عید الاضحی اور ہماری ذمہ داریاں

عید الاضحی اور ہماری ذمہ داریاں

ورلڈ گِونگ انڈیکس کی گزشتہ برس کی رپورٹ کے مطابق خیراتی اداروں کو صدقات و خیرات دینے میں پاکستان دنیا کا آٹھواں بڑا ملک ہے۔ ایدھی فاؤڈیشن، شوکت خانم میموریل کینسر ہسپتال، اخوت فاؤنڈیشن دی سیٹیزن فاؤنڈیشن اور اس طرح کے کئی دوسرے ادارے مخیر پاکستانیوں کی طرف سے دی گئی امداد کی بدولت صحت، روزگار، تعلیم و تربیت اور رفاہ عامہ کے میدان میں بے مثال کار ہائے نمایاں سر انجام دے رہے ہیں۔ ان اداروں میں کہیں تو کینسر اور دوسرے موذی امراض میں مبتلامستحق افراد کوعلاج کی مفت سہولیات مل رہیں ہیں تو کہیں غریب اور نادار بچے سائنسی و فنی تعلیم پا کر اپنے خاندان کی قسمت بدلنے کی تگ ودو میں مصروف ہیں۔ صدقات و خیرات کا یہ سلسلہ یوں تو سارا سال جاری رہتا ہے، لیکن سال میں ایک وقت ایسا بھی آتا ہے جب خیرات کرنے کے معاملے میں غریب و امیر کی تخصیص ختم ہوجاتی ہے۔ اس وقت غریب و امیر پاکستانی عام دنوں سے بڑھ کر دوسروں کی مدد کے لیے تیار ہوتا ہے۔ یہ عید قرباں کا وقت ہوتا ہے جب نہ صرف صاحب حیثیت افراد اللہ کی راہ میں جانور قربان کرتے ہیں بلکہ متوسط طبقے کی ایک بڑی تعداد بھی اللہ کی راہ میں قربانی کرنے میں پیچھے نہیں رہتی۔ اس وقت کی گئی قربانی میں سے گوشت کا ایک حصہ غریبوں اور رشتہ داروں کے لیے مختص کیا جاتا ہے اور کھال کسی ضرور ت مند کی مدد کو دے دی جاتی ہے۔

وطن عزیز میں اس سال عیدالاضحی 11-12اگست کو منائی جائے گی۔ عید الاضحی مسلمانوں کی طرف سے منایا جانے والا دوسرا بڑا مذہبی تہوار ہے اور اس کے قریب آتے ہی لوگوں میں قربانی کا جذبہ اپنے عروج پرپہنچ چکا ہے۔ اس عید قرباں جب آپ اس فریضے کی ادائیگی کریں تو چند ایک باتوں پر عمل کر کے اسے اپنی پچھلی عیدوں سے مختلف بناسکتے ہیں۔ اس ضمن میں سب سے پہلی اور اہم ترین بات صفائی کی ہے جس کا خیال رکھنا نہ صرف ہمارا مذہبی فریضہ ہے بلکہ ایک ذمہ دار شہری کے طور پر ہماری اخلاقی ذمہ داری بھی ہے۔ عمومی طور پر ایک بات کا مشاہدے میں آئی ہے کہ وطنِ عزیز میں عید تہوار کے موقع پر عوام کی اکثریت اپنے شہری حقوق و فرائض کے سلسلے میں غفلت برتتی ہے جس کی وجہ سے ان تہواروں کا اصل حسن گہنا جاتا ہے۔ ِخاص طور پر عید قرباں اور صفائی کا بہت گہرا تعلق ہے۔ بلا شبہ قربانی ایک بہت اہم دینی فریضہ ہے لیکن دیکھنے میں آیا ہے کہ ہم بحیثیت قوم ایک دینی فریضے کی ادائیگی کے دوران دوسرے اہم ترین دینی فریضے یعنی صفائی کو بالکل بھول جاتے ہیں جو کہ نصف ایمان کا درجہ رکھتی ہے۔ ہر سال لاکھوں جانور قربان کئے جاتے ہیں اور قربانی کے بعد ان جانورں کا خون اور دیگر آلائیشیں سڑک کے کنارے ڈال دی جاتی ہیں۔ اس وجہ سے ماحول میں شدید تعفن پھیل جاتا ہے اور اکثر وبائی امراض بھی پھیل جاتے ہیں۔ یاد رکھیں عید کے موقع پر صفائی کا خیا ل رکھنا صرف انتظامیہ کی ذمہ داری ہی نہیں ہے بلکہ یہ ہر شہری کی انفرادی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے ارد گرد کے ماحول کو صاف ستھرا رکھ کر اپنے اور دوسروں کے لیے آسانیاں پیدا کرے۔ دوسری اہم بات قربانی کی کھالوں کو سنبھالنا ہے جس میں اکثر لوگ کوتاہی کر جاتے ہیں۔ قربانی کے جانور کی کھالیں کئی کئی گھنٹے گھر کے باہر پڑی رہتی ہیں۔ یہ کھالیں ایک طرف تو دیگر آلائیشوں کی طرح تعفن میں اضافے کا باعث بنتی ہیں تو دوسری طرف گرمی کے موسم میں دیر تک پڑے رہنے سے کھال خراب ہو کر قابل ِ استعمال یا قابلِ فروخت نہیں رہتی۔ ایک اندازہ کے مطابق ہر سال تقریباً 25فیصد کھالیں ضائع ہو جاتی ہیں جس سے کروڑوں روپے کا نقصان ہوتا ہے۔

