کشمیر کی حیثیت تبدیل کرنے کے یکطرنہ فیصلہ سے خطے پر منفی اثرات مرتب ہونگے: چینی سفیر 

  کشمیر کی حیثیت تبدیل کرنے کے یکطرنہ فیصلہ سے خطے پر منفی اثرات مرتب ہونگے: ...

اسلام آباد(سٹاف رپورٹر)پاکستان میں چین کے سفیر یاؤ جِنگ نے کہا کہ بھارت کی جانب سے کشمیر کی حیثیت کو تبدیل کرنے کے یکطرفہ فیصلہ سے خطے کے امن استحکام پر منفی اثرات مرتب ہونگے،پاکستان اور چین دونوں خطے میں امن و استحکام کو برقرار رکھنے کے لئے مل کر کام کر رہے ہیں،چینی سفیر نے بدھ کے روز پاکستانی طلباء کو چینی وطائف کی تقسیم کے حوالے سے منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بھارت نے کشمیر کی حیثیت کو تبدیل کرنے کا یکطرفہ فیصلہ کیا جس کے یقیناً منفی اثرات ہونگے،پاکستان اور چین دونوں خطے میں امن و استحکام کو برقرار رکھنے کے لئے مل کر کام کر رہے ہیں،پاکستان اور چین  کی موجودہ صورتحال پر گہری نظر ہے،چینی سفیر نے چین کی جامعات میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے لیے وظائف حاصل کرنے والے پاکستانی طلباء کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ امید ہے کہ منتخب ہونے والے طلباء دونوں ممالک کے درمیان سفیر کی حیثیت سے کام کریں گے۔اس موقع پر ہائیر ایجوکمیشن کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر رضاچوہان نے بڑی تعداد پاکستانی طلباء کو چینی جامعات میں اعلیٰ تعلیم کے مواقع  فراہم کرنے کیلئے چینی حکومت کا شکریہ ادا کیا اس حوالے سے انہوں نے چینی سفارتخانے کا خصوصی شکریہ ادا کیا  انہوں نے چین میں غیر ملکی طلباء کیلئے تعلیم کے اعلیٰ معیار کی تعریف کی تقریب میں چینی سفارتخانے کی نئی ڈپٹی چیف آف مشن پھانگ چھن شوئے نے بھی شرکت کی۔مسلم لیگ (ن) کے صدر اور قائد حزب اختلاف شہبازشریف نے پاکستان میں چین کے سفیر یاؤجنگ سے ملاقات کی اس موقع پرچینی سفیر یاؤجنگ نے کہا ہے کہ پاکستان اور چین کی دوستی میں سی پیک انتہائی تابناک باب ہے جبکہ قائد حزب اختلاف شہبازشریف نے کہا سی پیک کو امن، ترقی اور خوشحالی کا ضامن منصوبہ سمجھتے ہیں،سبکدوش سفارتکارکی سی پیک اور پاک چین دوستی کے لئے گرانقدر خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی،پاکستان اور چین دو عظیم دوست ہیں، ان جیسی دوستی کی دنیا میں اور کوئی مثال نہیں۔شہبازشریف نے چینی سفیر سے ملاقات اسلام آباد میں چینی سفارت خانے میں کی،چینی سفیر نے قائد حزب اختلاف کا پرتپاک استقبال کیا،شہبازشریف نے چین کی قیادت اور عوام کے لئے نیک تمناؤں کا پیغام دیا۔ملاقات میں سینیٹر مشاہد حسین سید اور نائب چینی سفیرژاو لی جیان بھی موجود تھے۔ 

چینی سفیر

مزید : صفحہ اول


loading...