الیکشن کمشن کا بھی احتساب کیجئے کیونکہ ۔۔۔

الیکشن کمشن کا بھی احتساب کیجئے کیونکہ ۔۔۔
الیکشن کمشن کا بھی احتساب کیجئے کیونکہ ۔۔۔

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

پاکستان میں انتخابات دو ہفتے پہلے عمل میں آئے تھے۔ غیر حتمی نتایج کے مُطابق تحریک انصاف مرکز میں اکثریتی جماعت قرار پائی تھی۔ الیکشن کمشن نے بھی لگ بھگ ایسے ہی نتایج کی خبر دی تھی لیکن عجیب اتفاق ہے کہ دو ہفتے گُزر جانے کے بعد الیکش کمشن کامیاب امیدواروں کے نو ٹیفیکشن جاری کرنے میں کامیاب ہوا ہے ۔ ہر انتخابی حلقے کے نتایج کو متنازعہ بنانے کی رسم چل پڑی ہے۔لگتا ہے کہ الیکشن کمشن کی انتظامیہ اپوزیشن کے اعتراضات کا کوئی بھی واضع جواب دینے کی پوزیشن میں نہیں ہے۔ اَب الیکشن کمشن اپنی کارکردگی کوبہتر ثابت کرنے کے لئے ہر سیٹ کے نتایج کو کسی نہ کسی شرط سے مشروط کر رہا ہے۔اپوزیشن نے عمران خان کی کامیابی کو قبول کرنے کی بجائے ہر طرح سے مخالفت کرنے کی ٹھان رکھی ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ عمران خان نے الیکشن میں جیت حاصل کرکے کوئی گُناہ کبیرہ کر لیا ہو۔اگر ماضی کے بڑے بڑے جغادری انتخابات میں جیت نہیں سکے تو اُن کو اپنے کردار، منشور اور طرز سیاست پر نظرِ ثانی ڈالنی چاہیے۔انہیں اپنے آپ کو عوام کی خواہشات کے مُطابق ڈھالنے کی ضرورت ہے۔ عمران خان نے تبدیلی کا نعرہ لگا یا اور اِس نعرے کو عملی طور پر کامیاب بنانے کے لئے ہر قسم کی صعوبت اور ہزیمت برداشت کی لیکن انہوں نے تمام تر مخالفت کے باوجود اپنی کوشش کو ترک نہیں کیا۔ عزم اور نیک نیتی کی بنیاد پر لوگوں نے اُن کے موقف کی عملی طور پر تائید کی اور اُنہیں ووٹ دے کر مرکز میں کامیاب بنایا۔ یہ کا میابی اس لئے اہم ہے کہ انہوں نے مُسلم لیگ ن کے دور حکومت میں اپنے موقف کو عوام میں مقبول بنایا۔ عوام نے اُنکی کوششوں کو سراہا۔ علاوہ ازیں، مُلک کی اعلیٰ عدالتوں نے اُنکے موقف کی تائید کی۔ کرپشن کے الزامات کو عدالتوں میں ثابت کرکے عمران خان نے عوام کے دل جیت لئے۔ اُن کو اندازہ ہو گیا کہ مُسلم لیگ ن کے رہنماء اپنے اپنے مُفادات کی جنگ لڑ رہے ہیں انہیں مُلک اور قوم سے کوئی ہمدردری نہیں ہے۔

عمران خان کی کامیابی کی ایک واضع وجہ یہ ہے کہ انہوں نے نہائت سادہ لفظوں میں بد عنوانی اور منی لانڈرنگ کی اصطلاحیں عوام تک پہنچائیں۔ جس سے عوام کو مُلک کے حُکمرانوں کی کار کردگی کے بارے میں دُرست اندازہ ہوا۔ اُن کے علم میں یہ بات بھی آئی کہ نواز شریف کے پاس اپنی بریت میں پیش کرنے لئے کُچھ بھی نہیں۔ وُہ اپنی تقریروں میں لفاظی کرکے عوام کو گمُراہ کرنے کے چکر میں ہیں۔اگر اُن کے پاس منی ٹریل موجود ہے تو وہُ عدالتوں میں اب تک کیوں پیش نہیں کر سکے؟صاف اور سیدھی بات یہ ہے کہ اُن کے پاس منی ٹریل کے اثبات سرے سے ہی موجود نہیں۔

