کشمیر کی تقسیم اور لداخ کے انضمام پر چین کا حقیقت پسندانہ موقف

کشمیر کی تقسیم اور لداخ کے انضمام پر چین کا حقیقت پسندانہ موقف

چین نے کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے اور لداخ کو بھارت میں ضم کرنے کے اقدام کو مسترد کرتے ہوئے زور دیا ہے کہ بھارت سرحدی تنازعات کے معاملات پر محتاط رہے،بھارتی اقدام ناقابل ِ قبول ہے اور اس کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہو گی، چینی وزارتِ خارجہ نے بھارت پر زور دیا ہے کہ وہ دوطرفہ معاہدوں کی سختی سے پاسداری کرے اور ایسے اقدامات سے گریز کرے جو سرحدی کشیدگی کو مزید پیچیدگی سے دوچار کر سکتے ہوں۔چینی وزارتِ خارجہ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ بیجنگ نے ہمیشہ چین بھارت سرحد کے مغربی سیکٹر میں واقع چینی علاقے لداخ کو بھارت میں ضم کرنے کی مخالفت کی ہے، بھارت نے یک طرفہ تبدیلی کرکے چین کی علاقائی خود مختاری کو نقصان پہنچایا، بھارت کا یہ اقدام ناقابل ِ قبول ہے جو نافذ العمل نہیں ہو گا۔کشمیر کے بارے میں چین کا کہنا ہے کہ مقبوضہ کشمیر عالمی سطح پر تسلیم شدہ متنازعہ علاقے ہے،تنازع کے فریقین کو ایسے کسی بھی یک طرفہ اقدام سے گریز کرنا چاہئے،جس کے نتیجہ میں مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت تبدیل ہو،کیونکہ اس سے سٹیٹس کو میں تبدیلی آئے گی اور کشیدگی میں اضافہ بھی ہو سکتا ہے،چین کو مقبوضہ کشمیر کی صورتِ حال پر گہری تشویش ہے، جموں و کشمیر پر چین کا موقف بڑا واضح اور دیرینہ ہے، بین الاقوامی طور پر اس بات پر اتفاق رائے پایا جاتا ہے کہ مسئلہ کشمیر پاکستان اور بھارت کے درمیان تصفیہ طلب مسئلہ ہے پاکستان اور بھارت کو کنٹرول لائن پر ضبط و تحمل اور دانشمندی کا مظاہرہ کرنا چاہئے،دونوں ممالک کے تعلقات میں خرابی پورے خطے کو لپیٹ میں لے سکتی ہے۔

بھارتی حکومت کے اقدام پر بھارت میں اندرونِ ملک بھی زبردست تنقید ہو رہی ہے اور کانگرس کے رہنما راہول گاندھی نے کہا ہے کہ قومی سلامتی کے نام پر مودی سرکار نے کشمیر کے ٹکڑے کر دیئے، اس وقت کشمیر کی پوری قیادت جیلوں میں بند ہے،منتخب قیادت کو بھی جیل میں ڈال کر پوری وادی میں کرفیو لگا دیا گیا ہے، ہر جانب ہو کا عالم ہے، ٹیلی فون سروس اور انٹرنیٹ بند ہیں، کشمیری قائدین بدترین حالات میں قید رکھے گئے ہیں اور یٰسین ملک کی حالت تو بہت ہی تشویشناک ہے۔ان حالات میں چین کی وزارت خارجہ نے زبردست ردعمل کا اظہار کیا ہے اور بھارت کے اقدام کو نہ صرف چین کی خود مختاری کے لئے خطرہ قرار دیا ہے،بلکہ خبردار کیا ہے کہ اس کی وجہ سے پورا خطہ کشیدگی کی لپیٹ میں آ سکتا ہے۔اگرچہ چین نے پاکستان اور بھارت کو ضبط و تحمل کا مشورہ دیا ہے،لیکن حالات جو رُخ اختیار کر رہے ہیں اُن میں کچھ بھی ہو سکتا ہے، چین نے یہ بھی واضح کر دیا ہے کہ کشمیر دُنیا بھر میں مسلمہ متنازعہ علاقہ ہے اور بھارتی اقدام کے باوجود کشمیر کی اس حیثیت میں کوئی فرق نہیں آئے گا اور یہ بدستور متنازعہ علاقہ ہی شمار ہوتا رہے گا،جس کا حل بھی وہی دیرینہ ہے کہ کشمیریوں کی رائے کے مطابق تنازع طے کیا جائے، حکومت نے اگر اپنی مرضی کا حل ٹھونسنے کی کوشش کی تو اس کے نتائج خطرناک ہوں گے۔

