گرائمر کی تعلیم وتدریس

گرائمر کی تعلیم وتدریس

قواعد ہی کے ضمن میں لکھتے وقت املا کی درستی بھی بنیادی اہمیت کی حامل ہے۔املا ایک سادہ سا لفظ ہے مگر اس کا تعلق براہ راست زبان اور قواعد سے ہے۔ اگر کسی زبان میں لکھی گئی کتب یا تحریروں میں الفاط وتراکیب اور حروف کا املا درست نہ ہوگا تو اس سے زبان میں بگاڑ پیدا ہونے کا احتمال موجود رہے گا۔لفظ کن حروف سے مل کر بنا ہے۔ لفظ میں حروف کی ترتیب کو کیسے ہونا چاہئے یہ سب املا سے متعلق ہے۔املا میں صحت اور اصلاح کا عمل جاری وساری رہتا ہے۔زندہ زبانوں میں دوسری زبانوں سے الفاظ وتراکیب شامل ہوتے رہتے ہیں اور دوسری زبانوں سے لیے گئے ان الفاظ وتراکیب کی املا کے حوالے سے مختلف مسائل سامنے آتے رہتے ہیں۔ اسی طرح لکھنے والے دانستہ وغیر دانستہ بعض اوقات الفاظ وتراکیب کی املا تبدیل کرتے رہتے ہیں۔اس تبدیلی کی وجہ سے املا میں اصلاح کی گنجائش پیدا ہوتی رہتی ہے۔

املا کا تعلق لکھنے سے ہے۔ کون سا لفظ کس طرح لکھاجائے۔اور لکھتے وقت کون سے حروف استعمال میں لائے جائیں۔ بقول رشید حسن خاں رسم خط کسی زبان کو لکھنے کی معیاری صورت کا نام ہے اور رسم خط کے مطابق، صحت سے لکھنے،کا نام املا ہے۔املا میں اس اصول کو مدنظر رکھا جاتا ہے کہ لفظ جیساے اصل میں بولا جاتا ہے اسی طرح لکھا جائے۔رشید حسن خان کے بقول:”املا دراصل، لفظوں میں صحیح حرفوں کے استعمال کا نام ہے اور جو طریقہ ان حرفوں کے لکھنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے،وہ ”رسم خط“ کہلاتا ہے۔“اس بات کو اختصار کے ساتھ یوں بھی کہا گیا ہے کہ املا”لفظوں کی صحیح تصویر کھینچنا“ ہے۔“

بقول رشید حسن خان:لسانیات میں غلط کوئی چیز نہیں ہوتی مثلاً ایک لفظ کو تین طرح سے لکھا گیا ہے یا بولا گیا ہے تو کسی کو غلط نہیں کہیں گے۔ نہ تلفظ کو نہ اس کی املا کو کیونکہ جو چیز استعمال میں آجاتی ہے وہ غلط ہوہی نہیں سکتی۔ ہاں علمی بحثوں میں ہم یہ ضرور کہتے ہیں کہ ان تین شکلوں میں مروج صورت یہ ہے۔

زبان ایک نظام کا نام ہے جس میں آوازیں اور حروف وعلامات بنیادی اہمیت کے حامل ہوتے ہیں۔حروف والفاظ کے ذریعے ہم متکلم آوازوں کو بعینہ محفوظ کرلیتے ہیں جیسا کہ وہ زبان سے ادا کی گئی ہوں۔ زبان ایک معاشرتی سرگرمی ہے جس کا تعلق سماج کی بنیادی اکائیوں میں کیا جاسکتا ہے۔

زبان میں املا اور تلفظ کی یکسانیت اہمیت کی حامل ہوتی ہے۔زبان کی فصاحت اور بلاغت کے لیے ضروری ہے کہ الفاظ کا تلفظ،املا یعنی لکھائی کے مطابق ہونا چاہیے لیکن اکثر دیکھا گیا ہے کہ زبانوں میں املااور تلفظ میں کئی جگہ اختلاف بھی پیدا ہوجا تا ہے۔یہ اختلاف اس بات کا متقاضی ہوتا ہے کہ املا کے مسائل حوالے سے زبان میں الفاظ وحروف کو درست کرنے کے لیے اقدامات کیے جائیں۔

