کتاب بنیی کو فروغ دینے کے لئے تحریک کی ضروت ہے

کتاب بنیی کو فروغ دینے کے لئے تحریک کی ضروت ہے

تصنیف و تالیف کا میدان ہو یا تحقیق و تخلیق کا سفر،ان سب کے لئے ایک سازگار ماحول کی ضرورت ہوتی ہے۔اس کے بغیر کوئی تخلیق کار اور دانشور اپنی تخلیقات کو بھر پور انداز سے پیش نہیں کر سکتا اور یہ حقیقت صدیوں سے تسلیم شد ہ ہے۔ قدیم یونان میں دو ہزار سال قبل شہری ریاستوں کے بادشاہوں نے مشتر کہ طور پر دانشوروں اور تخلیق کاروں کے لئے ایک بستی بسائی تھی جسے ”ایلیا“ کا نام دیا گیا تھا اور اس کے تمام اخراجات مشترکہ طور پر یونانی ریاستوں کے بادشاہوں نے اپنے ذمے لئے ہوئے تھے۔ان دانشوروں کی خدمات کے لئے مامور خدمت کاروں کو دانشوروں کے ساتھ رہائش رکھنے کی اجازت نہ تھی تا کہ و ہ ان کی ذہنی یکسوئی میں خلل نہ ڈال سکیں۔

آج کے حکمران ہمارے دانشوروں اور تخلیق کاروں کو ایسا ماحول فراہم کرنے یا ان کی کفالت کا بوجھ اپنے ذمے لینے کی سوجھ کم رکھتے ہیں۔البتہ کچھ تخلیق اور تحقیق کار ایسے ضرور ہیں جنہوں نے اپنے فن اور تخلیق کی بستی بسائی ہوئی ہے۔ایسے تخلیق اور تحقیق کاروں میں ایک نام پروفیسر اسد سلیم شیخ کا بھی ہے۔اسد سلیم شیخ پیشے کے اعتبار سے استاد ہیں اور آج کل گورنمنٹ ڈگری کالج پنڈی بھٹیاں میں بحیثیت پرنسپل فرائض سر انجام دے رہے ہیں۔

اسد سلیم شیخ ایک محقق،مصنف، ماہر تعلیم اور سفر نامہ نگار کی حیثیت سے پہچانے جاتے ہیں۔مختلف موضوعات پر اب تک ان کی بیس کتب شائع ہو چکی ہیں جن میں زیادہ تر تاریخ و ثقافت کے موضوع پر ہیں،تین سفر نامے بھی لکھے۔ان کی علمی و تحقیقی خدمات کے صلے میں حکومت پاکستان نے انہیں صدارتی ایوارڈ اعزاز فضیلت سے بھی نوازا۔اس کے علاوہ شفقت تنویر مرزا ایوارڈ،وزارت اطلاعات و ثقافت حکومت پنجاب،مجلس ہاشم شاہ ایوارڈ اور دُلا بھٹی ایوارڈ بھی حاصل کرچکے ہیں۔رائٹرز گلڈ کے رکن اور دُلا بھٹی سنگت پنجاب کے چیئر مین بھی ہیں۔ان کی شخصیت اور فن پر یونیورسٹی آف لاہور کی طالبہ آسیہ نذیر ایم۔فل اردو کا مقالہ بھی لکھ چکی ہیں۔اسد سلیم شیخ سے علمی و ادبی موضوع پر ہونے والی گفتگو آپ کی نذر ہے۔

س: اسد سلیم شیخ صاحب! آپ کی ادبی زندگی کا آغاز کب اور کس طرح ہوا؟

ج:میں میٹرک کا طالبعلم تھا جب بچوں کی کہانیاں پڑھتے پڑھتے خود کہانیا ں لکھنے لگا۔میری پہلی کہانی جب میں نویں جماعت میں تھا بچوں کے اخبار میں شائع ہوئی تھی۔پھر گورنمنٹ کالج لاہور میں داخلہ لیا تو نیو ہوسٹل میں شائع ہونے والے مجلہ ”پطرس“ میں لکھا۔اسی دوران اخبارات میں سماجی و سیاسی موضوعات پر مضامین لکھنے شروع کئے۔پھر پنجاب یونیورسٹی کے شعبہ سیاسیا ت میں داخلہ لیا تو افغان مہاجرین کے موضوع پر تحقیقی مقالہ لکھا۔یہی مقالہ بعد میں میری کتاب کی صورت میں سنگ میل پبلشر نے شائع کیا۔ فطرت سے پیار ہونے کی وجہ سے تقریباً پورا پاکستان گھوما اور سفر نامہ ”گھوم لیا پاکستان“ کے نام سے شائع ہوا۔اب تک شائع ونے والی کتب میں افغان مہاجرین،سفر نامے: گھوم لیا پاکستان،کچھ سفر بھولتے نہیں،ٹھنڈی سڑک (مال روڈ لاہور کا تاریخی،ثقافتی اور ادبی منظر نامہ)،پاکستان جمہوریت اور انتخابات،رسول اللہ کی خارجہ پالیسی،انسائیکلو پیڈیا تحریک پاکستان، نواب سعد اللہ خان (تاریخ کا پہلا پنجابی وزیراعظم)،حاکمان پنجاب،دُلے دی بار،وسیب،اسلامک ورلڈ آرڈر،ہماری دستوری تاریخ،نگر نگر پنجاب،پنجاب کا علمی و ادبی ورثہ اور عہد مغلیہ کا پنجاب شامل ہیں۔میری کتاب دُلے دی بار کے انگریزی اور امرتسر (انڈیا) سے گور مکھی تراجم بھی شائع ہوئے۔

