سری لنکن سکیورٹی وفد کراچی میںانتظامات پرمطمئن‘آج لاہورکادورہ کریگا

سری لنکن سکیورٹی وفد کراچی میںانتظامات پرمطمئن‘آج لاہورکادورہ کریگا

کراچی(نیٹ نیوز ) پاکستان میں 11 سال بعد بین الاقوامی ٹیسٹ کرکٹ کی واپسی کے امکانات روشن ہونے لگے ہیں۔ سندھ پولیس انسپکٹر جنرل کے آفس میں سکیورٹی کی صورت حال کے حوالے سے ہونے والے اہم اجلاس میں سری لنکن حکام نے بھی شرکت کی۔سری لنکا کی کرکٹ ٹیم کی اکتوبر میں پاکستان آمد متوقع ہے۔ یہ دورہ کسی بھی بین الاقوامی کرکٹ ٹیم کا گیارہ سال بعد پاکستان کا پہلا دورہ ہوگا جو ٹیسٹ میچ کھیلے گی۔سری لنکا کی ٹیم کی آمد کے بعد پاکستان میں گیارہ سال بعد بین الاقومی ٹیسٹ کرکٹ کی واپسی ہوگی۔سکیورٹی کے حوالے سے ہونے والے اجلاس میں آئی جی سندھ اور سیکریٹری داخلہ سندھ سمیت دیگر قانون نافد کرنے والے اداروں کے نمائندوں نے بھی شرکت کی۔ذرائع کے مطابق سری لنکن حکام نے کراچی کی سکیورٹی کی صورت حال پر اطمینان کا اظہار کیا۔ذرائع کا کہنا ہے کہ سری لنکن حکام نے کراچی میں ٹیسٹ کرکٹ کھیلنے پر رضامندی ظاہر کردی۔سری لنکن حکام سکیورٹی کا جائزہ لینے کے لیے جمعرات کے روز لاہور کا دورہ کرے گی۔سکیورٹی کے حوالے سے اجلاس کے بعد ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے سیکریٹری داخلہ سندھ قاضی کبیر نے کہا کہ یکم اکتوبر کو پہلا ٹیسٹ میچ کراچی میں ہونے کا امکان ہے۔پاکستان اور سری لنکا کے مابین ٹیسٹ میچز کو کراچی اور لاہور میں ممکن بنانے کے لیے سری لنکن سیکیورٹی وفد کونیشنل اسٹیڈیم کا دورہ کروایا گیا جہاں اس نے سیکیورٹی انتظامات پر اطمینان کا اظہار کیا ہے۔ذرائع کے مطابق موہن ڈی سلوا کی سربراہی میں 4 رکنی سری لنکن سیکیورٹی وفد نے نیشنل اسٹیڈیم کا دورہ بھی کروایا گیا جبکہ اس سے قبل سینٹرل پولیس ا?فس (سی پی او) کراچی میں بڑی بیٹھک ہوئی۔سری لنکن وفد نے بریفنگ کے بعد سیکیورٹی اتنظامات پر اطمینان کا اظہار کیا جبکہ بھرپور انتظامات پر قانون نافذ کرنے والے ادارے کی کوششوں کو بھی سراہا۔

موہن ڈی سلوا کا کہنا تھا کہ دعوت دینے کے لیے میں پاکستان کرکٹ بورڈ کا شکر گزار ہوں، جو ہمیں بریفنگ دی گئی اس پر اطمینان کا اظہار کرتے ہیں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ہم اپنے سینیئر افسران کے ساتھ یہاں آئے، 2009 حملے کے بعد کھلاڑیوں سمیت ہماری قوم کو بہت سے تحفظات تھے تاہم انہیں کا جائزہ لینے کے لیے یہاں ا?ئے تھے۔

انہیں نے یہ بھی کہا کہ سی پی او میں جو بریفنگ دی گئی وہ قابل تعریف ہیں، واپس سری لنکا جاکر اپنی رپورٹ مرتب کریں گے اور پی سی بی کو آگاہ کریں گے۔

سری لنکن سیکیورٹی وفد اپنی سفارشات مرتب کرکے سری لنکا کرکٹ بورڈ کو پیش کرے گا جس کی روشنی میں بورڈ سری لنکن ٹیم کے دورہ پاکستان پر فیصلہ کرے گا۔

خیال رہے کہ پاکستان اور سری لنکا کے درمیان 2 ٹیسٹ میچز پر مشتمل سیریز شیڈول ہے جو ممکنہ طور پر پاکستان میں کھیلی جاسکتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: سری لنکن ٹیم پر حملے کو 10 سال، انگلش کوچز انٹرنیشنل کرکٹ کی بحالی کیلئے پرامید

تاہم ٹیسٹ چیمپیئن شپ کی دوڑ کے لیے کھیلے جارہے یہ میچ متحدہ عرب امارات (یو اے ای) میں بھی کھیلے جاسکتے ہیں۔

خیال رہے کہ رواں برس مئی میں پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے سری لنکا کے خلاف اپنی ٹیسٹ سیریز پاکستان میں کھیلنے کے لیے سری لنکن کرکٹ بورڈ سے رابطہ کیا تھا۔

پی سی بی کے منیجنگ ڈائریکٹر (ایم ڈی) وسیم خان نے سری لنکن کرکٹ بورڈ سے اپنا سیکیورٹی وفد پاکستان بھیجے کی درخواست کی تھی جنہیں سیکیورٹی پر بریفنگ دی جاسکے۔

سنگاپور میں ہونے والی ایشین کرکٹ کونسل (اے سی سی) کے اجلاس کے دوران ایک علیحدہ ملاقات میں پی سی بی حکام نے سری لنکن کرکٹ حکام کو دعوت نامے دیے تھے۔

مزید پڑھیں: سری لنکن ٹیم پر حملے کے ملزمان ’مقابلے‘ میں ہلاک

واضح رہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ نے ملک میں کرکٹ کی بحالی کے لیے اب تک صرف ون ڈے اور ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میچز کا ہی انعقاد کیا ہے، تاہم اگر پی سی بی کا یہ اقدام حقیقت بن جاتا ہے تو پاکستانی شائقین ٹیسٹ کرکٹ کو بھی اپنے ملک میں ہوتا دیکھیں گے۔

خیال رہے کہ 3 مارچ 2009 کو لاہور میں سری لنکن کرکٹ ٹیم پر دہشت گردوں کے حملے کے بعد سے سیکیورٹی خطرات کے پیش نظر غیر ملکی ٹیموں نے پاکستان میں کھیلنے سے معذرت کرلی تھی۔

یہاں یہ بات قابل غور ہے جب سری لنکن ٹیم پر دہشت گرد حملہ ہوا تھا تو اس وقت پاکستان اور سری لنکا کی ٹیموں کے درمیان ٹیسٹ میچ جاری تھا اور مہمان ٹیم اس سلسلے میں صبح کے وقت بس میں قذافی اسٹیڈیم لاہور ہی ا?رہی تھی۔

مزید : کھیل اور کھلاڑی


loading...