سند یافتہ

سند یافتہ
 سند یافتہ

  

کسی بھی شخص کی زندگی میں سند، سرٹیفیکیٹ اور ڈگری کی ایک خاص اہمیت ہوتی ہے۔ اس اہمیت کا احساس اس آدمی کو بہت زیادہ ہوتا ہے، جس کے پاس ایسی کوئی چیز نہیں ہوتی۔عمر کی ایک ایسی حد میں جب پڑھناور پڑھانا کسی کے بس میں نہیں ہوتااور روپے پیسے کی ریل پیل کے باوجود کسی قسم کی سند، سرٹیفیکیٹ یا ڈگری ان کے پاس نہیں ہوتی اور اس کا حصول بھی ممکن نظر نہیں آتا، لوگ خود کو نمایاں کرنے اور معاشرے میں خود کوبا اثر دکھانے کے لئے نت نئے اور اچھوتے طریقے اپناتے ہیں۔مجھے یاد ہے آج سے کوئی دو دہائی پہلے مجھے اپنے ایک ساتھی استاد سے کچھ کاغذات درکار تھے۔ اس کی رہائش ملتان کے قریب ایک قصبے میں تھی۔ میں لاہور سے چلا اور اس قصبے میں پہنچ گیا۔ میرا وہ ساتھی عموماً بتایا کرتا تھا کہ قصبے میں ان کے والد جانے پہچانے شخص ہیں۔ کسی کوان کا نام لیں تو وہ گھر پہنچا دے گا۔ میں نے قصبے میں داخل ہوتے ہی ایک شخص سے ان کا پوچھا، جواب ملا، اچھا وکیل صاحب کے گھر جانا ہے۔ آپ کچہری چلے جائیں، چودھری صاحب ابھی وہیں ہوں گے۔کچہری سے پچھلی گلی میں ان کا گھر ہے، ان کا بیٹا گھر موجود ہوا تو کسی کے ساتھ آپ کو گھر بھیج دیں گے، چونکہ میرے ساتھی نے کبھی اپنے والد کے بارے ان کے وکیل ہونے کا تذکرہ نہیں کیا تھا، اس لئے میں نے اس شخص کو دوبارہ پوچھا کہ اس نام کا کوئی اور دوسرا معتبر شخص بھی اس قصبے میں موجود ہے۔ اس کی طرف سے انکار سن کر میں کچہری پہنچ گیا۔

چھوٹی سی کچہری تھی۔ چار پانچ کمرے جن میں اس علاقے کے اسسٹنٹ کمشنر، مجسٹریٹ اور ان کا عملہ بیٹھتا تھا۔ ان کمروں کے بالکل سامنے دو تین مختلف جگہوں پر کچھ وکلا، ٹائیپسٹ اوراسٹامپ فروش اپنی دکانیں سجائے بیٹھے تھے۔ چودھری صاحب کا پوچھنے پر ایک طرف اشارہ کیا گیا۔ ایک درخت کے نیچے ایک بڑی سی میزلگی تھی۔میز کے ایک طرف چودھری صاحب تشریف فرما تھے۔ دوسری طرف ایک لمبا سا بنچ سائلین کے لئے اور میز کے دونوں طرف بڑے بڑے بورڈ پڑے تھے۔ بورڈ پر دو نام تھے۔ ایک طرف کسی وکیل کا جس کے نام کے نیچے بی اے ایل ایل بی لکھا تھا اور دوسری طرف چودھری صاحب کا نام اور اس کے نیچے ’’سند یافتہ حضرت قائد اعظم‘‘ لکھا تھا اور یہ سندلکھا ہوا بی اے ایل ایل بی سے بہت نمایاں نظر آرہا تھا۔ ناموں کے نیچے اسٹام فروش، وثیقہ نویس اور بہت کچھ لکھا تھا۔

