔انہوں نے کہا کہ ہم صرف احتجاج اور دھرنے ہی نہیں دیے بلکہ ہم نے نیپرا کے اجلاسوں میں بھی بطور فریق شریک ہوئے اور کراچی کے عوام کا مقدمہ لڑا ،  ہم عدالت کے اندر بھی گئے ،  بد قسمتی سے نیپرا کے حالیہ اجلاس میں پیپلز پارٹی کے لوگوں نے کے الیکڑک کے حق میں نعرے لگائے ،  ہم وزیر اعلیٰ سندھ سے مطالبہ کرتے ہیں کہ آپ باہر نکلیں اور کے الیکٹرک کے حوالے سے واضح اعلان کریں۔انہوں نے کہا کہ ہم میئر کراچی سے بھی سوال کرتے ہیں کہ جب نیپرا کے اجلاس میں ٹیرف میں اضافے کی کوشش کی جارہی تھی تو آپ اور آپ کی پارٹی کہاں تھی ؟ کراچی کے عوام کی جیبوں میں ڈاکے ڈالے جارہے ہیں اور پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم خاموش ہے، ہم کسی سیاسی عمل کی مخالفت نہیں کرتے لیکن سیاسی چھتری میں آکر ڈاکوں ، چوروں اور لٹیروں کو اور سرکاری اراضی اور زمینوں پر قبضے کرنے والوں کو دوبارہ تحفظ دینے کی کوشش کی گئی تو اسے کسی صورت قبول نہیں کیا جائے گا ۔ انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کی طرف سے اچھے فیصلے آتے ہیں اور المرکز الاسلامی کو کلمی طیبہ اور قرآنی آیات کو بحال کیا ۔ ہم کے الیکٹرک کے خلاف دس لاکھ افراد کی پٹیشن لے کر سپریم کورٹ میں جائیں گے اور امید ہے کہ کراچی کے عوام کو ان کاحق ملے گا۔

مزید : کراچی


loading...