پاکستان کا بھارت کا بھرپور جواب ، پارلیمنٹ میں مذمتی قرار داد منظور ، تجارت معطل ، سفارتی تعلقات محدود ، مسئلہ کشمیر سلامتی کونسل لے جانے کا اعلان

پاکستان کا بھارت کا بھرپور جواب ، پارلیمنٹ میں مذمتی قرار داد منظور ، تجارت ...

اسلام آباد(سٹاف رپورٹر ،مانیٹرنگ ڈیسک ، نیوز ایجنسیاں )قومی سلامتی کمیٹی نے بھارت کی طرف سے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے خلاف مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں لے جانے، بھارت کے ساتھ سفارتی تعلقات محدود اور تجارتی تعلقات معطل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت ہوا جس میں مقبوضہ کشمیر کی موجودہ صورتحال غور کیا گیا۔اجلاس میں وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی، وزیر داخلہ اعجاز شاہ، وزیر دفاع پرویز خٹک سمیت مسلح افواج کے سربراہان، ڈی جی آئی ایس آئی، ڈی جی ایم او اور دیگر حکام شریک ہوئے۔اجلاس کے اعلامیے میں 5 فیصلوں کا ذکر کیا گیا ہے جو کہ درج ذیل ہیں1۔ بھارت کے ساتھ سفارتی تعلقات محدود کرنے کا فیصلہ2۔ بھارت کے ساتھ دوطرفہ تجارت معطل کی جائے۔3۔ دوطرفہ معاہدوں کا جائزہ لینے کا فیصلہ4۔ مقبوضہ کشمیر کا معاملہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں اٹھانے کا فیصلہ 14 اگست کشمیریوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کے طور پر منانے اور 15 اگست کو یوم سیاہ کے طور پر منانے کا فیصلہ ،اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ وزیراعظم نے بھارت کی بہیمانہ نسلی نظریات پر مبنی پالیسیاں عالمی سطح پر بے نقاب کرنے کے لیے تمام سفارتی راستے اختیار کرنے کی بھی ہدایت کی۔یاد رہے کہ مقبوضہ کشمیر کی آئینی حیثیت ختم کرنے کے بھارتی اقدام کو پاکستان نے مسترد کردیا ہے، ا۔ قومی سلامتی کمیٹی کے اعلامیے میں کہا گیا تھا کہ بھارتی اقدامات سے مقبوضہ کشمیر کی صورت حال انتہائی خراب ہورہی ہے اور بھارتی عزائم داخلی و خارجی سطح پر عیاں ہوچکے ہیں، بھارت اپنی ناکامیوں کو چھپانے کیلئے پریشانی میں پ±رخطر آپشنز اختیار کرسکتا ہے۔قومی سلامتی کمیٹی کے اعلامیے میں کہا گیا کہ مقبوضہ کشمیر میں اضافی بھارتی فوج جلتی پر تیل چھڑکنے کے مترادف ہے، بھارتی عزائم خطے میں تشدد بڑھا کر اسے فلیش پوائنٹ بناسکتے ہیں، بھارت اوچھے ہتھکنڈے چھوڑ کر تنازعے کے پرامن حل کی طرف بڑھے۔دریں اثنا فرانسیسی خبر ایجنسی اے ایف پی کے مطابق پاکستان نے بھارتی ہائی کمشنر اجے بساریہ کو پاکستان چھوڑنے کا حکم دے دیا ہے۔خبر ایجنسی کے مطابق پاکستان نے بھارت میں تعینات اپنے ہائی کمشنر کو بھی واپس بلانے کا فیصلہ کیا ہے۔آن لائن کے مطابق قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں بھارت کو منہ توڑ جواب دینے کی حکمت عملی تیار کرلی گئی ،سیاسی اور عسکری قیادت نے فیصلہ کیاہے کہ بھارتی جارحیت کا بھرپور جواب دیا جائے گا،واہگہ بارڈر بند،بھارت کے ساتھ ثقافتی، سفارتی اور تجارتی تعلقات ختم اورفضائی حدودکھولنے پر نظر ثانی کی جائیگی ۔ 