س:آپ نے اتنے کام مضافات میں رہ کر کئے۔کیا مشکلات پیش آئیں؟

ج: جی ہاں!میں نے تخلیقی اور تحقیقی کام مضافات میں رہ کر کئے۔بے شک چھوٹے قصبات اور شہروں میں وہ علمی و ادبی ماحول دستیاب نہیں ہوتا جو آپ کو لاہور جیسے ادبی و علمی مراکز میں میسر آتا ہے۔مگر یہ چیز آپ کے کام میں رکاوٹ نہیں بنتی اگر آپ اپنے کام کے ساتھ کمٹمنٹ رکھتے ہیں۔ہاں یہ بات ضرور ہے کہ مضافات میں رہ کر اتنا زیادہ کام کرنے کے باوجود پہچان اور شناخت بنانے میں مشکل آتی ہے مگر مجھے شہرت کی بالکل طلب نہیں۔

س:کہا جاتا ہے کہ دیگر شعبہ ہائے کی طرح ”ادب“ میں بھی گھُس بیٹھئے ہوتے ہیں۔آپ کیا کہتے ہیں؟

ج:اس میں کوئی شک نہیں ہے۔میڈیا کی وجہ سے وہ لوگ بھی ادیبوں میں شمار ہونے لگے جنہوں نے ایک سطر بھی نہیں لکھی ہوتی۔کچھ عرصہ قبل ایک قو می سطح کے ادیب اور کالم نگار نے ایک خاتون شاعرہ کی تعریف و توصیف میں پورے تین کالم لکھ ڈالے۔حالانکہ اس خاتون کی شاعری کی جو کتاب چھپی اس میں اس کا اپنا ایک شعر بھی نہ تھا اور یہ بات وہ کالم نگار موصوف بھی جانتے تھے۔ اسی طرح ایک اور صاحب کو جو ایک پبلیشنگ ادارے سے وابستہ ہیں اور ان کے نام کی درجن بھر کتب شائع ہو چکی ہیں۔مگر شاید ہی کوئی جانتا ہو کہ درجن بھر کتب کے وہ مصنف بمشکل میٹرک پاس ہیں اور ان کی تمام کتب ایک دوسرے صاحب ان کو لکھ کر دیتے ہیں۔کچھ خواتین کالم نگار کے کالم بھی چربہ ہوتے ہیں۔

س: آپ کے خیال میں اس کا سدِ باب کیا ہے؟

ج: میرے خیال میں سب سے پہلے خود ادیبوں کو اپنا احتساب کرنا چاہیے۔یہ ان کے وقار کا مسلہ ہے۔انہوں نے قوم کی رہنمائی کرنا ہوتی ہے۔اگر یہ دانشور ہی برائے فروخت ہو جائیں تو معاشرے کی زوال پذیری کی انتہا ہو جاتی ہے۔ دوسرا ایسے لوگوں کی نشاندہی کرتے ہوئے ان کے چہرے بے نقاب کئے جائیں تا کہ مستقبل میں لکھی جانے والی ادبی تاریخوں میں انصاف ہو سکے۔

س: کیا کتاب ہماری زندگی سے نکل رہی ہے؟

ج:کتاب ہماری زندگی سے نہیں نکلی بلکہ ہم نے خود اس کو اپنی زندگی سے دور کردیا ہے اور اسی وجہ سے آج انتہاپسندی۔جہالت۔عدم رواداری اور دولت پرستی کا رواج ہو گیاہے۔باقی رہی بات کہ ہم نے کتاب کو اپنی زندگی سے دور کیوں کردیا ہے یا کتاب ہماری زندگی سے کیوں نکل رہی ہے؟تو میری سمجھ میں ایک بات آتی ہے کہ جب تک علم سیاسی و سماجی مرتبے کا سب سے بڑا ذریعہ بنا رہا کتاب کی قدر بھی رہی اور قدر دان بھی۔مگر آج دولت ہی سب کچھ ہے۔جاہل بھی دولت کے سبب معتبر بن بیٹھے ہیں۔ ایک وہ زمانہ تھا کہ ریاست کے اعلیٰ ترین عہدوں پر بادشاہ علم کی بنیاد پر لوگوں کو فائز کرتے تھے جیسے شاہ جہاں نے چنیوٹ کے قریبی گاؤں کے ایک غریب خاندان کے فرد نواب سعد اللہ خان کو صرف علمی قابلیت کی بنیاد پر محل میں ملاز م رکھا اور پھر وہ تر قی کرتے کرتے دیوان خاص یعنی وزیراعظم کے عہدے پر جا پہنچا۔آج کلرک کیلئے تو گریجوایٹ ہونا ضروری ہے مگر وزیر کے لئے نہیں۔

