انسانیت کا جغرافیہ

انسانیت کا جغرافیہ
انسانیت کا جغرافیہ

  


”ہر نئے بچہ کی پیدائش“ ایک دانشور صوفی کا قول ہے۔”اِس امر کا ثبوت ٹھہرا کہ قدرت ابھی انسانیت سے مایوس نہیں ہوئی۔ قدرت کی مایوسی کا مطلب محض علامتی ہے،نہیں تو یہ ترکیب بے معنی ولا یعنی!بلکہ قدرت سے امیدوّں کا ٹوٹ جانا،کفر کی سرحد سے ملتا جلتا ایک روّیہ و عمل ہے!قادرِ مطلق نے جب حضرت آدم علیہ السلام کی تخلیق کا اعلان فرمایا تو ملائکہ نے عرض کیا تھا کہ یہ زمین پر فتنہ و فساد پھیلائے اور قتل وغارت گری و خونریزی کرے گا۔ فرمایا: جو مَیں جانتا ہوں، تم نہیں جانتے۔اس پر فرشتوں نے سر جھکا دیا اور رجوع کر لیا۔ تاریخ انسانیت کے آغاز سے اب تک چشم فلک اولادِ آدم کی نفسا نفسی اور ایثار و قربانی کے مظاہر دیکھتے چلی آئی ہے۔ مثبت و منفی مناظر!معرکہ ئ کربلا میں ہم نے شمر ذوالجوشن کو دیکھا اور جناب حرؒ کو بھی۔ایک مادّیت کا پتلا، ایک حق پرستی کا شعلہ! باطل پرست نے ذاتی و شخصی نفع و نقصان کے لئے بے گناہوں کی جان لی، حق پرست نے مگر شمع انسانیت جلانے کو معصوموں کے ساتھ اپنی جان دے دی! یہ بھی انسان، اور کہنے کو وہ بھی انسان! پیکر ِ صداقت اور مرقعِ کذب!!

آبی اور جنگی حیات کی کشا کش اور کشمکش دیکھنا، ”جغرافک“ چینل نے بہت آسان بنا دیا ہوا ہے۔ ہم نے بارہا دیکھا کہ درندے معصوم جانوروں پر کس طرح جھپٹتے،ان کا لہو پیتے اور گوشت کھاتے ہیں۔ایک نوع دوسری پر بے دردی سے اپنا ہاتھ منہ صاف کرتی اور بہادی کا ”تمغہ“ پاتی ہے۔جنگلی حیات کا سب سے زیادہ خونخوار درندہ،لیکن ”شیر“ کہلاتا ہے۔اور آبی حیات کا مگر مچھ!انہوں نے کہیں نہ کہیں اور کسی نہ کسی طرح گھات لگا رکھی ہوتی ہے۔شیر طاقت کا مظہر ہے، اور مگر مچھ مکاری کا! یہ سارے گُر، حضرتِ انسان میں پائے جاتے ہیں۔انسانی معاشرے میں بھی خالص وہی کچھ دیکھنے کو ملتا ہے، خونخواری و خونریزی کا ہوبہو منظر! افراتفری اور درندگی!ہم نے یہ بھی سُنا ہے کہ درندوں اور سادہ فطرت جانوروں میں کبھی کبھار دوستی بھی قائم ہو جایا کرتی ہے۔ بعض اوقات درندے، درندگی سے رُک جاتے اور سانپ بچھو، کاٹنا یا ڈنک مارنا چھوڑ دیتے ہیں،ان کے برعکس مگر ”انسان“ اپنی صفت کم ہی چھوڑتے ہیں۔ انسان نما درندوں کی ”انسانیت“ زندہ باد!

انسانوں اور درندوں کا یہ تجزیہ و محاکمہ مجھے ایک خبر پڑھ کر سوجھا:”ہریانہ میں گلی کے آوارہ کتوں نے نالے کے گندے پانی میں پلاسٹک کی تھیلی میں بہتی نوزائیدہ بچی کو نکال لیا اور زور زور سے بھونکتے ہوئے علاقہ مکینوں کو متوجہ کیا۔لوگوں نے بچی کو فوری طور پر ہسپتال منتقل کیا، جہاں اس کی جان بچا لی گئی، سی سی ٹی وی فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے کہ صبح چار بجے ایک خاتون پلاسٹک کی تھیلی میں کوئی چیز لاتی ہے اور اسے مکانوں سے منسلک نالے میں پھینک کر چلی جاتی ہے۔تھوڑی دیر بعد کتوں کا ایک گروہ آتا ہے جو نالے سے تھیلی کو نکال کر بچی کو بچا لیتا ہے، کتوں نے لوگوں کو متوجہ کرنے کے لئے زور زور سے بھونکنا شروع کر دیا، جس سے محلہ کے مکین باہر نکل آئے اور نومولود کو دیکھ کر پولیس کو فون کیا،بچی کو ہسپتال لے جایا گیا۔کتوں کے بھونکنے کا مطلب گویا یہ تھا کہ آؤ، اور اپنی نشانی کو بچائے جاؤ! ہم کتے ہیں اور کتیائی نہیں کی،آپ تو انسان ہیں، ذرا انسانیت دکھاؤ!

اِس خبر میں وہ کیا کچھ ہے،

جو بیان نہیں ہوا، جس کا انسانوں نے گلا گھونٹ دیا، اسے کتوں نے بچا لیا۔انسان پھر انسان ہے اور کتا، کتا!کتے کی موت مرنا، ایک محاورہ ہوا کرتا تھا۔اس کی جگہ اب کُتے کہتے جاتے ہیں کہ اس بستی سے نکل دوڑو،نہیں تو آدمیوں کی موت مارے جاؤ گے!جس کسی نے یہ کہا تھا، بالکل سچ کہا تھا کہ انسان، بس انسان ہوتا ہے، فرشتہ یا شیطان نہیں۔ ایک مثبت قدم آگے بڑھانے یا پیچھے ہٹانے سے فرشتہ اور اسی طرح ایک منفی قدم آگے بڑھانے یا پیچھے ہٹانے سے شیطان! مَیں جھک جھک کے ڈھونڈتا ہوں کہ وہ اشرف المخلوقات کہاں گیا! انسانی حیات بالکل جنگلی و آبی حیات کی مانند ہو چکی ہوئی ہے۔کہیں طاقت کا مظاہرہ ہے اور کہیں عیاری کا! وہ کون سا سُندر دھوکا ہے،جو دیا نہیں جاتا اور ایک بندہ، دوسرے بندے کو نوچ نہیں کھا رہا۔ ہاں! مگر ایک فرق دیکھا گیا ہے کہ جنگل یا پانی میں کوئی اپنی نسل کو نہیں کھاتا۔شیر شیر، کتا کتے، مگر مچھ مگر مچھ اور بھیڑ یا بھیڑیے کو نہیں چباتا۔ یہ شرف ”انسان“ کو لیکن حاصل ہے۔ اپنی ہی نسل کے کمزور اور لاچار و ناچار لوگوں کو نچوڑتا اور چچوڑتا جاتا ہے۔سوال یہ ہے کہ انسانی شکل و صورت کے سوا، اِلا ماشاء اللہ، کسی کے پاس انسانیت کی سند کیا باقی رہ گئی ہے؟ کیا ہم واقعی ظہورِ قیامت کے کسی قریب ترین لمحے میں سانس لے رہے ہیں؟؟

مزید : رائے /کالم


loading...