15 اگست کو بھارت کے یوم آزادی کے موقع پر ملک بھر میں یوم سیاہ منایا جائے گا۔وزیر اعظم نے ایل او سی پر مسلح افواج کو تیار رہنے کی ہدایت کردی ہے اور ہدایت کی ہے کہ بھارت کی کسی بھی شرارت کا منہ توڑ جواب دیا جائے۔ ترجمان دفتر خارجہ ڈاکٹر محمد فیصل نے کہا کہ بھارتی ہائی کمشنر کو پاکستان چھوڑنے کا حکم دے دیا ہے ،پاکستان اپنا ہائی کمشنر بھارت نہیں بھیجے گا ،بھارت کو حکومتی فیصلوں سے آگاہ کردیا گیا ہے ،اجے بساریہ کو پاکستان چھوڑنے کا حکم قومی سلامتی کے فیصلوں پر کیا گیا ہے ۔ ، پاکستان نے بھارت کو حکومتی فیصلوں سے آگاہ کردیا ہے

سلامتی کمیٹی

اسلام آباد(سٹاف رپورٹر ، مانیٹرنگ ڈیسک ،نیوز ایجنسیاں )بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے اور کشمیریوں پر ڈھائے جانے والے مظالم کیخلاف پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں میں مذمتی قرارداد متفقہ طور پر منظور کرلی گئی۔پارلیمانی کمیٹی برائے کمشیر فخر امام نے کشمیر کی موجودہ صورتحال کے تناظر میں بلائے جانے والے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں قرارداد پیش کی۔قرارداد میں کہا گیا کہ پاکستان مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم کی سختی سے مذمت کرتا ہے، جغرافیائی حیثیت تبدیل ہونے سے کشمیری عوام کے حقوق کی خلاف ورزی ہوگی، بھارتی یکطرفہ اقدام اقوام متحدہ کی قراردادوں کے خلاف ہے۔قرارداد میں کہا گیا کہ یہ مقبوضہ کشمیر کی جغرافیائی حیثیت تبدیل کرنے کی بھونڈی کوشش ہے، بھارتی مظالم جنگی جرائم اور نسل کشی کے مترادف ہیں۔پیش کردہ قرارداد میں مطالبہ کیا گیا کہ مسئلہ کشمیر اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق استصواب رائے سے حل کیا جائے، مسئلہ کشمیر کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق حل کیا جائے۔قرارداد میں کلسٹر بموں سے بچوں سمیت کشمیریوں کو نشانہ بنانے کی مذمت کی گئی، دہشت گردی کے نام پر پاکستان کے خلاف پروپیگنڈے کی مذمت کی گئی۔قرارداد میں کہا گیا کہ پاکستان کشمیری عوام کی سفارتی، اخلاقی اور سیاسی حمایت جاری رکھے گا، پاکستان کشمیری عوام کے شانہ بشانہ کھڑا رہے گا۔قرارداد میں مطالبہ کیا گیا کہ بھارت فوری طور پر کشمیری عوام پر بد ترین مظالم بند کرے، کشمیر میں مواصلاتی رابطے بحال کرے، کشمیری رہنماو¿ں کو رہا کرے، عالمی معاہدوں اور باہمی وعدوں کی پابندی کرے۔قرارداد میں کہا گیا کہ اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کو اقوام متحدہ کے ساتھ مل کر کام کرنا چاہیے، بھارت مقبوضہ کشمیر میں جارحیت بند کرے اور اضافی فوجیوں کو واپس بلائے۔اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے پارلیمنٹ میں قرارداد پر ووٹنگ کرائی جسے متفقہ طورپر منظور کرلیا گیا۔