تفتیش کے عمل میں بھرپور تعاون کررہے ہیں ،کے الیکٹرک

    تفتیش کے عمل میں بھرپور تعاون کررہے ہیں ،کے الیکٹرک

کراچی(پ ر) کے الیکٹرک قانون کی پاسداری کرنے والا ذمہ دار ادارہ ہے جوکہ تفتیش کے عمل میں بھرپورتعاون کررہا ہے۔نیز یہ کہ تفتیش کا عمل مکمل ہوتے ہی رپورٹ ریگولیٹری اتھارٹی کو مقررہ وقت کے اندر جمع کرادی جائے گی۔کے الیکٹرک یہ بھی بتانا ضروری سمجھتا ہے کہ کراچی میں ہونے والی موسلادھار بارشوں اور سیلاب کے باعث شہری نظام مفلوج ہوکر رہ گیااور سروسزبھی شدید متاثر ہوئیںجو متعدد حادثات کا سبب بنا ۔ان افسوسناک حادثات پر کے الیکٹرک کی انتظامیہ اور ملازمین بے حد افسردہ ہیں اور متاثرہ خاندانوں سے دلی ہمدردی کااظہار کرتے ہےں۔ تقریباً 36گھنٹوں تک مسلسل جاری رہنے والی موسلا دھاربارشوں کے دوران شہر میںتقریباً 150ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی جو گزشتہ پانچ سالوں کے مقابلے میں سب سے زیادہ ہے۔اس موسلادھار بارش نے نشیبی علاقوں میں موجود بجلی کے انفراسٹرکچر کے اردگرد سیلابی صورتحال پیدا کردی جس کے باعث بجلی کی فراہمی متاثر ہوئی اور انفراسٹرکچر کوشدید نقصان پہنچا۔کے الیکٹرک اس کے نتیجے میں صارفین کو پہنچنے والی پریشانی پر معذرت خواہ ہے ۔سیلاب اتنا شدید تھا کہ کراچی کا M9موٹر وے بند کر نا پڑا اور اس صورتحال کے باعث درجنوں دیہاتوں سمیت ملحقہ اضلاع کے سینکڑوں افراد کسی اونچی جگہ پر منتقل ہونے پر مجبور ہوگئے۔ سپر ہائی وے کے نزدیک لتھ ڈیم اوور فلو ہونے کی وجہ سے کے الیکٹرک کے ایک اہم گرڈ کو تقریباً بند کرنا پڑ گیا جبکہ سیلابی صورتحال کے پیش نظر سپر ہائی وے کئی گھنٹوں تک بلاک رہی۔یہ بات قابل ذکر ہے کہ مختلف جائزوں کے مطابق کراچی کابڑا حصہ بغیر کسی منصوبہ بندی کے تحت تعمیر کیا گیا ہے جس میںسے بیشتر علاقے تجاوزات پر مشتمل ہیں۔ان کچی آبادیوں اور تجاوزات والے علاقوں میں کنڈوں کی تعداد بہت زیادہ ہے اور کنڈوں کیخلاف چلائی جانے والی متعدد مہم اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو تجاوزات کے بارے میں اطلاع دینے کے باوجود یہ غیر قانونی کنکشنز دوبارہ لگا لیئے جاتے ہیں جو خصوصاً بارشوں کے دوران ممکنہ حفاظتی خطرات کا باعث بنتے ہیں۔اس کے علاوہ کے الیکٹرک نے مون سون کی تیاریوں کے حوالے سے پریوینٹو مینٹی نینس، پاور انفراسٹرکچر کا مکمل معائنہ اور آن گراﺅنڈ ٹیموں کے ذریعے سخت نگرانی سمیت احتیاطی اقدامات بھی اٹھائے ہیں۔احتیاطی تدابیر کے طور پر، ان علاقوں میں بجلی کی فراہمی بند کردی گئی تھی جہاں اس طرح کے واقعات رونما ہونے کا خطرہ تھا۔تاہم پاور انفراسٹرکچر کے اردگرد موجود تجاوزات اور پانی جمع ہونے سے پیدا ہونے والے خطرات سے نمٹنے کیلئے ، منصوبہ بندی کے تحت اربن ڈیولپمنٹ پروٹوکولز کا نفاذ کرتے ہوئے تمام یوٹیلٹی سروسز کا حصول یقینی بنانے کیلئے اسٹیک ہولڈرز کی مشترکہ کوششیں ضروری ہیں۔کے الیکٹرک نے شہری انتظامیہ کے علاوہ صوبائی اور وفاقی حکومتی اداروں کے ساتھ مشترکہ حفاظتی اقدامات کا آغاز کر دیا ہے، تاکہ بارش کے دوران اور بعد میں بھی، بجلی کی مسلسل اور محفوظ فراہمی میں پیش آنے والی مشکلات پر قابو پایا جا سکے۔

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر


loading...