ایم سی بی کا قبل از ٹیکس منافع میں 14% شاندار اضافے اعلان 

  ایم سی بی کا قبل از ٹیکس منافع میں 14% شاندار اضافے اعلان 

لاہور(پ ر)ایم سی بی بینک لمیٹڈ کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کا اجلاس میاں محمد منشاء کی زیر صدارت 30 جون، 2019 کو اختتام پذیر ہونے والی ششماہی کے دوران بینک کی کارکاردگی کا جائزہ لینے اور مختصراً عبوری مالیاتی گوشواروں کی منظوری کے سلسلے میں منعقد ہوا۔ بورڈ آف ڈائریکٹرز نے اپنے سب سے زیادہ منافع منقسمہ دینے کی روایت کو جاری رکھتے ہوئے دوسرا عبوری نقد منافع منقسمہ بحساب 4 روپے فی شیئر، جو کہ 40 فیصد بنتا ہے، دینے کا اعلان کیا اور 2019 کو ختم ہونے والے سال کے لیے کل نقد منافع منقسمہ کو 80 فیصد تک لائے۔ایم سی بی بینک لمیٹڈ نے منافع قبل از ٹیکس 18.25 ارب روپے رپورٹ کیا جو پچھلے مماثل عرصے سے 14% زیادہ ہے اور فی کس شیئر پر کمائی 9.01 روپے (2018: Rs. 8.24) دیکھی جاسکتی ہے۔ یہ آپریٹنگ کارکردگی میں بہتری کے ساتھ ساتھ ایسٹ بُک کی اسٹریٹجیک پوزیشنگ پرمبنی مارجن کو بہتر بنانے سے حاصل ہوا۔بینک کے منافع بعد از ٹیکس میں 9فیصد سے 10.68 ارب روپے اضافہ ہوا چونکہ بینک نے ٹیکس سال 2018 کے لیے 4% سپر ٹیکس ریکارڈ کیاجو کہ سیکنڈ سپلیمنٹری (ّترمیمی) ایکٹ، 2019 کے ذریعے نافذالعمل ہوا، جس کے نتیجے میں 30 جون، 2019 کو ختم ہونے والی ششماہی کے لیے مروجہ ٹیکس کی شرح 42% رپورٹ کی گئی جو گذشتہ مماثل عرصہ کے مقابلے میں 3% زائد ہے۔

خاص طور پر جب پاکستان میں بڑھتے ہوئے معاشی خدشات کے تناظر میں، یہ حوصلہ افزا نتائج ہیں۔بینک معیشت کو درپیش خطرات کو مدِنظر رکھتے ہوئے اپنی نمایا ں حکمت عملی پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے۔نیٹ انٹرسٹ انکم میں گذشتہ مماثل عرصہ میں 27.80 ارب روپے، 23% اضافہ ہوا۔ اوسطاً کمانے والے اثاثہ جات کے حجم میں اضافہ، بالخصوص ایڈوانسز کے ساتھ ساتھ بڑھتی ہوئی سود کی شرح کی وجہ سے کم مدتی میچورٹی والے اثاثوں کے مرکب نے بینک کی گراس مارک اپ آمدن کو 21.42 ارب روپے تک پہنچانے کے قابل بنایا جو گذشتہ مدت کے اسی عرصے کے مقابلے میں 57% زیادہ ہے۔ڈپازٹس کے حجم میں اضافے کے کے ساتھ ساتھ پالیسی ریٹ میں تبدیلی اور نظرثانی کے باوجودگراس مارک اپ اخراجات کی شرح نمو 16.237 ارب روپے رہی۔

نان مارک اپ آمدن کے بلاک میں اہم حصہ فیس،کمیشن آمدن اور زرِمبادلہ کے لین دین سے آمدن سے 7.9 ارب روپے رپورٹ کی ہے۔ فیس اور بینکاری کے کاروبار سے پیدا ہونے والی کمیشن سے 4% سے 5.6 ارب روپے کا اضافہ ہوا۔ زرِمبادلہ کی آمدن میں مارکیٹ میں لیورج کے بہترین مواقع کے نتیجے میں 47% سے 1.7 ارب روپے اضافہ رہا۔ افراطِ زر کے دباؤ کے باوجود (June-19 YoY CPI of 8.9%)، پینشن فنڈز کی لاگت کو چھوڑ کر، گذشتہ مدت کے اسی عرصہ کے مقابلے میں مجموعی طور پر انتظامی اخراجات میں صرف 7% اضافہ ہوا ہے۔ تغیر میں 576 ملین روپے ڈپازٹ پروٹیکشن پریمیئم کی لاگت کے طور پر چارج کیے گئے، جو یکم جولائی، 2018 سے نافذالعمل تھے ڈپازٹ پروٹیکشن پریمیئم کے اثر کے باوجود عملی لاگت میں صرف 3.3% اضافہ ہوا۔