اس سے قبل پارلیمنٹ سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہاکہ14 اگست کو پاکستان آزاد کشمیر، مقبوضہ کشمیر ہر جگہ کشمیر بنے گا پاکستان کا اظہار ہوگا، ہم غافل نہیں تھے، صورتحال سے آگاہ تھے، یکم اگست کو اقوام متحدہ اور تین اگست کو پارلیمانی یونین کو خطوط لکھ دئیے گئے تھے، چار اگست کو قومی سلامتی کمیٹی کا ہنگامی اجلاس ہوا، بھارت نے اپنے یکطرفہ اقدام سے شملہ معاہدے پر کاری ضرب لگا دی ہے، بھارت میں آواز اٹھ رہی ہیں کہ بھارتی پیٹھ میںچھرا گھونپا گیا ہے، بھارت نے اقوام متحدہ میں کیے گئے وعدے سے راہ فرار اختیار کی ہے۔بدھ کو مشترکہ اجلاس میںمقبوضہ کشمیر کی حیثیت ختم کرنے بھارتی اقدام مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر بحث سمیٹتے ہوئے وزیر خارجہ نے کہاکہ پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں عوامی سوچ کی عکاسی ہوئی ہے ،5 اگست کو بھارت نے کشمیر کے حوالے سے جو اقدامات کیے پاکستان نے فی الفور ان کی مذمت کرتے ہوئے مسترد کردیا، صدر مملکت نے فوری طورپر پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس طلب کیا، ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اظہار تشویش کیا ہے سب سمجھتے ہیں کہ مودی رجیم نے اپنے لئے کشمیریوں کیلئے اور دنیا کیلئے اس مسئلے کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ میں وزیراعظم کی اجازت سے حج کی سعادت کیلئے سعودی عرب گیاہوا تھا جب میرے حوالے سے پارلیمنٹ میں بات ہوئی ، پوری قوم کے اضطراب کے پیش نظر اور پارلیمنٹ کے آراءکا احترام کرتے ہوئے میں واپس لوٹ آیا اور کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کیلئے یہاںموجود ہوں۔۔ میری موجودگی لائن آف کنٹرول کے آر پار واضح پیغام دے رہی ہے کہ پاکستان کے عوام مسئلہ کشمیر پر پوری طرح متفق ہیں۔ یہاں جذبات کا اظہار بھی ہوا، بھارت نے جو غیرقانونی اور فعل کیا ہے اس پر صرف پاکستان ہی نہیں بلکہ بھارت میں بھی تنقید ہورہی ہے۔ بھارت کبھی بین الاقوامی ثالثی کو تسلیم کرنے سے انکار کرتا ہے کبھی دوطرفہ مسئلہ قراردیتا ہے اور 5اگست کو جو اس نے اقدام کیا ہے اس نے مسئلہ کشمیر کو بھرپور طورپر عالمی سطح پر اجاگر کردیا ہے،۔ ہر جگہ کشمیریوں کا تذکرہ ہورہا ہے۔ عالمی آراءسامنے آرہی ہے، سابقہ بھارتی وزیر داخلہ چدم برم کا بیان سب کے سامنے ہے کہ اس نے خود کہا ہے کہ بھارتی اقدام سیاہ دن ہے، تاریخ بتائے گی کہ مودی رجیم نے حماقت کرتے ہوئے غیر جمہوری فعل کیا تھا۔ اس ترمیم سے سابق بھارتی وزیر داخلہ کے مطابق بھارتی سٹرکچر پر کاری ضرب لگی ہے۔ بھارت کا آزاد خیال طبقہ تنقید کررہا ہے۔ 5اگست کو بھارتی سرکار نے جواہر لعل نہرو کی سوچ کیخلاف اقدام کیا، بھارت کی پیٹھ میں چھڑا گھونپا گیا ، بھارتی اقدام نے ساری کشمیری قوم اور بلا امتیاز حریت پسند رہنماﺅں کو متحد کردیا ہے۔محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کے بیانات دیکھ لیں کہ ہمارے بڑوں سے غلطی ہوگئی ہوگی۔ کشمیر میں اب رائے کسی بھی طورپر منقسم نہیںہے میں مودی سرکار سے کہتا ہوں کہ ایک منٹ کیلئے کرفیو ہٹا دو 9لاکھ افواج 900 فوجی کمپنیوں کو ایک طرف کردوکشمیریوں کو دعوت دو5اگست کے فیصلے کو پتہ لگ جائے گا کہ وہ کس طرح تسلیم یا مسترد کرتے ہیں ان کا شیرازہ بکھر جائے گا۔ بھارتی عزائم بے نقاب ہوجائیں گے۔ بھارت میں نئی قانون بحث چھڑ گئی ہے ۔ 370 اور 35Aلپیٹنے سے خصوصی حیثیت کے بعد کیا قانونی حیثیت رہ گئی ہے۔ بھارتی سپریم کورٹ میں رٹ داخل ہوگئی ہے خود بھارت میںبھرپور قانونی جنگ شروع ہوگئی ہے ۔ مودی سرکار کی وجہ سے مسئلہ کشمیر بھرپور انداز میں اجاگر ہوگیا ہے۔ کسی کشمیری بچے سے پوچھ لیں وہ ہرگز یونین کی طرف نہیں دیکھ رہا بلکہ عالم اسلام اور پاکستان کی پارلیمان کودیکھ رہا ہے۔ پارلیمان میں تمام جماعتوں فہم و فراست کا مظاہرہ کیا اور پاکستان کے سابق وزیراعظم لیاقت علی خان نے جو مکا دکھایا تھا قرارداد اس کی عکاس ہے۔۔ وزیر خارجہ نے کہاکہ یکم اگست کو میں نے اقوام متحدہ کو خط لکھ دیا تھا اور اس کی کاپیاں سلامتی کونسل کے ارکان کو ارسال کردی گئیں۔ یورپی یونین کو 3اگست کو خط لکھ دیا تھا ہم نے بھارتی عزائم کو بھانپ لیا تھا کہ بھارت کچھ نہ کچھ کرنے جارہا ہے۔ 31 جولائی کو پارلیمانی کشمیر کمیٹی کو وزارت خارجہ آنے کی دعوت دی گئی اورصورتحال سے آگاہ کیا۔5 بڑے طاقتور ممالک پی فائیو کے سفیروں کو دفتر خارجہ مدعو کرکے پاکستان کی تشویش سے آگاہ کیا۔ مشترکہ اجلاس کا مقصد اتحاد و یکجہتی کا اظہار تھا۔ مظلوم کشمیریوںکو پیغام دیا گیا ہے کہ وہ تنہانہیں ہیں۔ کل کی طرح آج بھی ان کے ساتھ ہیں۔ کشمیریوں کو باورکراتے ہیں ان کو تنہانہیںچھوڑیں گے ۔۔ 14اگست کو کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کیا جائے گا اور آزاد کشمیر، مقبوضہ کشمیر اور پاکستان کے عوام مل کر یہ دن ملائیں گے۔ اس دن ایک ہی آواز آئے گی کشمیر بنے گا پاکستان ۔ 15اگست کو یوم سیاہ ہوگا۔ نازک صورتحال ہے کوئی اندازہ نہیںہے کیا ہو جائے تاہم کرفیو ختم ہوگا جب ظلم کی چادر لپیٹی جائے گی تو جانی و دیگر نقصانات کا پتہ چل سکے گا کہ کتنوں کو مزید شہید کردیاگیا ہے وفاقی وزیر برائے سائنس اینڈ ٹیکنالوجی فواد چوہدری نے بھارت سے سفارت تعلقات منقطع کرنے کا مطالبہ کیا۔ فواد چوہدری نے کہا کہ جب کوئی فیصلہ منظور نہیں ہوتا تو بھارت کا سفیر یہاں کیا کررہا ہے؟ بھارتی سفیر ایک اچھے انسان ہیں لیکن وہ یہاں ایک فاشسٹ حکومت کی نمائندگی کررہے ہیں، جب یہاں سفارت کاری ہونی نہیں ہے تو ایک دوسرے کے سفیر پر صرف خرچ کررہے ہیں، ہمیں بھارت سے سفارتی تعلقات منقطع کرنے چاہئیں۔انہوں نے کہا کہ ہمیں کہا جارہا ہے لڑنا نہیں، ہم لڑنے کے خواہش مند نہیں، ایوان سے مطالبہ کرتا ہوں کہ کشمیر کو فلسطین نہیں بننے دینا چاہیے، ہم یہ نہیں برداشت کرسکتے، ہم بے عزتی کے ساتھ زندہ نہیں رہ سکتے، لڑنا پڑا تو لڑیں گے۔وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ عالمی برادری اپنی ذمہ داری پوری کرے، اگر یہ جنگ ہوئی تو دنیا کے تمام دارالحکومت اس جنگ کی شدت کو محسوس کریں گے کیونکہ جنگیں ہار جیت کے لیے نہیں بلکہ وقار اور عزت کے لیے لڑی جاتی ہیں، معیشت دیکھ کر فیصلے نہیں کرتے،ا گر لڑائی مسلط کی جاتی ہے تو پھر کشمیر کے لیے پہلے بھی تین جنگیں لڑی، ہمیں امن اور جنگ کے لیے تیار رہنا چاہیے، اس ایوان سے کوئی کمزور پیغام بھارت اور دنیا کو نہیں جانا چاہیے۔