زبان میں الفاظ کی خواندگی اپنی جگہ اہمیت کی حامل ہوتی ہے۔بچے کو شروع ہی سے مختلف حروف کی پہچان کرائی جاتی ہے۔بعد میں جن سے بچہ مختلف الفاظ بنانے کی مشق کرتا ہے۔ خواجہ غلام ربانی مجال لکھتے ہیں:”حروف تہجی کی تصویروں کی مکمل بے عیب اور یقینی پہچان اور ان کا درست تلفظ وہ پہلی سیڑھی ہے جس کو پڑھنے والا اگر خود بلا تردد پڑھ نہ پائے تو اس کا اگلی سیڑھی کی جانب سفر کرنا یا اسے سفر کرادینا ایک ایسا کار بے خیر ہے جس کا فائدہ تو مشکوک وموہوم ہے مگر نقصان بدیہی بلکہ از بس یقینی ہے۔“

اعراب کی مدد سے الفاظ کے صحیح تلفظ تک پہنچا جاسکتا ہے۔عربی، اردو میں اعراب جب کہ رومن میں تلفظ کے لیے واولز کا استعمال کیا جاتاہے اور ہندی میں اعراب کی جگہ ماترائیں استعمال کی جاتی ہیں۔اردو میں اعراب کے لیے حروف کے بجائے زیر زبر پیش بھی استعمال ہوتے ہیں۔جب بچوں کو الفاظ کی زیادہ مشق کرا دی جاتی ہے تو پھر زبر زیر پیش اور اعراب کی ضرورت کم رہ جاتی ہے۔

اردو میں حروف صحیح کی تعداد ۳۵ ہے جن میں خالص ہندی آوازیں ٹ، ڈ، ڑ کی ہیں،خالص فارسی آواز ’ژ‘کی ہے۔خالص عربی آوازیں ذ، ض،ط، ظ،ث، ص، ع،ح،ء، کی ہیں جبکہ مشترک آوازوں میں ب، پ، ت، ج، چ، خ، د، ر، ز، س،ش،ف، غ،ک، ق، ل، م،ن،و،ہ،ی شامل ہیں۔ان اصوات وحروف میں ز،خ،ف،غ عربی اور فارسی میں مشترک ہیں۔پ،چ،گ ہندی اور فارسی میں اور ق عربی اور ترکی میں مشترک ہے۔باقی حروف ان تمام زبانوں میں ہیں جن سے اردو نے استفادہ کیا۔ہائے مخلوط کے ساتھ اردو میں مزید جو ۱۵ حروف صحیح بنتے ہیں وہ یہ ہیں: بھ،پھ،تھ، ٹھ، جھ، چھ، دھ، ڈھ، رھ، ڑھ، کھ، گھ،لھ،مھ،نھ۔

نھ سے بننے والے الفاظ جنھیں،انھیں، تمھیں،کو جنہیں اور انہیں اور تمہیں لکھنا غلط ہے۔ اسی طرح ان کے تلفظ میں بھی فرق ہوگا۔مھ سے تمھاراہوگا۔تمہارا لکھنا غلط ہوگاکیونکہ یہ تُم ہارا پڑھا جائے گا۔اسی طرح لھ سے چولھااوردلھا۔

ؓؑبعض الفاظ ایسے بھی ہیں جن کا تلفظ توبڑی حد تک یکساں ہے مگر معنی ایک دوسرے سے جدا جدا ہیں۔ مثلاً طاق اور تاک، سیاہ اور سیاح، آری (کاٹنے والا اوزار) اور عاری؛ کل (آنے والا دن)اور کل(پرزہ)؛علم اور الم،ہل اور حل،عرض اور ارض،جال اور جعل،نظر اور نذر،ثمر اور سمر (موسم گرما)،نقطہ اور نکتہ،لال اور لعل،عرض اور ارض،اسیر اور اثیر،نال اور نعل،نظیر اور نذیر،ثواب اور صواب،بصر اور بسر،قمر اور کمر،احتراز اور اعتراض، قوس اور کوس۔بعض الفاظ کئی معانی دیتے ہیں مثلاً قلم(پین)، قلم(کاٹنا)۔اسی طرح اکثر اوقات کچھ الفاظ کا املا اور تلفظ دونوں غلط لکھے اور بولے جاتے ہیں۔ مثلاً پروا کی جگہ پرواہ غلط ہوگا۔

بعض الفاظ میں املا اور تلفظ دونوں میں اختلاف ہوتا ہے مگر مغالطے کا امکان رہتا ہے۔ مثلاً اسرار اور اصرار، نکل اور نقل (جعلی)، نقل (کاپی)، سحر اور سحَر،علم اورعَلَم؛جُون اور جَون، اثر اور عصر، فقر اور فکر،شکر اور شکّر، سما اور سماں،قرب اور کرب، وزن اور وژن وغیرہ

