میڈیکل کالجز میں داخلوں کے لئے انٹری ٹیسٹ ختم کیا جائے

میڈیکل کالجز میں داخلوں کے لئے انٹری ٹیسٹ ختم کیا جائے

ایجو کیشن راؤنڈ اپ

میڈیکل کالجوں میں داخلے کے لئے انٹری ٹیسٹ کا سلسلہ گزشتہ حکومتوں کے ادوار میں شروع ہوا۔ اس سے قبل ایف ایس سی پری میڈیکل میں اتنے زیادہ نمبر حاصل کرنا ہی ایک بہت بڑا چیلنج تھا جن سے طلباوطالبات میڈیکل کالجوں کی میرٹ لسٹ پر آجائیں جب سے داخلے کے لئے میرٹ لسٹ کی بجائے انٹری ٹیسٹ کو بنیاد بنایا گیا تو یہ محنتی اور ذہین طلباوطالبات کے لئے نہ صرف ایک نیا چیلنج تھا بلکہ نجی شعبے کے کالجوں اور اکیڈمیوں کو طلباوطالبات سے کروڑوں روپیہ کمانے کا ایک نیا موقع مل گیا جس سے والدین کی ذمہ داریوں اور تعلیمی اخراجات کیلئے ان پر پڑنے والے بوجھ میں اور بھی اضافہ ہو گیا ہے۔ اکیڈمیاں اس ٹیسٹ کی تیاری کے لئے کئی مہینے لگاتی ہیں اور طلبا و طالبات ہر ماہ نہ صرف بھاری فیسیں ادا کرتے ہیں بلکہ انہیں رہائش، ٹرانسپورٹ اور کھانے کے اخراجات بھی ادا کرنا ہوتے ہیں اور وہ والدین سے دور دوسرے شہروں کے ہوسٹلز میں رہنے پر مجبور ہیں جہاں انہیں بے شمار سماجی مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور موسموں کی سختیاں بھی جھیلنا پڑتی ہیں۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ میٹرک اور ایف ایس سی پری میڈیکل میں اعلیٰ ترین پوزیشن اور نمبر حاصل کرنے کے بعد ان طلباوطالبات میں کون سی کمی رہ جاتی ہے جو انٹری ٹیسٹ کے بغیر پوری نہیں ہوتی۔ اگر امتحانی نظام میں خرابیاں ہیں تو ان کا ازالہ ہونا چاہیے اور یہ نہیں کہ انٹری ٹیسٹ کی صورت میں ان کے لئے نئے مسائل پیدا کر دیئے جائیں بقول منیر نیازی ہے۔

ایک اور دریا کا سامنا تھا منیر مجھ کو

میں ایک دریا کے پار اترا تو میں نے دیکھا

جن طلبا وطالبات کو انٹری ٹیسٹ کے لئے اکیڈمیوں میں داخلہ لینے کا موقع نہیں ملتا تو ان کے لئے انٹری ٹیسٹ میں کامیابی کا حصول ممکن نہیں رہتا۔ اکثر و بیشتر ایف ایس سی میں بہترین نمبر حاصل کرنے والے طلبا وطالبات انٹری ٹیسٹ میں کامیاب نہیں ہو پاتے،جس کی وجہ سے نہ صرف ان کا کیرئیر تباہ ہوجاتا ہے،بلکہ ان کی گزشتہ ساری محنت جو انہوں نے مٹیرک اور ایف ایس سی کے امتحان کے لئے کی ہوتی ہے۔ الٹا انٹری ٹیسٹ پاس نہ ہونے کی صورت میں ان کی اعلیٰ شہرت پر بھی اثر پڑتا ہے۔

ضروری ہے کہ سکولز اور کالجز کی سطح پر تعلیمی اور امتحانی نظام میں اصلاحات اور جائیں۔ انٹری ٹیسٹ کے سلیبس، دائرہ کار اور طریقہ کار کو آسان اور عام مہم بنایا جائے اور اسے مٹیرک اور ایف ایس سی کے نصاب سے ہم آہنگ کیا جائے تا کہ طلبا کی قابلیت کا صیح طور پر جائزہ لیا جاسکے اور زیادہ بہتر تو یہی ہوگا کہ اسے ختم کرکے حسب سابق حاصل کردہ نمبروں کے لحاظ سے میرٹ لسٹ بنائی جائے جس پر میڈیکل کالجوں میں میرٹ کی بنیاد پر داخلے کئے جائیں۔

٭٭٭

مزید : ایڈیشن 1


loading...