نیوکلیئربلیک میل کی حقیقت کیا ہے؟

نیوکلیئربلیک میل کی حقیقت کیا ہے؟
نیوکلیئربلیک میل کی حقیقت کیا ہے؟

  


کل بدھ (7اگست) کے روز میرا جو کالم شائع ہوا اس کا عنوان تھا: ”کیا کسی نئی پاک بھارت جنگ کے آثار ہیں؟“…… میرا تجزیہ تھا کہ جنگ نہیں ہو گی اور اس کی وجوہات بھی بیان کر دی گئی تھیں۔ مثلاً …… (1) اگر کوئی جنگ ہونی ہوتی تو 26فروری کو ہو جاتی ……(2) دنیا کی کسی بھی بڑی طاقت نے انڈیا کی مذمت نہیں کی اور کم از کم چین کو تو ایسا کرنا چاہیے تھا……(3) پاکستان نے صرف ترکی اور ملائیشیا کے رہنماؤں کو انڈیا کے سفاکانہ اقدامات سے آگاہ کیا ہے لیکن یہ دونوں اقوام انڈیا پر کوئی زیادہ یا کم اثر و رسوخ استعمال نہیں کر سکتیں …… (4) پاکستان کی موجودہ معاشی صورت حال، کسی بھی حجم کی جنگ / لڑائی کی متحمل نہیں ہو سکتی…… (5) فارن میڈیا اب تک انڈیا کے ان اقدامات پر خاموش ہے ……(6) اور دونوں ممالک کی افواج کی صف بندی پہلے کی طرح جوں کی توں ہے اورکسی طرح کے مسلح تصادم کے کوئی آثار نہیں ہیں، وغیرہ وغیرہ……

میرے نقطہ ء نظر سے یہ چھ کی چھ وجوہات بہت صائب تھیں۔ لیکن یہ کالم میں نے بدھ کی صبح قلمبند کیا تھا اور اس وقت تک چین کی طرف سے وہ مذمتی بیان نہیں آیا تھا جو بعد میں آیا اور نہ ہی وزیراعظم کا قومی اسمبلی کے مشترکہ اجلاس میں وہ استدلال سامنے آیا تھا جس میں انہوں نے میرے تجزیئے کے بالکل برعکس یہ موقف اختیار کیا کہ جنگ ہو سکتی ہے اور ساری دنیا اس کی لپیٹ میں آ سکتی ہے…… عمران خان کا یہ خطاب بہت غیر مبہم، دوٹوک اور ساری دنیا کی چھوٹی بڑی طاقتوں کے ضمیر کو جھنجھلا کر بیدار کرنے والا تھا…… اور سچ پوچھئے کہ مجھے اس بات کی توقع نہ تھی کہ وہ اس حد تک چلے جائیں گے کہ اس کا صاف صاف مطلب تو تیسری عالمی جنگ تھا اور اس کے بعد دمادم مست قلندر کا محاورہ حقیقت بن جائے گا۔

میرا کالم چونکہ چین کے مذمتی بیان اور وزیراعظم کے خطاب سے قبل تحریر کیا گیا تھا اس لئے میرے تجزیئے میں 180 ڈگری کا یہ اختلاف پرنٹ میڈیا کی محدودیت / مجبوری کے سبب تھا۔ الیکٹرانک میڈیا، رئیل ٹائم خبریں دیتا ہے جبکہ پرنٹ میڈیا کی خبریں کم از کم 12اور زیادہ سے زیادہ 24گھنٹے ”باسی“ ہوتی ہیں ……کل (بدھ) کے ہمارے اسی اخبار کی شہ سرخی تھی: ”کشمیرپر جنگ ہو سکتی ہے، پوری دنیا متاثر ہو گی۔(وزیراعظم عمران خان)“…… اسی شہ سرخی کے دو حصے اور بھی تھے۔ ایک حصے میں کور کمانڈرز کانفرنس کا موقف بیان کیا گیا تھا اور دوسرے میں اپوزیشن لیڈروں (شہباز شریف اور بلاول بھٹو) کا نقطہء نظر دیا گیا تھا۔ گویا ایک ہی وار میں تینوں کا ”صفایا“ کر دیا گیا تھا۔ جس کسی نے بھی یہ شہ سرخی ترتیب دی یا ”نکالی“ ہے اس کی صحافیانہ زیرکی کو سات سلام!…… اس شہ سرخی میں عمران خان کے خطاب کے دو مختصر ترین حصے تھے…… ایک ”کشمیر پر جنگ ہو سکتی ہے“ اور دوسرے ”پوری دنیا متاثر ہو گی“…… پہلے کشمیر پر جنگ ہونے کے اثبات کی بات کرتے ہیں۔

