مسئلہ کشمیر کا واحد اور آخری حل بھارت کیخلاف جہاد ہے : اے پی سی 

    مسئلہ کشمیر کا واحد اور آخری حل بھارت کیخلاف جہاد ہے : اے پی سی 

کراچی (اسٹاف رپورٹر)جماعت اسلامی کراچی کے تحت ادارہ نورحق میں مقبوضہ کشمیر میں حالیہ صورتحال پر منعقدہ ”آل پارٹیز کانفرنس “ میں شریک مختلف دینی وسیاسی جماعتوں ، وکلاءبرادری ، انسانی حقوق کی تنظیموں ، سول سوسائٹی اور اقلیتی برادری کے نمائندوں نے مشترکہ طور پر اس مو¿قف کا اظہار کیا ہے کہ مسئلہ کشمیر کا واحد اور آخری حل بھارت کے خلاف جہاد ہے ، اب فیصلہ کرنے کا وقت آگیا ہے اور آگے بڑھنے کے سوا کوئی اور آپشن اور راستہ نہیں ۔ کانفرنس کی صدارت پاکستان پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما پروفیسر این ڈی خان نے کی جبکہ امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن نے خصوصی خطاب کیا، جبکہ نظامت کے فرائض نائب امیر کراچی مسلم پرویز نے ادا کیے ۔کانفرنس میں جمعہ 9اگست کو بھارت کے خلاف مشترکہ طور پر یوم احتجاج منانے کا بھی فیصلہ کیاگیا اور مشترکہ اعلامیہ جاری کیا گیا ۔پروفیسر این ڈی خان نے اپنے صدارتی خطاب میں کہا کہ آج کی کانفرنس کا اعلامیہ پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کو بھی بھیجا جائے کیونکہ اس پر سب نے اتفاق کیا ہے ۔ انہوں نے کہاکہ ہمیں اب اس مو¿قف کا کھل کر اظہار کرنا چاہیئے کہ جہاد ہمارا حق ہے اور جہاد کے آپشن کو کھلا رکھنا چاہیئے ،مسئلہ کشمیر کا اب آخری حل جہاد ہی ہے اور یہ ہم پر فرض ہوگیا ہے ،اگر بھارت نے اپنا رویہ اور طرز عمل درست نہ کیا اور مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالی اور کشمیریوں کے حقوق سلب کرنے کا سلسلہ بند نہ کیا تو ہم اپنی فوجیں مقبوضہ کشمیر میں اتار سکتے ہیں ، چیف آف آرمی اسٹاف کا کور کمانڈر کانفرنس میں خطاب کو سمجھنے کی ضرورت ہے ان کا یہ کہنا کہ ہم کسی بھی حد تک جاسکتے ہیں تو اس کا مطلب ہے کہ ہم آخری حد تک جاسکتے ہیں اور آخری حد یہی ہے کہ ہم مقبوضہ کشمیر میں بھی داخل کرسکتے ہیں ۔پروفیسر این ڈی خان نے کہاکہ ہمیں یہ بھی واضح کردینا چاہیے کہ ایٹمی صلاحیت ہماری اپنی ہے اور اسے استعمال کرنے کا بھی حق ہم رکھتے ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ وزیر اعظم ہم سے پوچھ رہے ہیں کہ میں کیا کروں جبکہ اپنی تقریرمیں کہتے ہیں کہ ٹیپوسلطان کا راستہ اختیارکرنا ہوگا تو پھر ہم سے کیوں پوچھ رہے ہیں ، یہ پوچھنے کا وقت نہیں بلکہ فیصلہ کرنے اور آگے بڑھنے کا وقت ہے ،بھارت نے صرف مقبوضہ کشمیر پاکستان نہیں بلکہ پوری مسلم دنیا پر حملہ کیا ہے اور وہ مقبوضہ کشمیر میں جو ریاستی دہشت گردی کررہا ہے وہ صرف مسلمانوں کا نہیں بلکہ انسانی حقوق اور پوری انسانیت کا مسئلہ ہے۔ انہوں نے کہاکہ امریکہ ہمارے ساتھ ثالث اپنے مفاد کے لیے بننا چاہتا ہے ،امریکہ نے ماضی میں پاکستان کا ساتھ نہیں دیا ہے جب بھارت نے مشرقی پاکستان میں مداخلت کی تھی وہ تب بھی حالات کا جائزہ لے رہا تھا اور آج بھی وہ صرف حالات کا جائزہ لے رہا ہے ۔حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ بھارت نے بین الاقوامی قوانین کی دھجیاں اڑا دیں ہیں ،استصواب رائے کشمیریوں کا حق ہے جو انہیں ملنا چاہیئے ،70سال سے بھارت نے اس فیصلے پر عمل نہیں کیا ،اقوام متحدہ نے پابند کیا ہے کہ فریقین اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق کشمیر کا مسئلہ حل کرسکتے ہیں لیکن مودی نے قوانین کی مخالفت کی ہے ،بھارتی ریاستی دہشت گردی کے خلاف آج پاکستان کی اقلیتی برادری بھی پاکستان کے ساتھ ہے ،بھارت میں دلتوں پر ریاستی دہشت گردی کی گئی جس پر خود بھارت کے اندر تقسیم کا خطرہ ہے ،کشمیر میں ساڑھے سات لاکھ بھارتی افواج موجود ہیں اور مزید فوج کشمیر میں بھیجی جارہی ہیں ،حکومت اور ریاست کی غیر ذمہ داریوں کی وجہ سے ماضی میں بھارت نے پاکستانی فضائی حدود کی خلاف ورزی کی ہے ۔انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ میں واضح طور پر مشترکہ طور پر لائحہ عمل طے کرنے کی ضرورت ہے ،بھارت ایک لاکھ کشمیریوں کا قتل عام کرچکا ہے ،ماﺅں ،بہنوں کی عزتیں لوٹی جارہی ہیں ،پاکستانی ریاست کے پاس قانونی جواز موجود ہے کہ پاکستانی افواج کشمیر میں اتر سکتی ہے ،اگر یہ کہا جائے کہ ہماری سرحدیں ٹھیک نہیں ہیں تو یہ حکمرانوں کی غلط پالیسیوںکی وجہ سے ہیں ،امریکہ میں بھارت کے سفارت خانے میں را کے ایجنٹ ہیں جہاں دہشت گرد تیار کیے جارہے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ اگر ہم یہ کہیں کہ ہماری اکانومی کا مسئلہ ہے تو یہ کوئی بڑا مسئلہ نہیں ہے ،1948میں تو پاکستان صفر تھا اس کے باوجود 1965کی جنگ لڑی پھر ہم مقبوضہ کشمیر پر اپنی افواج اتار سکتے ہیں ،ایک مسلمان ریاست ہونے کی حیثیت سے ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم کشمیر میں اپنی افواج اتاریں ۔انہوں نے کہا کہ افغانستان میں مجاہدین کی وجہ سے امریکہ بھاگنے پر مجبور ہے ،مجاہدین کے پاس کوئی مضبوط اکانومی نہیں ہے ،ہمیں ایسی معیشت نہیں چاہیے جو ہماری غیرت اور حمیت کو ختم کردے ،ہم جنگ نہیں چاہتے لیکن خود پر جنگ مسلط بھی نہیں ہونے دیں گے ۔۔ملی مسلم لیگ کے رہنما امجد اسلام نے کہا کہ 70 سالوں سے کشمیری آزادی کی تحریک چلارہے ہیں اور چوکوں اور چوراہوں میں پاکستان کا پرچم تھامے ہوئے ہیں اورپاکستان سے رشتہ کیا لا الہ الا اللہ کے نعرے لگارہے ہیں ،یہ دینی رشتہ ہے ،کشمیری قوم پہلے سے زیادہ بیدار ہوچکی ہے ،دین کا تقاضہ ہے کہ ہم کشمیریوں کی آواز بنیں ،اگر حکمران کشمیر کے مسئلے پر بات نہیں کریں تو پاکستانی فوج کشمیر کی آزادی کے لیے قربانی دینے کے لیے تیار ہے ۔