فواد چوہدری نے مزید کہا کہ اس ایوان سے یہ پیغام جانا چاہیے کہ ہم پاکستانی پہلے بھی کشمیر کے لیے کٹ مرے تھے اور آج بھی ان کے ساتھ ہیں، ہم اپنی عزت کے لیے کٹ مریں گے۔مسلم لیگ ن کے سینیٹر مشاہد حسین سید نے بھی پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ 100 روز کے لیے سفارتی ایمرجنسی نافذ کی جائے اور پارلیمنٹ ڈپلومیسی کا بھی استعمال کیا جائے۔مشاہد حسین سید نے بھی بھارتی سفیر کو واپس بھیجنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ 10 گھنٹے تک اسلام آباد میں بینر لگے رہے جس کا مطلب ہے کہ وفاقی دارالحکومت میں را کے ایجنٹ موجود ہیں۔انہوں نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان کو اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کو فون کرنا چاہیے اور سلامتی کونسل جانا چاہیے۔ وفاقی وزیر برائے مواصلات اور پوسٹل سروسز مراد سعید کا کہنا ہے کہ بھارت نے آرٹیکل 370 ختم کر کے اپنی موت کے پروانے پر خود دستخط کر دیئے ہیں۔چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کی زیر صدارت ہونے والے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے مراد سعید کا کہنا تھا کہ کشمیری ہمارے بھائی اور کشمیر ہمارا ہے۔مراد سعید نے کہا کہ سوشل میڈیا پر ایک اخباری تراشے کے ذریعے وزیر اعظم عمران خان کے خلاف پروپیگنڈا کیا جا رہا ہے جس کی اس بیان کے اگلے ہی روز تردید کر دی گئی تھی۔انہوں نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان کے آنے کے بعد ایک کام ہوا ہے کہ بھارت کا اصل چہرہ دنیا کے سامنے بے نقاب ہو گیا ہے۔وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ بھارت پاکستان کی امن کی پالیسی سے بوکھلاہٹ کا شکار ہوا ہے، بھارت نے مقبوضہ کشمیر کا خصوصی درجہ ختم کر کے اپنی موت کے پروانے پر خود دستخط کر دیئے ہیں۔سابق صدر آصف علی زرداری کا کہنا ہے کہ قائداعظم محمد علی جناح کے دو قومی نظریے کو آج کشمیر کے وہ رہنما بھی مان رہے ہیں جو بھارت کے ساتھ تھے۔پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے آصف علی زرداری کا کہنا تھا کہ مشرقی پاکستان کے بعد کشمیر کا واقعہ دوسرا بڑا واقعہ ہے، اس مسئلے کو سمجھنے کے لیے ہمیں تاریخ کو جاننا ہو گا۔آصف زرداری نے کہا کہ بھٹو نے حکمت سے اندرا گاندھی سے پاکستان کی زمین واپس لی۔انہوں نے کہا کہ سانحہ مشرقی پاکستان کے بعد کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کا واقعہ دوسرا بڑا واقعہ ہے۔کسی کو مخاطب کیے بغیر آصف علی زرداری نے کہا کہ آپ کا باڈی گارڈ آپ کے کہنے پر گولی نہیں چلائے گا، آپ کا باڈی گارڈ اس وقت گولی چلائے گا جب آپ پر گولی چلے گی۔انہوں نے کہا کہ یہ ہم سے پوچھتے ہیں کہ میں کیا کروں، اگر خدانخواستہ میرے وقت میں یہ ہوتا تو میری پہلی فلائٹ ہوتی ابوظہبی، دوسری چین اور تیسری روس۔