کوہاٹ کے 6ڈگری کا لجزکاکوئی طالب علم اے ون گریڈ حاصل نہ کرسکا  

  کوہاٹ کے 6ڈگری کا لجزکاکوئی طالب علم اے ون گریڈ حاصل نہ کرسکا  

کوھاٹ (بیورورپورٹ) کوھاٹ کے 6 ڈگری کالجز کا کوئی طالب علم A1 گریڈ حاصل نہ کر سکا ضلع بھر کے 1274 طلباء اور طالبات میں سے پوسٹ گریجویٹ کالجز زنانہ اور مردانہ کے صرف 56 طلبہ A1 میں کامیاب ہو سکے تفصیلات کے مطابق اس سال کوھاٹ تعلیمی بورڈ کے انٹرمیڈیٹ امتحان میں ضلع کوھاٹ کے 8 کالجز کے 1274 طلباء اور طالبات نے حصہ لیا جن میں سے 1092 نے کامیابی حاصل کی جن میں سے اکثریت نے C اور D گریڈ میں کامیابی حاصل کی گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ کالج مردانہ کا رزلٹ 100 فیصد رہا اس کالج کے 191 طلباء نے امتحان میں حصہ لیا اور تمام طلباء کامیاب ہوئے کالج کے 20 طلباء نے A1‘ 96 نے A‘ 70نے B جبکہ 7 طلباء نے C گریڈ حاصل کیا اسی طرح پوسٹ گریجویٹ کالج برائے خواتین کی 271 طالبات نے امتحان میں حصہ لیا جن میں سے 252نے کامیابی حاصل کی ادارے کی 36 طالبات نے A1 گریڈ‘ 134 نے A‘ 74 نے B‘ جبکہ 7 نے ڈی گریڈ حاصل کیا گرلز کالج کے ڈی اے کی 217 میں سے 129طالبات نے کامیابی حاصل ک صرف 10 طالبات A گریڈ حاصل کر سکیں گرلز کالج نمبر3 کی 167میں سے 146طالبات نے کامیابی حاصل کی ان میں سے 11 طالبات نے A گریڈ حاصل کیا گرلز کالج لاچی کا رزلٹ خراب رہا صرف 24 طالبات نے امتحان میں حصہ لیا ان میں سے بھی صرف 17 کامیاب ہو سکیں اور 3 طالبات نے Aگریڈ حاصل کیا ڈگری کالج گمبٹ کے 139 میں سے 127 طلباء کامیاب ہوئے صرف 1 طالب علم A گریڈ تک پہنچ سکا گورنمنٹ کالج KDA بوائز کے 243 میں سے 209 طلباء کامیاب ہو سکے اور صرف 1 طالب علم نے A گریڈ حاصل کیا ڈگری کالج لاچی کے 22 میں سے 21 طلباء کامیاب ہوئے اور 4 طالب علم A گریڈ تک پہنچ سکے اگر کوھاٹ کے زنانہ اور مردانہ ڈگری کالجز کا رزلٹ دیکھا جائے تو زیادہ قابل اطمینان نہیں ماہانہ لاکھوں روپے تنخواہیں لینے والے پروفیسرز اور لیکچررز جن کے اپنے بچے پرائیویٹ کالجز میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں مگر سرکاری تعلیمی اداروں میں پڑھانے والے پروفیسر حضرات کی عدم دلچسپی اور بچوں پر توجہ نہ دینے کے عمل سے ان اداروں کا یہ حال ہے کہ 6 ڈگری کالجز میں سے کوئی طالب علم A1 گریڈ تک نہ پہنچ سکا جو کہ لمحہ فکریہ ہے۔

کوھاٹ (بیورورپورٹ) ضلع کوھاٹ کے 24 ہائیر سیکنڈری سکولوں کے صرف دو طلبہ A1 گریڈ حاصل کر سکے انٹرمیڈیٹ 2019 کے سالانہ امتحان میں 2165 طلباء اور طالبات نے حصہ لیا جن میں سے 1864 کامیابی حاصل کر سکے کامیاب ہونے والے طلبہ کی اکثریت نے C اور D گریڈ حاصل کیا تفصیلات کے مطابق ضلع کوھاٹ کے 9 زنانہ اور 15 مردانہ ہائیر سیکنڈری سکولوں سے کل 2165 طلبہ اور طالبات نے انٹرمیڈیٹ 2019 کے سالانہ امتحان میں حصہ لیا جن میں سے 1864 نے کامیابی حاصل کی کامیاب ہونے والے طلباء اور طالبات میں سے 2 نے A1 گریڈ‘ 79 نے A گریڈ‘ 545 نے B گریڈ‘ 1017 نے C گریڈ جبکہ 221 نے D گریڈ میں کامیابی حاصل کی ناقص نتائج دینے والے سکولوں میں ہائیر سیکنڈری سکول نندرکہ رہا جس کے 38 میں سے 15 طالب علم کامیاب ہوئے اسی طرح ہائیر سیکنڈری مندوری‘ مسلم آباد‘ صوبائی مشیر تعلیم کے آبائی گاؤں کا سکول محمد زئی‘ خادی زئی‘ نندرکہ‘ توغ بالا‘ گمبٹ‘ بلی ٹنگ‘ لاچی اور لنڈی کچئی سکولوں کا کوئی طالب علم A1 یا A گریڈ حاصل نہ کر سکا دوسری جانب گرلز ہائیر سیکنڈری سکولوں کا رزلٹ مردانہ سکولوں سے قدرے بہتر رہا اور ان سکولوں کی 62 طالبات A گریڈ حاصل کرنے میں کامیاب رہیں میٹرک کے بعد انٹر کے امتحان میں اسی طرح کے مایوس کن نتائج یقینا نہ صرف ان تعلیمی اداروں کے سربراہان بلکہ محکمہ تعلیم کے افسران اور مشیر تعلیم ضیاء اللہ بنگش کے لیے بھی لمحہ فکریہ ہے کہ بھاری بھر کم تنخواہیں‘ مراعات اور گریڈ رکھنے والے اساتذہ بچوں کو کس طرح پڑھا رہے ہیں کہ سرکاری سکولوں کے بچے C اور D گریڈ لے کر کامیاب ہوتے ہیں والدین نے مشیر تعلیم سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس سال کے انٹرمیڈیٹ کے سالانہ نتائج کی بنیاد پر ماہر مضامین اساتذہ سے باز پرس کریں اور جن اساتذہ کے انفرادی مضمون میں بچوں کی تعداد کامیاب نہ ہو سکی اس ماہر مضمون کے خلاف بھی سخت کارروائی کی جائے کیوں کہ ان تمام اساتذہ کے اپنے بچے تو پرائیویٹ سکولوں میں پڑھ کر اعلیٰ نمبروں سے کامیاب ہو رہے ہیں مگر غریب والدین کے بچوں کو پڑھانے والے ان اساتذہ کی اپنی کارکردگی ایک سوالیہ نشان ہے۔

مزید : پشاورصفحہ آخر


loading...