وزیراعظم نے اپنے خطاب میں اس جنگ کا باقاعدہ روڈ میپ دیا اور کہاجب کشمیر کی خصوصی حیثیت کا خاتمہ ہو جائے گا تو انڈین آرمی وہ حربی داؤ پیچ اور مظالم بھی استعمال کرے گی جو گزشتہ 70برسوں میں نہیں کئے گئے تھے۔ دوسرے لفظوں میں پوری وادی کے مسلمانوں پر عرصہ ء حیات تنگ کر دیا جائے گا، ان ستم رسیدگان کا پہلا گروہ جب لائن آف کنٹرول پر جمع ہو جائے گا تو لامحالہ پاکستان میں داخل ہونے کی کوشش کرے گا، انڈین آرمی اس کا پیچھا کرے گی اور پاکستان آرمی سے اس کی مڈ بھیڑ ناگزیر ہو گی۔ اس جھڑپ یا مڈ بھیڑ کا سکیل محدود نہیں رہے گا اور بہت جلد ایک کھلی جنگ میں تبدیل ہو جائے گا۔ دونوں طاقتیں پہلے اپنا کنونشل ترکش خالی کرنے کی کوشش کریں گی۔ لیکن جب یہ خالی ہو جائے گا تو پھر اس کے بعد کیا ہو گا؟…… پاکستان چونکہ رقبے، آبادی اور مسلح افواج کے حجم کے اعتبار سے انڈیا سے چھوٹا ملک ہے اس لئے اس کی جوہری دہلیز، انڈیا سے پہلے آ جائے گی…… یہی وہ لمحہ تھا جب وزیراعظم نے وہ تاریخی جملہ کہا جو یادش بخیر پرویز مشرف اکثر دہرایا کرتے تھے۔ یعنی ہمارے نیوکلیئر ہتھیار کسی شب برات پر چلانے کے لئے نہیں رکھے ہوئے۔ عین مین یہی بات عمران خان نے بھی کہی۔لیکن ایسی چلمن کے پردے میں کہی جس کے پسِ پردہ جو بھی تھا، صاف نظر آ رہا تھا۔ وزیراعظم نے کہا : ”میں نیوکلیئر بلیک میل کی بات نہیں کر رہا۔ کامن سینس کی بات کر رہا ہوں“…… اور کامن سینس (عقل سلیم) کا تقاضا یہی ہے کہ پاکستان کو ناچار اپنے جوہری ترکش کی طرف دیکھنا پڑے گا۔