اسی طرح چند الفاظ اور بھی ہیں جن کا تلفظ اور املا میں مسائل پیدا ہوسکتے ہیں۔مثلاً بَیر اور بیر، بُعد، بعد اور باد،بوجھ:وزن اور بوجھ:سمجھ، بیل: گائے کا مذکر اور بیل:پھولوں کی بیل،خَلق:مخلوق اور خُلق: اخلاق، دَور: زمانہ، دُور: فاصلہ، صَرف: خرچ اور صِرف:فقط،گِرد: چاروں طرف اور گَرد: غبار،مُقّرَر:تعین شدی اور مُقّرِر:تقریر کرنے والا،مَنّت:عہد اورمِنت: خوشامد،مَیل:گندگی اور مِیل:ملنا۔

املا کے حوالے سے بہت سے ماہرین نے اپنی آراء کا اظہار کیا ہے۔طائے تازی خالص عربی حرف ہے اور توتا ہندی پرند۔اس لیے توتا ط سے لکھنا غلط ہے۔توتا ہندی سے آیا ہے۔فارسی الفاظ ذ سے لکھنا غلط ہے۔جیسے شکر گزاردرست ہوگا شکر گذار نہیں،اسی طرح پزیر پارسی لفظ ہے اور اس کا املا پزیر ہے۔اس کے بجائے پذیر غلط ہوگا۔اسی طرح تعزیہ اور مصالحہ درست لفظ ہیں۔انھیں تازیہ اور مسالا یا مصالا لکھنا غلط ہے۔رشید حسن خاں کے بقول:دلچسپ صورت حال یہ پیدا ہوئی کہ ”گزارش“(بہ معنی عرض داشت) کو زال سے لکھا جانے لگا،یعنی:گذارش۔ اور گذشتہ کو ز سے لکھنے لگے،یعنی:گزشتہ جب کہ ان کی صحیح صورت ”گزارش“اور ”گذشتہ“ ہے۔اس امتیاز کو واپس لانا بھی صحتِ املا میں شامل ہے۔

انگریزی کے ہاسپٹل کو ہسپتال لکھا جاتا ہے۔ اسی طرح اکیڈمی کو اکادمی،ٹکنیک کو تکنیک،سٹیشن کو اسٹیشن، سکیم کو اسکیم، سپیشل کو اسپیشل،سٹیٹ کو اسٹیٹ، سٹرینج کو اسٹرینج، سپیس کو اسپیس، سکوائر کو اسکوائر، سٹوری کو اسٹوری، سٹور کو اسٹور، سٹبلشمنٹ کو اسٹبلشمنٹ اور سکول کو اسکول لکھا جاتا ہے، جس کی وجہ سے اردو زبان میں ان الفاظ کا تلفظ بھی تبدیل ہوجاتا ہے۔

ایک زبان سے دوسری زبان میں الفاظ کے تلفظ کی ایک مثال یہ بھی ہے کہ ایک زبان سے دوسری زبان میں جانے کے بعد یوسف کو جوزف، میکائیل کو مائیکل، یعقوب کو جیکب اور سلیمان کو سالومن لکھا جاتا ہے۔

اسی طرح جب الفاظ ایک زبان سے دوسری زبان میں جاتے ہیں تو ان کا تلفظ بدل جاتا ہے۔بہت سے انگریزی الفاظ جو اردو میں استعمال ہوتے ہیں ان کا تلفظ اردو میں آکر تبدیل ہوگیا ہے۔انگریزی لفظ ریکروٹ(Recruit) کو اردومیں جب استعمال کیا جانے لگا تو یہ رنگروٹ بن گیا۔اردو میں استعمال ہونے والا لفظ لالٹین دراصل انگریزی میں لیمٹرن (Lantern)ہے، اردو میں آیا تو لالٹین استعمال ہونے لگا۔

اسی طرح بہت سے الفاظ ایک زبان سے دوسری زبان میں آکر تبدیل ہوجاتے ہیں۔ہر زبان میں الفاظ کو اپنانے کا عمل جاری رہتا ہے۔ہر زبان میں دوسری زبان سے آنے والے الفاظ کو یا تو ہو بہو لے لیا جاتا ہے یا اس میں ذرا سی تبدیلی کے ساتھ اسے اپنا لیا جاتا ہے۔

عام زندگی میں بولے جانے والے مختلف الفاظ کے تلفظ میں کہیں کہیں اختلاف نظر آتا ہے۔ مثلاً کچھ لوگ غَلَط کو غَلْط بولتے ہیں۔اسی طرح مختلف الفاظ غلط معنوں میں بھی استعمال کیے جاتے ہیں مثلاً مشکور کواکثر اوقات ممنون کے معنوں میں بولا جاتا ہے۔

