نیب قانون کا یہ مطلب نہیں جس طرح چاہیں استعمال کریں: چیف جسٹس

  نیب قانون کا یہ مطلب نہیں جس طرح چاہیں استعمال کریں: چیف جسٹس

اسلام آباد(آئی این پی) چیف جسٹس پاکستان آصف سعید کھوسہ نے کہا ہے نیب قانون کا یہ مطلب نہیں آپ اسے جیسے مرضی استعمال کر یں،سول مقدمات کو بھی نیب قوانین کے ذریعے ڈیل کرنا شروع کردیا گیا ہے۔چیف جسٹس کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے کرپشن کیس کی سماعت کی۔ دوران سماعت چیف جسٹس نے نیب قانون سے متعلق اہم ریمارکس دیتے ہوئے کہا نیب قانون کا یہ مطلب نہیں آپ اسے جیسے مرضی استعمال کریں، پہلے ہم سنتے تھے سیاسی وفاداریاں تبدیل کرنے کیلئے نیب قانون کا استعمال کیا جاتا تھا، اب سول قوانین کو فوجداری لا ء کے ذریعے ڈیل کیا جا رہا ہے، سول مقدمات کو بھی نیب قوانین کے ذریعے ڈیل کرنا شروع کردیا گیا، نیب قانون کا غلط استعمال نہیں ہونا چاہیے۔سپریم کورٹ نے ملزم حشمت اللہ شاہ کو بری کرنے کاحکم دیدیا۔ حشمت اللہ پرلوگوں سے کاروبار میں شراکت داری کیلئے دو کروڑ 70 لاکھ روپے لے کر خورد برد کا الزام تھا۔ٹرائل کورٹ نے ملزم حشمت اللہ کو چار سال قید اور جرمانے کی سزا سنائی تھی۔ بلوچستان ہائیکورٹ نے ٹرائل کورٹ کا فیصلہ برقرار رکھا تھا۔چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا امانت کے طور پر پیسے دینے اور بزنس میں لگانے میں فرق ہوتا ہے، تمام بزنس ضروری نہیں کامیاب ہوں،اکثر بزنس ناکام ہو جاتے ہیں۔

جیف جسٹس پاکستان

مزید : صفحہ اول


loading...