پرویز مشرف نے جب ’شب برات‘ والی بات ایک سے زیادہ بار انڈین ٹی وی چینلوں پر کہی تھی تو انڈین صحافیوں اور فوجی مبصروں نے بھی جواباً یہ کہنا شروع کر دیا تھا کہ ”:ہمارے جوہری وار ہیڈز بھی دیوالی، دسہرے کے لئے نہیں رکھے ہوئے“۔عمران خان نے ایک سے زیادہ بار عالمی ضمیر کو بیدار کرنے کی بات کہی اور بڑی طاقتوں کو اس طرف متوجہ کیا اور کہا کہ اس پاک بھارت جنگ کو صرف پاک بھارت تک محدود نہ سمجھئے کہ اس سے پوری دنیا متاثر ہو گی۔ اور پوری دنیا کے متاثر ہونے کا یہ خیال بھی کوئی نیا خیال نہیں …… سرد جنگ کے زمانے سے یہ تصور اَن گنت بار موضوعِ بحث بنا رہا تھا۔ مجھے یاد ہے جب کپتان سے میجر رینک میں پروموشن پانے کا امتحان ہوا تھا تو یہ موضوع پوری فوج کے کپتانوں کے مطالعے میں رہتا تھا اور بین الاقوامی معاملات (International Affairs) کے پرچے کا تقریباً ایک یقینی سوال سمجھا جاتا تھا۔

1970ء سے 1990ء تک کے تین عشروں میں ناٹو اور وارسا پیکٹ کی فورسز ایک دوسرے کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے جرمنی میں صف بند رہیں۔ سوال یہ تھا کہ پہلی گولی کون فائر کرتا ہے اور پہلا ٹینک کب دندناتا ہوا حریف کی طرف پیش قدمی کرتا ہے۔ میزائلوں کی کھیپ جو آج ہر ملک کے پاس ہے اس وقت چند بڑے ملکوں کی دسترس میں تھی اور زیادہ زور بین البراعظمی میزائلوں پر دیا جاتا تھا۔وجہ یہ تھی کہ NATO افواج کا ٹارگٹ تو ان کے سامنے تھا۔ جرمنی سے سوویت یونین کچھ زیادہ دور نہیں تھا لیکن امریکہ، وارسا پیکٹ فورسز سے ہزاروں میل کے فاصلے پر تھا اس لئے وارسا فورسز کے جوابی وار کا دار و مدار جوہری وارہیڈز لے جانے والے بین البراعظمی میزائلوں (ICBMs) پر تھا۔اس وقت”گرما گرم“ سوال یہ ہوا کرتا تھا کہ فریقین میں کس کی جوہری دہلیز پہلے آئے گی،ناٹو افواج کی یا وارسا پیکٹ فورسز کی؟…… ہمارے وزیراعظم بالکل وہی بات کہہ رہے تھے کہ جب روائتی جنگ کے ہتھیار اور گولہ بارود ختم ہو جائے گا توپھر دونوں میں سے کس ملک کو اپنے جوہری بموں کی طرف دیکھنا پڑے گا۔ مجھے اچھی طرح وہ مثال یاد ہے جو اس ”کیپٹن ٹُو میجر پروموشن ایگزام“ میں بالعموم کوٹ کی جاتی تھی کہ اگر دو سپاہیوں کے پاس چھوٹے ہتھیاروں کا توازن کم و بیش ہو گا تو کون سا سپاہی اپنے نزدیک پڑے اس بم کی پِن (Pin) کھینچے گا جس میں وہ خود اور اس کا حریف دونوں ہلاک ہو جائیں گے…… یہ سوال اس وقت بھی ایک مشکل سوال تھا اور آج بھی مشکل ہے۔ عمران خان اسی مشکل کی طرف اشارہ کررہے تھے۔

اسی سلسلے میں ایک اور طرف بھی قارئین کی توجہ مبذول کرانے کی ضرورت ہے…… پہلا ایٹم بم امریکہ کی طرف سے جاپان پر اس وقت فائر کیا گیا تھا جب روائتی ہتھیار تقریباً ناکام ہو گئے تھے۔ جاپان کمزور تھا لیکن اگر اس و قت، اس کے پاس بھی کوئی چھوٹا موٹا جوہری بم ہوتا تو وہ 6اگست 1945ء سے بہت پہلے اس کا استعمال کر چکا ہوتا کیونکہ امریکہ نے اپنے روائتی ہتھیاروں کی کثرت کے سبب، جاپان کی اینٹ سے اینٹ بجا دی تھی لیکن اس کے باوجود جاپانی فوج جگہ جگہ بحرالکاہل کے مختلف جزائر میں ڈٹی ہوئی تھی اور ہار ماننے کو تیار نہیں تھی۔ایٹم بم چونکہ ایک نیا اور غیر آزمودہ ہتھیار تھا اس لئے جاپان، کنونشنل ہتھیاروں سے مرنے اور مارنے کے تجربات ہی کا تصور لئے بیٹھا رہا۔