بہت سے الفاظ ایسے ہیں جن کا تلفظ ایک جیسا ہے یا ان میں صوتی آہنگ پایا جاتا ہے، ان الفاظ کو پڑھتے ہوئے عبارت اور لفظ کی املا کو مد نظر رکھا جاتا ہے۔

آک: پودااور عاق:محروم کرناجائیداد سے،ابد:ہمیشہ اورعبد:بندہ،اثاث:سامان اور اساس:بنیاد،احرام:حج کا لباس اور اہرام:مصر کے قدیم مقبرے،اقرب:رشتے داراور عقرب: بچھو،امارت: امیری اور عمارت:بلڈنگ، برس: سال اور برص: پھلبہری، پارا:سیماب اورپارہ: حصہ،تابع:ماتحت اور طابع:چھاپنے والا، تیار: آمادہ اورطیار:اڑنے والا، ثواب:نیکی کا بدلہ اور صواب:ٹھیک ہونا، ثور:بیل اور صور: آواز، حامی: حمایتی اور ہامی:ہمت والا، حَرَج: رکاوٹ اورہرج: نقصان، حزم:احتیاط اور ہضم:پچنا، حلال:جائز اور ہلال:پہلی کا چاند،دفعہ:شمار اوردفع: دور، زن: عورت اور ظن:گمان، سبحہ:تسبیح والا اور صبح: سویرا، سرف:فضول خرچی اور صرف:خرچ،سفر:راہ چلنا اور صفر: قمری مہینہ،حال:حالت اور ہال:بڑا کمرہ، ذو:دو اور ضو:روشنی،مامور: مقرر اورمعمور:بھرا ہوا، متاسف:افسوس کرنے والا اور متصف: وصف والا، نالا:بڑی ندی اورنالہ: فریاد، نذر: پیش کش اور نظر:نگاہ، نسب:نسل اور نصب: گاڑنا،قلب: دل اور کلب:کتا اور کلب: انگریزی کا لفظ، کلی: پھول اور قلعی:ملمع،چونا، مثل: کہاوت اور مسل: مسلنا،مربع: چوکوراور مربہ: پھل کا مربہ، مشاعرہ: شاعروں کی محفل اور مشاہرہ: تنخواہ، مشق: پریکٹس اور مشک: پانی کے لیے چمڑے کا تھیلا، مقدر: تقدیر اور مکدر:خراب، مقرر:تقریر کرنے والا اور مکرر: دوبارہ، نقطہ، صفر،ہندسہ اور نکتہ: باریک بات۔

املا اور تلفظ عام زندگی میں ہو یا تعلیم وتدریس میں اپنی جگہ اہمیت کا حامل ہوتا ہے۔جو طلبہ کلاس روم میں بیٹھ کر تعلیم ھاصل کرنے کے بجائے خود پڑھ کر پرائیویٹ امیدوار کے طور پر امتحان دے کر ایم اے اردو کرلیتے ہیں وہ پاس تو ہوجاتے ہیں مگر وہ زندگی بھر املا اور تلفظ کے معاملے میں مسائل کا شکار رہتے ہیں۔زبان میں املا اور تلفظ بھی اساسی کردار کے حامل ہوتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ ایم اے کی سطح پر املا اور تلفظ کی غلطی کی گنجائش نہیں ہوتی۔زبان کے لکھنے اور بولنے کی صحت کا خصوصی خیال رکھا جانا چاہیے۔

اگر سکول کی سطح پر شروع ہی سے قواعد کو پڑھانے میں دلچسپی اور صحت املا کا خیال رکھا جائے تو اس کے آگے جاکر بہت اچھے نتائج برآمد ہوں گے۔ قواعد اکو اس انداز میں پڑھایا جائے کہ نہ صرف طلبہ کو سمجھ آجائے بلکہ ان کو ازبر ہوجائے۔ وگرنہ زیادہ تر طالب علم ایسے ہوتے ہیں جو صرف رٹّا لگاکر پیپر میں نمبر لینے کی حد تک قواعد سے دلچسپی رکھتے ہیں۔ اس کے ساتھ کالج اور یونیورسٹی کی سطح پر عملی طور پر جملہ سازی، املا اور تلفظ کی صحت پر توجہ دی جائے۔ ممکن ہو تو اس حوالے سے مختلف چھوٹے چھوٹے کورسز کرائے جائیں تاکہ زبان اور قواعد کے حوالے سے طالب علموں کا visionوسیع ہوسکے۔

٭٭٭

مزید : ایڈیشن 1


loading...