جمعیت علمائے پاکستان کے رہنما حلیم خان غوری نے کہا کہ اکھنڈ بھارت اور متحدہ بھارت میں مسلمانوں کا کوئی مستقبل نہیں ، کالے قانون کے تحت کشمیر کو بھارت میں شامل کرنا مودی سرکار کی ہٹ دھرمی ہے ،ہم اسے کسی صورت قبول نہیں کرتے ،کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے اور ہم ضرور کشمیر کو پاکستان میں شامل کریں گے ۔ جمیت علمائے اسلام کے رہنما مولانا نور الحق نے کہا کہ قائد اعظم محمد علی جناح نے کشمیرکو پاکستان کی شہ رگ قرار دیا تھا لیکن آج ہندو بنیے نے کالے قانون کے تحت کشمیر کو پاکستان سے کاٹ دیا ہے مقبوضہ کشمیر کے عوام مظلومیت کا شکار ہیں ،وزیر اعظم عمران خان نے ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کرکے کشمیر کا سودا کیا ہے ،70سالوں سے مذاکرات کے ذریعے مسئلہ حل نہیں ہوا ،لاتوں کے بھوت باتوں سے نہیں مانتے ،فوج جنگ کا اعلان کرے ،پوری قوم فوج کے شانہ بشانہ ہوگی ۔پاکستان سنی تحریک کے رہنما فہیم الدین شیخ نے کہا کہ دودن سے پارلیمینٹ کا اجلاس چل رہاہے لیکن ابھی تک مقبوضہ کشمیر کے مسئلے پر کوئی لائحہ عمل طے نہیں کیا گیا ۔ کشمیر جل رہا ہے کشمیریوں کی عصمت دری کی جارہی ہے لیکن حکمرانوں کی جانب سے کوئی لائحہ عمل طے نہیں کیا جارہا ،جہاد کا اعلان کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے اگر ریاست جہاد کا اعلان نہیں کرے گی تو کوئی نہ کوئی ضرور سر اٹھائے گا ۔مرکزی جمعیت اہلحدیث کے سید محمد عامر نجیب نے کہا کہ حکومت سفارتی اور سیاسی سطح پر بھارت سے مقبوضہ کشمیر کے مسئلے پر دو ٹوک بات کرے اور لائحہ عمل طے کرے ۔جمیت اتحاد العلماءکراچی کے ناظم اعلی مولانا عبدالوحید نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں آگ اور خون کا کھیل جاری ہے ، پاکستان کو ان حالات میں ایک مشترکہ لائحہ عمل طے کرنے کی ضرورت ہے ۔ILMکے جنرل سیکریٹری شعاع النبی نے کہا کہ حکومت آزادی پسند ممالک اور مسلم ممالک کو ساتھ ملائے ،بھارت صرف کشمیر کی بات نہ کرے ،اب خود بھارت کے اندر ٹکڑے ہوں گے ،حکومت ٹھوس اقدامات اٹھائے ۔ناظر عباس نقوی نے کہا کہ بھارتی جارحیت کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے انسانیت سوز مظالم ہونے کے باوجود اقوام متحدہ کی خاموشی سوالیہ نشان ہے ،سیاسی و دینی طور پر متحد ہوکر کشمیر کے مسئلہ پر متحدہونے کی ضرورت ہے اور اپناموقف پیش کرنے کی ضرورت ہے ۔ طارق حسن نے کہا کہ آرٹیکل 370اور 35Aکو ختم کرکے کالے قانون کے تحت کشمیر کو بھارت میں شامل کیا جارہا ہے جس پر پور ی پاکستانی عوام میں شدید غم وغصہ پایا جاتا ہے ،آج کی اس APCکے توسط سے ہم یہ پیغام دینا چاہتے ہیں کہ ہمارا جینا اور مرنا اس ملک کے لیے ہے ،ہم کسی صورت کشمیر کو بھارت کا حصہ نہیں بننے دیں گے ،ارکان اسمبلی کا مشترکہ اجلاس جاری ہے ،اپوزیشن اور حکومت کی جانب سے یکجہتی کا مظاہرہ کرنے کی ضرورت ہے ۔ انہوں نے کہا کہ بھارت سے سفارتی تعلقات فی الفور ختم کیے جائیں اور پاکستانی سفیر کو دہلی سے واپس بلایا جائے ،بھارت کے ساتھ ہر قسم کے تعلقات ختم کیے ،OICکا اجلاس بلایا جائے ،کشمیر کل بھی پاکستان کا تھا اور آج بھی پاکستان کا ہے ، ہم کشمیر کو پاکستان کا حصہ بنا کررہیں گے ۔ حاجی حنیف طیب نے کہا کہ ابتدائی طور پر حکومتی اقدامات تو کیے گئے ،امریکی سے ثالثی کی امید لگانا غلط فہمی ہے ،یو این او امریکہ کی غلامی کرنے پر مجبور ہے جو کبھی بھی مسئلہ کشمیر پر بات نہیں کرے گی ،سا ت رکنی ٹیم میں ایک اپوزیشن پارٹی اور 6افراد موجودہ حکومت کے ہیں تو پھر آپ کیسے کہہ سکتے ہیں کہ پاکستان ایک پیج پر ہے ۔ ILMکے صدر شاہد علی نے کہا کہ 70سالوں سے کشمیرپر بھارتی تسلط جاری ہے اور پاکستان 70سالوں سے مذاکرات کی بات کررہا ہے لیکن آج مودی نے آرٹیکل 370 اور 35Aکو ختم کرکے کشمیر کو بھارت کا حصہ قرار دیا ہے ،حکومت مسئلہ کشمیر پر فی الفور OICکااجلاس بلائے اور آئندہ کالائحہ عمل طے کرے۔بشیر قادری نے کہا کہ کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے لیکن پاکستان میں کسی بھی حکومت نے اس شہ رگ کی حفاظت نہیں کی اور آج بھارت نے مقبوضہ کشمیریوں پر ظلم ڈھایا ہوا ہے ،حکمران ہوش کے ناخن لیں اور لائحہ عمل کا اعلان کرے ۔مسیحی برادری کے پادری بشیر سردار نے کہا کہ کشمیر کے مسئلے پر پوری مسیحی برادری پرزور مذمت کرتی ہے اور اس بات کا اعلان کرتی ہے کہ پوری مسیحی برادری پاک فوج کے شانہ بشانہ ہے ۔ ہندو کمیونٹی کے رہنماپنڈت مکیش نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں جاری مظالم پر ہندو کمیونٹی کی جانب سے بھرپور مذمت کرتے ہیں ،یہ ریاستی دہشتگردی ہے ،ہندو کمیونٹی پاک فوج کے ساتھ ہے۔ منارٹی ونگ کے سربراہ یونس سوہن نے کہا کہ ہم جماعت اسلامی کا اس اہم ایشو پر آل پارٹیز کانفرنس کے انعقاد پر خراج تحسین پیش کرتے ہیں ،UNOکی کشمیر میں جاری بربریت پر خاموشی افسوس ناک ہے ،پاکستانی قوم کشمیریوں کے ساتھ ہے ۔ چیئر مین بزنس کمیٹی کے رہنما ساجد جمن اقبال نے کہا کہ پاکستان میں موجود اقلیتی برادری اپنے تما م تہواروں کو آزادی کے ساتھ مناتے ہیں تو کشمیری مسلمانوں پر کیوں ظلم کیا جارہا ہے 70سالوں سے اب تک حق خودارادیت نہیں دیا گیا ،منارٹی کشمیریوں پر جاری ظلم کی بھر پور مذمت کرتے ہیں ۔

0

مزید : صفحہ اول


loading...