ان کا کہنا تھا کہ آج بھی یہی فارمولا ہے کہ ہمیں دوستوں کو پھر ملانا ہے، چین کے لوگ بہت مختلف ہیں، بدقسمتی سے آپ عملی طور پر ان کی بے عزتی کر رہے ہیں۔صدر پیپلز پارٹی نے کہا کہ عوام آج اپوزیشن کے ساتھ کھڑی ہے، آپ کے ساتھ نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ فخر ہے ان کشمیری بھائیوں پر جنہوں نے برطانوی پارلیمنٹ میں تحریک پیش کی، فخر ہے ہمیں ان کشمیری بھائیوں اور بہنوں پر جو اپنی میتوں کو بھی پاکستانی پرچم لپیٹ کر دفناتے ہیں۔ شیریں مزاری نے کہا ہے کہ کشمیری مسلمانوں پر ہونے والے مظالم پر مسلم امہ کیوں خاموش ہے،بھارت مقبوضہ کشمیر میں اسرائیل اور نازی پالیسی پر عمل کر رہا ہے، اسرائیل نے فلسطین میں جو کیا وہ بھارت مقبوضہ کشمیر میں کر رہا ہے، بھارت مقبوضہ کشمیر میں نازیوں والی پالیسی پر عمل کر رہا ہے،ہندوستان جنگ چاہتا ہے تو ہم تیار ہیں لیکن عالمی براداری کو خبردار کرتے ہیں کہ اس کے خطرناک نتائج ہوں گے۔تحریک انصاف کے رکن ڈاکٹر رمیش کمار نے کہا ہے کہ پارلیمنٹ کی تمام جماعتوں پر مشتمل وفود بنا کر دنیا کے مختلف ممالک میں بھیجے جائیں جو کشمیر کی موجودہ صورتحال پر عالمی برادری کو آگاہ کریں بھارت نے کشمیر میں اپنے آئین کا قتل عام کیا یہ جمہوریت کے لئے سوالیہ نشان ہے۔ ڈاکٹر رمیش کمارنے کہا کہ کشمیر میں اقلیتوں کے ساتھ ناروا سلوک ہے اور دوسری طرف یہاں منفرد قومی پرچم اس ایوان میں اقلیتوں کی طرف سے بنایا گیا ہے۔ پاکستان سنوارنے کے لئے غیر مسلم کمیونٹی اپنی مسلح افواج کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔ یہ پرچم گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈ میں شامل ہونے جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کشمیریوں کی جدوجہد نیک نیتی سے ہے تو ضرور کامیاب ہوگی۔ بھارت نے کشمیر میں اپنے آئین کا قتل کیا یہ جمہوریت پہ سوالیہ نشان ہےپاکستان پیپلز پارٹی کے سینیٹر رضا ربانی نے وزیر اعظم کی جانب سے کشمیر میں پیدا ہونے والی صورتحال پر بنائی گئی کمیٹی کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ کمیٹی میں کوئی منتخب نمائندہ شامل نہیں ، پارلیمانی کمیٹی بنائی جائے ۔ رضا ربانی نے کہاکہ میں بڑے عرصہ سے پارلیمنٹ کا ممبر ہوںلیکن افسوس ہے کہ اداروں نے پارلیمان کو بڑے ایشوز پر انفارم تک نہیں کیا۔ انہوںنے کہاکہ امریکہ کی سٹیٹمنٹ اور دورہ کے حوالے سے ہمیں اعتماد میں نہیں لیا گیا۔ انہوںنے کہاکہ پالیسیاں بنانے والے اداروں کے لوگ ریٹائرڈ ہوکر ملک سے باہر ہیں۔ انہوںنے کہاکہ وزیراعظم عمران خان نے اس معاملے پر کمیٹی بنائی،کمیٹی میں صرف ایک ہی الیکٹڈ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی ہیں،ہم اس کمیٹی کو تسلیم نہیں کرتے، کمیٹی پارلیمان پر مشتمل ہونی چاہیے۔ انہوںنے کہاکہ ہماری قومی سلامتی کمیٹی کہ رہی ہے کہ ہمیں پتہ نہیں تھا کہ بھارت ایسا کرے گاجبکہ باہر کے اخباروں میں یہ چھپ رہا تھا کہ بھارت کشمیر کا سٹیٹس تبدیل کرنے جا رہا ہے۔ انہوںنے کہاکہ کیا امریکہ کے دورہ میں وزیراعظم کو اشارہ بھی نہیں دیا گیا،کیا ہم اسرائیل میں دارالحکومت کی تبدیلی میں ٹرمپ کا کردار بھول گئے ہیں ،یاد رکھیں کشمیریوں کو تشدد کرکے مقبوضہ کشمیر سے باہر کیا جائے گا۔انہوںنے کہاکہ پاکستان میں کشمیری پناہ گزینوں کی تعداد بڑھ جائےگا۔انہوںنے کہاکہ پاکستان پریشر میں آجائےگا، ہم مزید مشکل میں پھنس جائیں گے۔انہوںنے کہاکہ بھارت کشمیریوں کی سل کشی کرنے جا رہا ہے۔ انہوںنے کہاکہ ہمیں نیشنل سیکورٹی میں پاکستان کو نمبر ون ترجیح پر رکھنا ہو گا،امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے مطالبہ کیا ہے کہ حکومت پاکستان مسئلہ کشمیر پر فوری طور پر اسلام آباد میں عالمی کانفرنس طلب کرے۔حکومت اپوزیشن پر مشتمل پارلیمانی وفود 120 ممالک میں بھجوائے، کشمیر ہماری شہ رگ ہے،اس کے لیے پاکستان کی طرح لڑنا مرنا ہوگا وقت ضائع کیا تو یہ موقع پھر نہیں آئے گا۔انہوں نے کہا کہ اجلاس کا طلب کرنا اچھا اقدام ہے حکومت تیاری کر کے اجلاس طلب کرتی وزیر اعظم پوچھ رہے ہیں کہ میں کیا کروں ساری قیادت کا ایک ہی اعلان ہے کہ کشمیر کی آزادی کے لیے حکومت کے ساتھ ہیں قدم بڑھاﺅ ہم تمہارے ساتھ ہیں حکومت کی تیاری کا یہ حال ہے کہ تین بار اجلاس کی تحریک کو تبدیل کیا گیا سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ کشمیری وہ عظیم قوم ہے کہ طویل جدوجہد کی انسانی تاریخ میں مثال نہیں ملتی ایک لاکھ سے زائد سے کشمیری شہید ہو گئے ہیں کشمیری روز شہید ہو رہے ہیں کشمیری پاکستان کی طرف دیکھ رہے ہیں پاکستان اور بھارت ایٹمی طاقت ہیں مسئلہ کشمیر اور خطے کے امن سے عالمی امن وابستہ ہے ا گر یہ مسئلہ حل نہ ہوا تو یہ پوری دنیا کی تباہی کا سبب بن سکتا ہے انہوں نے کہا کہ کشمیر کا 114 ممالک سے زیادہ رقبہ 112 ممالک سے زیادہ آبادی ہے بھارت نے اگر کشمیر کو تقسیم کرنے کی سازش کی تو ہمارے ذمہ دار افراد نے بھی کشمیر کو تین حصوں میں تقسیم کرنے کی بات کی یہ غلط ہے کہ کشمیر کی تحریک میںباہر کے لوگوں کا ہاتھ ہے برہان وانی کی شہادت سب کے سامنے ہے سید علی گیلانی 27 سالوں سے نظر بند ہیں جماعت اسلامی مقبوضہ کشمیر پر پابندی عائد کی گئی ہے اور ہزاروں کارکنان اور رہنما جیلوں میں ہیں یہ کشمیری ہے جو یوم آزادی کو زیادہ جوش و خروش سے مناتے ہیں کرفیو میں بھوکے کشمیری خواتین نے بھارتی افواج سے خوراک لینے سے انکار کر دیا۔ شہداءکی قبروں پر پاکستانی پرچم لہراتے جاتے ہیں کہ میں پاکستانی ہوں اور پاکستان ہمارا ہے پورا کشمیر جیل خانہ بن گیا ہے 14 ہزاروں خواتین عصمت داری کی گئی وہ پاکستان کے ساتھ الحاق چاہتے ہیں سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ قائد اعظم نے کشمیر کو شہ رگ قرار دیا آج وہ کشمیر جل رہا ہے بھارتی قبضہ 370،35A کا خاتمہ اچانک نہیں ہوا ہے یہ ریاستی طویل المعیاد بھارتی منصوبہ ہے پرویز مشرف کے دور میں سات نکاتی فارمولا سامنے آیا تھا کشمیری قیادت نے مسترد کر دیا ہے

مشترکہ پارلیمینٹ

مزید : صفحہ اول


loading...