میں نے چودھری صاحب ’’سند یافتہ حضرت قائد اعظمؒ ‘‘سے اپنا تعارف کرایا۔بیٹے کے بارے پوچھا۔ بڑے تپاک سے ملے۔ فوراً ایک بندے کو بھیجا کہ اسے ڈھونڈ کر لاؤ۔ انتظار میں بیٹھے میں نے پوچھا، آپ وکیل ہیں۔ جواب ملا، ہاں بیٹا یہی کام کرتے مجھے یہاں ان عدالتوں میں پچاس سال ہو گئے ہیں۔ ’’گریجوئیشن کہاں سے کی‘‘۔ چودھری صاحب ہنسے ، بیٹا جب میں پڑھتا تھا تو یہاں لأپڑھنے لوگ انگلینڈ جاتے تھے۔ ہمارے گھروں کے لوگ کہاں پڑھتے تھے۔ میں میٹرک تک پڑھا ہوں اور میرا پچاس سالہ تجربہ ہے۔ میں ان عدالتوں میں پیش ہوتا ہوں۔ میں اس قصبے میں سب سے سینئر وکیل ہوں۔ جو کسی دوسرے کو سمجھ نہ آئے یا کوئی خاص قانونی مشکل ہو تو اس علاقے میں وہ کوئی وکیل ہوکہ عدالت، مجھ ہی سے مشورہ کرتے ہیں۔ یہ سند جو مجھے میرے قائد اعظمؒ نے دی ہوئی ہے، لوگوں کی ڈگریوں سے بہت بڑی ہے۔میں نے واہ واہ کرکے انہیں خوش کر دیا،لیکن میں سمجھ گیا چودھری صاحب عطائی وکیل ہیں۔ اس دوران میرا ساتھی آگیا۔ ہم وہاں سے گھر آ گئے۔ میں نے کاغذات وصول کئے اور واپس جاتے ہوئے اپنے ساتھی سے سوال کیا: ’’بھائی یہ قائد اعظم نے کونسا ادارہ بنایا ہوا تھا کہ آپ کے والد صاحب کو سند جاری کر دی‘‘۔ وہ ہنسنے لگا اور کہا:’’مسلم لیگ کو کسی زمانے میں فنڈز کی ضرورت تھی۔ اس وقت قائداعظم نے تمام مسلمانوں کو چندے کی اپیل کی ۔ میرے والد نے کچھ روپے اکٹھے کرکے مسلم لیگ کو بھیجے۔ چند دن بعد رسید اور قائد اعظم کے ہاتھ سے لکھا شکریے کا خط والد صاحب کو وصول ہوا۔ وہ خط خستہ حالی کے باوجود وہ سامنے ایک شیشے میں مقید دیوار پر موجود ہے۔ والد صاحب کوئی ڈگری نہیں لے سکے، اسی خط کو سند کہہ کر گزارا کر رہے ہیں‘‘۔ میں ان کے ڈرائنگ روم میں سجے خط کو دیکھنے لگا۔

90 کی دہائی میں ایک صاحب جن کی تعلیم واجبی تھی، مگر دولت بہت تھی، مشہور ہونے کے بہت شوقین تھے۔ انہوں نے لاہور کے ایک حلقے سے قومی اسمبلی کا الیکشن لڑا، غالباً حلقہ 95 تھا۔ اس حلقے سے نواز شریف الیکشن لڑ رہے تھے اوراس وقت ان کی سیاست پورے جوبن پر تھی۔ کسی دوسرے کی جیت کا دور دور تک کوئی امکان نہیں تھا۔ اپنی ہار کایقین ہونے کے باوجودوہ صاحب اس حلقے میں بہت زیادہ بینر اور پوسٹر لگاتے رہے۔ الیکشن کے دن وہ دس بارہ بندوں کے ساتھ ہر پولنگ سٹیشن پر پہنچتے۔ تھوڑی دیر رکتے، نعرے بازی کرتے، باہر کھڑے لوگوں سے اپنا تعارف کراتے اور آگے بڑھ جاتے۔ وہ الیکشن میں کم اور اپنی نمود میں زیادہ دلچسپی لے رہے تھے۔

نتیجہ ظاہر تھا،ان کے ووٹوں کی تعداد چند سو سے زیادہ نہیں تھی۔ پولنگ سے چند دن بعد مجھے ملے تو میں نے پوچھا کہ اس الیکشن لڑنے نے آپ کو کیا فائدہ دیا ہے؟ کہنے لگے، پروفیسر تم سوچ بھی نہیں سکتے، میں کتنا بڑا آدمی ہو گیا ہوں۔ میں نواز شریف سے ہارا ہوں جو آج وزیر اعظم ہے۔ میرا سٹیٹس کتنا بلند ہے تم سوچ بھی نہیں سکتے۔ پھر انہوں نے جیب سے ایک کارڈ نکال کرمجھے دیا۔ اوپر ان کا نام تھا اور نیچے سند درج تھی:’’سابق امیدوار قومی اسمبلی حلقہ 95 (نواز شریف فیم)‘‘۔۔۔پاکستان میں قومی اسمبلی کی 272 اور صوبائی اسمبلی کی 577 نشستیں ملاکر کل نشستوں کی تعداد 849 ہے۔ 2013ء میں 15627 اور2018 ء میں 11855امیدواروں نے اس الیکشن میں حصہ لیا۔ اس الیکشن نے عوام کو کچھ دیا ہو یا نہ دیا ہو، مگر بہت سے لوگوں کو ’’بڑا آدمی‘‘ ضرور بنا دیا ہے۔ 849 منتخب نمائندوں کو چھوڑ کر 2013ء کے ہارے ہوئے 14778 اور 2015ء کے ہارے ہوئے11006 لوگ اب الیکشن کمیشن سے سند یافتہ ’’سابق امیدوار اسمبلی‘‘ ہیں۔ یہ سند، ایک بڑی گاڑی اور چند مسلح گارڈ کے ساتھ چلنا پھرنا، اس اخلاقی طور پر پسماندہ معاشرے میں ان ہارے ہوئے لوگوں کو ایک بلند سٹیٹس عطا کرتا ہے اور ان میں سے بہت سے لوگ ہار سے بے نیاز اپنی ایک نئی سند لئے اپنے اپنے علاقوں میں دندناتے پھرتے ہیں۔

مزید : رائے /کالم