ضرور پڑھیں: ڈالر سستا ہو گیا

دوسرا نکتہ جو اس پہلی ایٹمی جنگ سے اخذ کیا جاتا ہے وہ یہ ہے کہ جاپان اور اس سے پہلے اتحادیوں اور محوریوں کے درمیان چھ سالہ جنگ میں لاکھوں کروڑوں ٹروپس اور سویلین مارے گئے اور بے تحاشا مادی نقصانات بھی ہوئے۔ ان کے مقابلے میں جاپان پر پھینکے گئے دونوں جوہری بموں سے صرف دو سے تین لاکھ افراد (بیشتر سویلین) مارے گئے اور زخمی ہوئے۔ یعنی جوہری ہتھیاروں کے جانی نقصانات کا سکیل، غیر جوہری (روائتی) ہتھیاروں کے نقصانات سے کہیں کم تھا۔ لیکن جاپانیوں کو معلوم نہ تھا کہ امریکہ کے پاس صرف دو بم ہیں اور تیسرا بم موجود نہیں۔ اگر ان کو معلوم ہوتا تو وہ کبھی غیر مشروط طور پر ہتھیار نہ ڈالتے! لیکن آج پاکستان اور بھارت دونوں کے پاس تو 100سے زیادہ بم موجود ہیں اور ان کو دشمن کے ہر طرح کے اہداف پر لے جانے کے لئے ڈلیوری سسٹم (میزائل) بھی دستیاب ہیں۔

فرض کیجئے کہ اگر آج پاک بھارت جنگ ہوتی ہے اور پاکستان کی جوہری دہلیز سامنے نظر آنے لگتی ہے تو نہ صرف بھارت بلکہ اس کے وہ اتحادی بھی پاکستان کے سامنے آ جائیں گے جنہوں نے روائتی جنگ میں بھارت کی طرفداری یا مدد کی ہو گی۔ پاکستان اپنے بم بردار میزائلوں کا رخ ان اتحادیوں اور طرف داروں کی طرف موڑنے سے دریغ نہیں کرے گا۔ پاکستان اور بھارت کے حلیف کون ہیں اور حریف کون ہیں ان کا پتہ پاک بھارت روائتی جنگ کے چند ایام میں ہی معلوم ہو جائے گا۔ پاکستان یا بھارت کے پاس امریکہ اور سوویت یونین (روس) کی طرح ان زیرِ زمین بنکروں کی موجودگی یا عدم موجودگی کا ابھی تک کسی کو علم نہیں جو سرد جنگ کے زمانے میں موجود تھے۔……یہی وہ سنریو ہے جس کی طرف عمران خان اشارہ کر رہے تھے اور چونکہ وزیراعظم اور افواجِ پاکستان ایک ہی صفحہ پر ہیں، لہٰذا عمران خان وہی کچھ کہہ رہے تھے جو افواج پاکستان کہہ رہی تھیں (اور کہہ رہی ہیں)…… اس لئے حالیہ کور کمانڈرز کانفرنس کے بعد جو اعلامیہ جاری کیا گیا اس میں بھی یہی کہا گیا کہ ”کشمیریوں کی آزادی کے لئے آخری حد تک جائیں گے“…… یہ آخری حد، وہی جوہری دہلیز ہے جس کی طرف وزیراعظم اشارہ کررہے تھے۔

مزید : رائے /کالم


loading...