تیسری اہم ذمہ داری ان کھالوں کو درست حقدار تک بروقت پہنچانا ہے۔ کہتے ہیں قطرے قطرے سے دریا بنتا ہے اس طرح ایک ایک کھال کر کے اربوں روپے مالیت کی لاکھوں کھالوں کی فروخت سے ہزاروں افراد کا بھلا ہو جاتا ہے۔ ایک اخباری رپورٹ کے مطابق گزشتہ برس عید الاضحی پر پاکستان بھر میں تقریباً ساڑھے چھ ارب روپے کی کھالیں فروخت ہوئی تھیں جو کہ ایک بہت بڑی رقم ہے۔ اس عید کے موقع پر بہت سی تنظیمیں قربانی کی کھالیں جمع کرتی ہیں تا کہ انہیں بیچ کر اپنے ادارے چلا سکیں۔ ان میں سے اکثر اداروں کی کارکردگی سے کوئی بھی واقف نہیں ہوتا، لیکن بہت سارے لوگ صرف اپنی جان چھڑانے کے لیے کسی کو بھی قربانی کی کھال دے دیتے ہیں۔ یہ ایک غلط طرز عمل ہے قربانی کی کھال ہمیشہ کسی مستند ادرے کو ہی دینی چاہئے۔

پاکستان میں ایسے بہت سے فلاحی ادارے کام کر رہے ہیں جن کی کارکردگی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں اور ان پر اعتبار کیا جا سکتا ہے۔ ایسا ہی ایک ادارہ شوکت خانم میموریل کینسر ہسپتال اور ریسرچ سنٹر ہے جو کہ ہر سال قربانی کی کھالیں جمع کرنے کا انتظام کرتا ہے اور ان سے حاصل کردہ رقم کینسر کے مریضوں کے مفت علاج پر خرچ کی جاتی ہے۔ یہ ایک طرح کا دہرا ثواب ہے کہ اللہ کے حضور قربانی بھی کی جائے اور اس قربا نی کی کھال سے کسی کی جان بچانے کے مشن میں اپنا حصہ بھی ڈال دیا جائے۔ تو اس عید پر جس آخری بات کا آپ نے خیال رکھنا ہے وہ کھالوں کی درست ادارے تک بروقت رسائی کا ہے۔ سب سے بہتر تو یہ ہے کہ یہ کھالیں شوکت خانم میموریل کینسر ہسپتال جیسے اداروں کو دی جائیں تاکہ ان سے حاصل ہونے والی رقم کینسر میں مبتلا کسی مریض کی زندگی بچانے میں کام آسکے۔ ہسپتال کے سینکڑوں رضا کار ہر سال ملک بھر میں گلی گلی سے کھالیں جمع کرتے ہیں لیکن آپ رضاکاروں کے انتظار میں نہ رہیں بلکہ اس عید کے دن جانور کے ساتھ اپنے وقت کی قربانی بھی دیتے ہوئے جانور کی کھال اپنے علاقے میں موجود کیمپ پر خود چھوڑ کر آئیں تاکہ کھال خراب ہونے سے قبل ہی درست ہا تھوں میں پہنچ جائے۔

میڈیا سیل،شوکت خانم ہسپتال

مزید : رائے /اداریہ