س:کتاب بینی کے لئے کیا کرنا چاہئے؟

ج:کتاب بینی کے رجحان کو فروغ دینے کے لئے ایک تحریک کی ضرورت ہے۔کتا ب سستی کرنا ہوگی۔ ہمارے بہت سارے پبلشرز مہنگا کاغذ اور خوبصورت جلد کے چکر میں کتاب کو مہنگا کر کے عام آدمی کی پہنچ سے باہر کر رہے ہیں اور دلچسپ بات یہ ہے کہ پبلشرز یہ سارا منافع خود ہی کھا جاتے ہیں۔ادیبوں اور لکھاریوں کو کچھ نہیں دیتے۔سچی بات ہے کہ پبلشرز لکھاریوں کا استحصال کرتے ہیں۔میرے خیال میں میڈیا کو بھی اپنا کردار ادا کرنا چاہئے۔بے شک بڑے اخبارات ادبی ایڈیشن شائع کرتے رہتے ہیں۔مگر روزانہ خبروں میں کتابوں اور لکھاریوں کے بارے میں کیا ہوتا ہے؟تیسرا کام جو کرنے کی ضرورت ہے وہ میرے خیال میں بڑا آسان ہے،ہر کالج میں لائبریری ہے۔اساتذہ اور طلبہ کو پابند کردیا جائے کہ وہ مہینے میں کم از کم ایک کتاب اپنے نام جاری کروائیں اور پڑھنے کے بعد اس پر تبصرہ لکھیں۔یوں ہر طالب علم ایک سال میں کم از کم دس بارہ کتب کا ضرور مطالعہ کرے گا،بد قسمتی سے ہماری لائبریریوں میں ہزاروں کتب ایسی بھی پڑی ہوئی ہیں جن کو کسی نے ہاتھ تک نہیں لگایا۔یونین کونسل سطح پر بھی سر کاری لائبریریاں ہونی چاہئیں۔سوشل میڈیا کے بک ریڈنگ کلب ہونے چاہئیں۔الیکٹرونک میڈیا والے کتابوں کے بارے میں پروگرام رکھیں۔

س:کیا آپ پاکستان میں ہونے والے تحقیقی کام سے مطمئن ہیں؟

ج:ادبی تحقیق کا تو اپنا معیار ہوتا ہے اور اس بارے مختلف نقادوں کی اپنی اپنی آراء ہوتی ہیں مگر سماجی شعبوں میں ہمارے ہاں جو تحقیق ہو رہی ہے اور جس تحقیق کا زیادہ تو ذریعہ یونیورسٹی میں ہونے والی تحقیقات ہیں۔بے شک پہلے سے زیادہ بہتری ہوئی ہے۔مگر ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہماری تحقیقات ملک کی مارکیٹ اکانومی سے جڑی ہوئی ہیں۔بھاری بھر کم مقالے الماریوں میں بند پڑے ہیں۔یورپ میں سرکاری اور غیر سرکاری ادارے اپنی ضرورت کے مطابق تحقیقی اداروں سے رجوع کرتے ہیں اور پھر یہ ادارے ان ضرورتوں کا خیال رکھ کر تحقیق کرتے ہیں جس کا فائدہ ملک اور قوم کو بھی ہوتا ہے۔یہاں ایسے موضوعات پر تحقیق محض ڈگریاں حاصل کرنے کے لئے کروائی جاتی ہے جس کا ہماری اکانومی یا سماج کی بہتری سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔تحقیق تو ہونی چاہیے کہ سیلابوں سے کیسے بچا جا سکتا ہے؟درختوں کا کٹاؤ کیسے روکا جاسکتا ہے؟دہشت گردی دھونس دھاندلی سے بچاؤ کیسے ممکن ہے۔لیڈر شپ کیسے پیدا کی جاسکتی ہے۔یہ سب ہماری ضرورتیں ہیں۔

س:بحیثیت استاد آج کی نوجوان نسل کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟

ج:ہماری نوجوان نسل میں بہت ٹیلنٹ ہے۔ مگر اسے درست سمت دینے کی ضرورت ہے۔ ایک وقت تھا جب صرف استاد ہی نوجوان نسلوں کی تربیت میں مرکزی کردار ادا کرتا تھا۔مگر آج یہ ذمہ داری پورے معاشرے کی بن گئی ہے۔حکومت اور حکومتی پالیسیاں،والدین،خود نوجوان یہ سب مل کر ہی نوجوان نسل کی تعلیم و تربیت کا ساماں پیدا کرتے ہیں۔آج کے نوجوان میں ترقی کرنے کا جذبہ تو ہے مگر وہ بغیر محنت کے راتوں رات یہ ترقی حاصل کرنا چاہتا ہے۔ دیرپا ترقی جہد مسلسل سے ہی حاصل ہوتی ہے۔

٭٭٭

مزید : ایڈیشن 1


loading...