عدالتِ عالیہ کے فیصلوں کو جھٹلانے اور اُنہیں متنازعہ بنانے کے لئے ووٹ کو عزت دو جیسے بیانیے جاری کئے گئے۔ بظاہر یہ بیانیہ بے ضرر لگتا ہے لیکن اسکی باطنی مطالب کو سمجھا جائے توہ معانی مختلف ہیں۔اُن کے مُطابق عدلیہ کے ججز کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ عوام کے چُنے ہوئے وزیر اعظم کو بر خاست سکیں۔ عوام نے چُنا ہے لہذا عوام ہی اُسکو بر خاست کر سکتے ہیں۔باالفاظ دیگر، مُلک میں قانون اور عدلیہ کی کوئی ضرورت نہیں۔ عوام کو عدلیہ سے لڑانے کی یہ بھونڈی کوشش تھی ۔ مہذب اور متعلم معاشروں میں عدلیہ اور قانون کو سب سے زیادہ عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ قانون کی نظر میں وزیر اعظم اور عام شہری برابر ہوتے ہیں۔آئین اور قانون کی وضاحت کرنے اور عام شہری کے حقوق کو تحفظ دینے کے لئے عدالتیں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ عدلیہ جمہوریت کی عمارت کا اہم ستون ہے۔جس سے انکار ممکن نہیں۔ نواز شریف کیخلاف فیصلے کو جانبداری پر محمول کرنا ایک احمقانہ سوچ ہے۔ ایسے لوگ جو حقائق کو مسخ کرنے اور عوام کو گُمراہ کرنے میں مُصروف ہیں،عدالتوں کواُنکے خلاف بھی بلا کسی امتیاز کے کاروائی کرنی چاہئے۔ تاکہ اعلٰی عدلیہ کا احترام عوام کے دلوں میں بر قرار رکھا جا سکے۔ اصل حقیقت یہ ہے کہ نواز شریف کا پیش کردہ بیانیہ جو کہ فوج اور عدلیہ کے خلاف تھا عوام میں پٹ گیا ہے۔ مُسلم لیگ کے حالیہ صدرر اور سربراہ بذات خُود اس بیانیے سے مطمئن نہیں ہیں۔کیونکہ وُہ جانتے ہیں کہ مُسلم لیگ ن کو عدلیہ، فوج اور اداروں سے ٹکراؤ کے لئے تیار کیا جا رہا ہے۔پرویز رشید جیسے نام نہاد دانشور نواز شریف کو ایسے بیانئے تیار کرکے دیتے ہیں تاکہ عوام اور معاشرے میں ایک ابہام اور اُلجھاؤ پیدا کیا جا سکے۔یہ سیاست نہیں بلکہ مُنافقت ہے۔

عوام نے عمران خان کو ووٹ دے کر نواز شریف کے بیانئے کو مسترد کر دیا ہے۔عوام نے مُسلم لیگ ن کو حُکمرانی کا حق نہیں دیا۔ مُسلم لیگ ن کی قیادت کو عوام کے مینڈیٹ کی عزت کرنی چاہیئے اور انتخابات کے نتائج کو تسلیم کر کے حکومت سازی میں مدد کرنی چاہئے۔ ہر انتخابی حلقے کو عمران خان کی مخالفت میں متنازعہ بنانے کی کوشش ایک بچگانہ حرکت ہے۔ اس سے عوام میں پٹے ہوئے سیاستدانوں کا امیج مزید بگڑے گا۔

اب تک کی اطلاعات کے مُطابق اڑتیس انتخابی حلقوں کے نتایج کو عدالتوں میں چلینج کر دیا گیا ہے۔ جس کا منطقی نتیجہ یہ ہے کہ الیکشن کمشن حتمی نوٹیفیکشن جاری نہیں کر سکتا۔ اپو زیشن کو اچھی طرح معلوم ہے کہ وُہ عمران خان کے مُقابلے میں جیت نہیں سکتی اور نہ ہی عمران خان کے پاس واضع اکثریت موجود ہے۔ اپوزیش نے مختلف حلقوں کے نتایج کو مُتناز عہ بنا کر حلف برداری کی تقریب کو غیر یقینی بنا دیا ہے۔ علاوہ ازیں، یہ تا ثر پھیلانے میں مُصروف ہے کہ عمران خان عدالتوں کی جانب سے نا اہل ہو جائیں گے۔ یہ سازش عمران خان کی سیاسی شخصیت کو داغدار بنانے کے لئے ہے۔اپوزیشن ایوان میں پُوری شد و مد سے حُکمران جماعت کی مخالفت کر سکتی ہے۔جمہوری انداز میں ہر قسم کا احتجاج کر سکتی ہے۔ یہ اُن کا جمہوری حق ہے۔لیکن انتخابات کو متنازعہ بنانے کی غیر سنجیدہ اور غیر منطقی سعی سنجیدہ اور حساس طبقے کے لئے سو ہانِ روح ہے۔ الیکشن کمشن کی کار کردگی نے غیر مہ داری کا مظاہرہ کرکے اپنی کارکردگی کو گہنا لیا ہے۔ سسٹم کی ناکامی اگر تسلیم بھی کر لی جائے تو الیکشن کمشن کو اس سسٹم کو ا نتخابات سے پہلے ٹیسٹ کر لینا چاہیے تھا۔ نادرا یا کسی اور کو دشنام دینے کی بجائے الیکشن کمشن کو اپنی کوتاہی کا اعتراف کھُلے بندوں کر لینا چاہئے۔ اور معمول کے نتایج کے بارے میں حد سے زیادہ احتیاط شو کرکے حکومت سازی میں روکاٹ نہیں ڈالنی چاہئے۔ایسا کرنے سے اُنکی عوام میں مزید سُبکی ہو گی۔اب تو عدالت عالیہ کے چیف جسٹس نے بھی الیکشن کمشن کی کارکردگی کو غیر معیاری قرار دے دیا ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ الیکشن کمشن عوام کی توقعات پر پُورا نہیں اُتر سکا۔ انصاف کا تقاضا ہے کہ الیکشن کمشن کا بھی دوسرے اداروں کی طرح بے رحم احتساب ہو نا چاہیے تاکہ عوام کے جذبات کی تسکین ہو سکے۔

۔

نوٹ:  روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔ 

مزید : بلاگ