نیشنل ایکشن پلان کے 20نکات پر عملدر آمد سے امن قائم ہوسکتا ہے: اسفند یارولی

نیشنل ایکشن پلان کے 20نکات پر عملدر آمد سے امن قائم ہوسکتا ہے: اسفند یارولی

پشاور(سٹی رپورٹر) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر اسفندیار ولی خان نے کہا ہے کہ مخصوص ذہنیت کے خلاف ٹارگٹڈ کاروائیوں کے بغیردہشت گردوں کی پیداواری فیکٹریوں کا خاتمہ ممکن نہیں، وفاقی حکومت نیشنل ایکشن پلان کے تمام 20نکات پر من و عن عملدرآمد کر ائے تو ملک بھر میں امن قائم ہو سکتا ہے، 8اگست سانحہ کوئٹہ کی تیسری برسی کے حوالے سے اپنے خصوصی پیغام میں انہوں نے سانحہ کے شہداء کو شاندار الفاظ میں خراج عقیدت پیش کیا اور کہا کہ امن کے قیام کیلئے لڑی جانے والی اس جنگ میں جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والوں کی قربانیاں کبھی رائیگاں نہیں جائینگی، انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کا آغاز بین الاقوامی سازش کا نتیجہ تھی جب پاکستان کی ترقی روکی گئی اور ضیاء الحق کی شکل میں ڈکٹیٹر ملک پر مسلط کیا گیا،انہوں نے کہا کہ سانحہ کوئٹہ کے حوالے سے جسٹس فائز عیسیٰ کی رپورٹ پر تاحال عمل درآمد نہیں کیا گیا اور نہ ہی وہ روپورٹ دوبارہ سامنے آ سکی، انہوں نے مرکزی و صوبائی حکومتوں سے کہا کہ رپورٹ پر عمل درآمد میں رکاوٹ بننے سے گریز کریں تاکہ مستقبل میں قیمتی انسانی جانوں کے تحفظ کیلئے راہ ہموار ہو سکے، انہوں نے کہا کہ جسٹس فائز عیسٰی کی رپورٹ کسی بھی ریاستی یا غیر ریاستی ادارے کی اچھی کارکردگی کی عکاسی نہیں کرتی، مذکورہ رپورٹ کے مطابق وزارتِ داخلہ، انٹیلی جنس ایجنسیاں، صوبائی حکومت، صوبائی محکمہِ صحت، میڈیا، وی آئی پیز اور نیکٹا سمیت تمام متعلقہ اداروں اور بااختیار افراد نے شدت پسندی اور دہشت گردی کو صوبے میں جڑیں پکڑنے اور پھلنے پھولنے کا پورا موقع فراہم کیا، نہ صرف دہشت گردی کو پروان چڑھنے کا موقع فراہم کیا گیا بلکہ دہشت گردی کے کسی بھی واقعے کے بعد انسانی جانوں کے ضیاع کو روکنے کے بھی خاطر خواہ انتظامات نہیں کئے گئے،انہوں نے کہا کہ پاکستان کی تاریخ میں سانحہ کوئٹہ بہت بڑا سانحہ تھا جس میں دہشت گردوں نے خونی کھیل کھیلتے ہوئے 60 سے زائد وکلاء کو شہید اور درجنوں کو زخمی کرکے عدل و انصاف کیلئے لڑنے والی وکلاء برادری کو شدید صدمے سے دوچار کیا اور اتنی بڑی تعداد میں شہادت سے عدلیہ سے منسلک اہم ستون کو زبردست نقصان پہچایا مگر سانحہ کوئٹہ سمیت دیگر واقعات میں وکلاء کی بڑی تعداد کی شہادت، زخمی ہونے کے باوجود وکلاء برادری اپنے فرائض اور عدل و انصاف کی جنگ ثابت قدمی سے جاری رکھے ہوئے ہے اور ثابت کردیا کہ وہ جانوں کی پرواہ نہ کرتے ہوئے فرض کی ادائیگی کا عزم رکھتے ہیں، انہوں نے کہا کہ ہم باچا خان بابا کی سوچ اور فکر پر عمل پیرا ہو کر تمام انسانیت کی فلاح کی بات کرتے ہیں اور ہم ہی محفوظ نہیں،حکومت کی ناکام داخلہ و خارجہ پالیسیوں کے نتیجے میں دہشت گردی پختونوں پر مسلط کی گئی، انہوں نے مزید کہا کہ کالعدم تنظیمیں دار الحکومت میں اپنی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔دہشت گردوں کے سہولت کار،مددگار کھلے عام اسلحہ برداروں کے ہمراہ نہ صرف ملک بھر میں دندناتے پھررہے ہیں بلکہ اب ملکی سیاست میں بھی حصہ لے رہے ہیں، تاہم انہیں پکڑنے اور روکنے والا کوئی نہیں، اسفندیار ولی خان نے کہا کہ اے این پی کی رائے ہے کہ اچھے اور برے کی تمیز سے نکل کر جب تک امن کو پہلی ترجیح نہیں بنائی جائے گی اس وقت تک قوم جنازے اٹھاتی رہے گی،انہوں نے کہا کہ امن کے قیام کیلئے باچا خان بابا کی سوچ و فکر کی ساری دنیا کو ضرورت ہے اور دہشت گردی کے خاتمے کیلئے کالعدم تنظیموں کے خلاف کارروائی ہونی چاہئے، انہوں نے کہا کہ نیشنل ایکشن پلان کے چند نکات پر عمل درآمد ہوا تاہم اب بھی بیشتر نکات پر عمل ہونا باقی ہے اور یہ مرکزی اور صوبائی حکومتوں کی نا اہلی ہے، انہوں نے کہا کہ خطے کی صورتحال یکسر تبدیل ہو چکی ہے، افغان امن عمل شروع ہونے کے بعد اب اعتماد کی فضا بن رہی ہے اور اگر اس عارضی امن سے فائدہ نہ اٹھایا گیا تو مستقبل میں بڑا خطرات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے،لہٰذا حکومت ماکراتی عمل کی کامیابی کیلئے حتی الوسع کوششیں یقینی بنائے

مزید : صفحہ اول


loading...