2019 کے پہلے چھ ماہ میں، ایم سی بی کی کلیدی قوت کے طور پر، بینک نے این ایل پی کی وصولی کو جاری رکھتے ہوئے ایڈوانسز کی مد میں 701 ملین روپے واپس فراہم کیے۔ کوریج اور ایڈوانسز سے این ایل پی کی شرح بالترتیب89.14% اور 8.64%رہی۔

ایم سی بی بینک کے کل اثاثے کی بنیاد مضبوط بنیادوں پر دسمبر 2018 کے بعد 5% اضافہ دکھاتے ہوئے 1.57 کھرب روپے رپورٹ کیے گئے۔ مرکب اثاثہ جات کے تجزیہ کرتے ہوئے 31 دسمبر،2018  سے کل سرمایہ کاری میں 44 ارب روپے (+6%) کا اضافہ جبکہ ایڈوانسز میں 10.6 ارب روپے کا اضافہ ہوا۔ 

دسمبر 2018 سے بینک ڈومیسٹک ڈپازٹس کے محاذ اپنے شیئر میں 7.57% سے 7.67% تک اضافہ کرتے ہوئے صنعت میں آگے رہا۔بینک کی ڈپازٹ بنیاد میں ایک صحت مند اضافہ 99.6 ارب روپے درج ہوا اور 1,148 ارب روپے پر پہنچ گیا، دسمبر 2018 سے 9% کی گروتھ رہی۔اپنے کم لاگت ڈپازٹ کو مرکزیت دینے کی بنیاد پر بینک 2018 سے اپنے کرنٹ ڈپازٹس میں 9% کی شرح سے اضافہ کرنے کے قابل ہواجو صارف کے اعتماد اور مستحکم برانڈ نام کی موروثی قدر کی عکاسی کرتا ہے۔

بینک مستحکم بنیادو پر پاکستان میں 1554 برانچوں کے ساتھ دوسرا سب سے نیٹ ورک چلا رہا ہے۔ اس میں 177 اسلامک بینکنگ برانچیں شامل ہیں جو اس کا اپنا اسلامک بینکنگ کا ذیلی ادارہ ہے۔ پاکستان کی ایکویٹی مارکیٹ میں کاروبار کیا جانے والا انڈسٹری میں سب سے زیادہ مارکیٹ کیپٹلائزیشن کے ساتھ ایک بنیادی بینک ہے۔ بینک کا منافع اور ادائیگی کی واپسی انڈسٹری میں سب سے زیادہ ہے۔

ضرور پڑھیں: ڈالر سستا ہو گیا

بینک بھرپور سرمائے کا حامل ہے بینک کے سرمایہ کی مناسبت کی شرح 11.90% کی طلب کے مقابلے میں 17.48% (بشمول سرمائے کی تبدیلی پر اثرانداز 1.90%) رہی ہے۔سرمائے کا معیار بینک کی کامن ایکوٹی ٹائر۔1 (CET1)  سے واضح ہے جس میں کل رسک ویٹڈ اثاثہ جات کی شرح طلب  6.00% کے مقابلے میں 15.48% رہی ہے۔  بینک کی سرمائے کی فراہمی کے نتیجے میں لیوریج کی شرح 6.89% رہی جو کہ ریگولیٹری حد 3.0% سے کافی زائد ہے۔ بینک نے لیکوئیڈٹی کوریج ریشو (LCR) 192.66% اور نیٹ سٹیبل فنڈنگ ریشو (NSFR) 100% کے مقابلے میں 137.19% رپورٹ کی ہے۔ 

PACRA کے نوٹیفیکیشن بتاریخ 27 جون، 2019  کی بنیاد پر بینک لانگ ٹرم اور شارٹ ٹرم کریڈٹ ریٹنگ بالترتیب AAA/A1+ کے ساتھ بینک مقامی کریڈٹ ریٹنگ میں سب سے بہترین رہا ہے۔ 

مزید : کامرس


loading...