بارش کے پانی کو محفوظ کرنے کی ضرورت

بارش کے پانی کو محفوظ کرنے کی ضرورت

واٹرکمشن کے چیئرمین جسٹس علی باقر نجفی نے زیرزمین پانی بچانے کی ضرورت پر زور دیا ایک تقریب میں انہوں نے کہا گھروں میں پورا نل نہ کھول کر بھی بچت کی جا سکتی ہے اور مساجد میں وضو والے پانی کو پھر سے استعمال میں لا کربھی بہتر کیاجا سکتا ہے۔ واٹرکمشن کے چیئرمین نے درست بات کہی، اس پر عرصہ سے بات ہوتی چلی آرہی ہے۔ حتیٰ کہ عدالت عظمیٰ میں از خود نوٹس کے تحت پانی کے ضیاع کے حوالے سے طویل سماعت ہوئی اور کئی احکام بھی دیئے گئے انہی میں کار واشنگ والوں کو ٹریٹمنٹ پلانٹ لگانے اور مساجد میں وضو والے پانی کو پارکوں میں استعمال کرنے کی بھی ہدائت کی اور ساتھ ہی ڈیم تعمیر کرنے کے لئے بھی فیصلے دیئے گئے۔اس موسم برسات میں بارشیں کچھ اس انداز سے ہوئی ہیں کہ دریاؤں میں سیلابی کیفیت پیدا ہوئی اور اندازہ لگایا گیا ہے کہ یہ سیلابی پانی بالآخر سمندر میں گر کر ضائع ہو جائے گا جبکہ ملک میں زراعت کے لئے بھی پانی کی کمی کا ذکرکیا جاتا ہے۔ ایسا ہر سال ہوتا ہے کہ موسم برسات میں قدرت کی طرف سے بارش کی صورت میں دیا جانے والا پانی بھی محفوظ نہیں کیا جا سکتا،ہم نے منگلا اور تربیلاکے سوا اور کوئی ڈیم نہیں بنائے۔ منصوبے بہت بنے اور بعض کی تعمیر بھی شروع ہوئی تاہم ابھی تک مقاصدحاصل نہیں ہو سکے، حتیٰ کہ منظور شدہ دیامر بھاشا ڈیم اور داسو ڈیم کا کام بھی اس رفتار سے ہو رہا ہے کہ ان کی تکمیل میں پانچ سے آٹھ سال لگیں گے یوں تب تک قدرتی پانی سمندر ہی میں گرتا رہے گا اور سیلاب کی صورت میں نقصان کا باعث بنے گا۔آج کی سیلابی صورت حال کی روشنی میں بعض دردمندوں نے کالاباغ ڈیم کی طرف توجہ دلائی اس کو سیاسی بنیادوں پر اتنا متنازعہ بنا دیا گیا کہ بعض لوگ نام سن کر بھڑک اٹھتے ہیں۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ اس کی فزیبلٹی بن کر مشینری پہنچی اور کام بھی شروع ہو گیا تھا لیکن متنازعہ بنانے کے باعث یہ بھی رک گیا ورنہ اب تک یہ ڈیم تیار ہو کر بجلی کی پیداوار کے علاوہ زرعی اراضی کے لئے بھی پانی مہیا کر رہا ہوتا اور سیلابوں سے بھی تحفظ ملتا، دیامربھاشا اور داسو کے علاوہ دوسرے زیر تعمیر منصوبوں کی جلد تکمیل ہونا چاہیے تو کالاباغ ڈیم پر بھی اعتراضات ختم کرکے کام شروع کیاجائے یہ ڈیم باقی سب سے کم مدت میں تعمیر ہو جائے گا۔ قومی مفاد میں ضد ترک کردیں۔ بحریہ ٹاؤن کراچی میں بارشی پانی کو محفوظ کیا گیا ہے، ایسا اہتمام ہر جگہ ہوسکتا ہے کیا اس طرف توجہ دی جائے گی۔

مزید : رائے /اداریہ