لداخ کو چین اپنا علاقہ تصور کرتا ہے اور اس کے خیال میں بھارت کی اس علاقے میں مسلسل مداخلت تعلقات خراب کرنے کی کوشش ہے،چین نے واضح کر دیا ہے کہ وہ اپنی علاقائی سالمیت پر کوئی حرف نہیں آنے دے گا، چین کی پالیسی اب تک یہی رہی ہے کہ اس نے ہر قسم کے تنازعات اور کشیدگیوں کو نظر انداز کر کے اپنی ساری توجہ اقتصادی ترقی پر مرکوز رکھی ہے اور اسی کا نتیجہ ہے کہ وہ اپنی70کروڑ آبادی کو خط ِ غربت سے اوپر لانے میں کامیاب ہوا ہے،دُنیا اس ماڈل کی تقلید کرکے بھی اپنے ہاں سے غربت کے خاتمے کی خواہاں ہے۔اگر چین علاقائی یا سرحدی تنازعات میں اُلجھ کر رہ جائے تو اقتصادی ترقی متاثر ہو گی تاہم اس اقتصادی ترقی کی رفتار برقرار رکھنے اور اس کے خوشگوار نتائج کو محفوظ رکھنے کے لئے فوجی قوت کا حصول بھی ناگزیر ہے اور چین اس سے بھی غافل نہیں،اسی لئے اس نے لداخ کے معاملے پر بھارت کو بڑا صائب مشورہ دیا ہے کہ وہ سرحدی تنازعات کے بارے میں محتاط طرزِ عمل اپنائے، اور خواہ مخواہ کشیدگی کی فضا پیدا نہ کرے۔

یہ بہترین موقع ہے کہ پاکستان اس سارے معاملے کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں لے جائے،جس کی قراردادں میں کشمیر میں استصواب رائے کا مطالبہ کیا گیا ہے، لیکن بھارت نے آج تک اِن قراردادوں پر عمل نہیں کیا اور اب جو تازہ اقدام اٹھایا گیا ہے اس کا مقصد تو بظاہر یہ نظر آتا ہے کہ اس طرح کچھ عرصے میں کشمیر کی تحریک آزادی دم توڑجائے گی،لیکن جو تحریک گزشتہ بیس سال میں ہر گزرتے دن توانا ہی ہوئی ہے اس کے متعلق اس طرح کی خوش فہمیوں میں مبتلا ہونے کا جواز نہیں۔اگر یہ معاملہ سلامتی کونسل میں پیش کر کے بدلے ہوئے حالات میں مسئلہ حل کرنے کی کوشش کی جاتی اور کشمیریوں کو اُن کے مستقبل کے بارے میں مطمئن کیا جاتا ہے تو کشمیر میں جس خون خرابے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے، اس کے رک جانے کا امکان ہے، بصورتِ دیگر خراب حالات میں کچھ بھی ہو سکتا ہے،محض آئین کی ایک دفعہ خلافِ آئین طریقے سے آئین سے خارج کر دینے کے بعد یہ سمجھ لینا کہ اس طرح کشمیریوں کا جذبہ آزادی سرد پڑ جائے گا، خام خیالی کے سوا کچھ نہیں۔

وزیراعظم کو یہ معاملہ خود امریکی صدر ٹرمپ کے ساتھ اٹھانا چاہئے جنہوں نے اُن کے دورہئ امریکہ کے موقع پر کشمیر پر ثالثی کی بات کی تھی اور ساتھ یہ بھی کہا تھا کہ وزیراعظم مودی نے خود اُن سے ثالثی کے لئے کہا تھا،لیکن ابھی اس گفتگو کا ارتعاش فضاؤں میں ہی موجود تھا کہ مودی نے ایک غیر متوقع اقدام کر ڈالا،جس پر چین کا ردعمل توقع کے عین مطابق اور حالات کی درست عکاسی ہے،پاکستان کو دُنیا بھر میں چین سمیت دوست ممالک کے ساتھ سفارت کاری کے ذریعے رابطے کر کے اس معاملے کو آگے بڑھانے کی ضرورت ہے۔

مزید : رائے /اداریہ