ٹیکساس، اوہائیو واقعات،ٹرمپ کومظاہروں اور تنقید کا سامنا

     ٹیکساس، اوہائیو واقعات،ٹرمپ کومظاہروں اور تنقید کا سامنا

 واشنگٹن(اظہر زمان، بیوروچیف) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو بدھ کی سہ پہر ریاست ٹیکساس کے شہر الپاسو اور ریاست اوہائیو کے شہر ڈیٹون میں سینکڑوں مظاہرین کے احتجاج کا سامنا کرنا پڑا۔ گزشتہ ہفتے اور اتوارکے روز دو الگ الگ واقعات میں یہاں دہشتگردوں کی فائرنگ سے 29 افراد ہلاک اورمتعدد زخمی ہو گئے تھے، صدرٹرمپ کے ناقدین کا کہنا ہے کہ وہ تارکین وطن کے حوالے سے جو سخت بیان دیتے ہیں اور سفید فام نسل پرستی کا پرچار کرتے ہیں فائرنگ کے ایسے واقعات اسی کا نتیجہ ہیں،صدر ٹرمپ نے اس کی تردید کرتے ہوئے کہا وہ نسل پر ستی کو نا پسند کرتے ہیں جس کی امریکہ میں کوئی جگہ نہیں اور ان کے بیانات تو امریکی قوم کو متحد رکھنے کا باعث بنتے ہیں۔ صدر ٹرمپ کو اندازہ تھا کہ ان شہروں کے دورے میں انہیں احتجاجی مظاہروں کا سامنا کرنا پڑے گا لیکن اس کے باوجود انہوں نے اپنے دورے کو منسوخ نہیں کیا۔صدر ٹرمپ نے اپنی اہلیہ میلانیا کے ہمراہ ڈیٹون کے ہسپتال میں زخمیوں کی عیادت کی اور فائرنگ سے ہلاک ہونیوالے افراد کے اہل خانہ سے تعزیت کی،صدر ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس سے روانہ ہونے سے پہلے ایک بیان میں کہا میرے نقاد سیاسی لوگ ہیں اور انکا اشارہ ڈیٹون میں فائرنگ کرنیوالے حملہ آور کی طرف تھا جو ڈیمو کرٹیک پارٹی کا حامی ہے،انہوں نے کہا میرے مخالفین ایسے واقعات کا سیاسی فائدہ اٹھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

ٹرمپ سامنا 

مزید : صفحہ اول


loading...