" اب کوئی بھارتی مصنوعات پاکستان کے راستے افغانستان بھی نہیں جاسکتیں" حکومت نے واضح اعلان کردیا

" اب کوئی بھارتی مصنوعات پاکستان کے راستے افغانستان بھی نہیں جاسکتیں" حکومت ...

  


اسلام آباد (ویب ڈیسک) پاکستان نے بھارتی مصنوعات کی واہگہ بارڈر کے راستے افغانستان ترسیل کا امکان مسترد کردیا ہے اور مشیر تجارت عبدالرزاق داﺅد نے کہا ہے کہ ٹرانزٹ ٹریڈ سہ فریقی نہیں، افغانستان واہگہ بارڈر کے راستے بھارت تک رسائی مانگ رہا تھاجبکہ افغانستان کو اس معاملے پر مزید بات کرنے سے روک دیا ہے، رواں ماہ کے آخرمیں کابل کادورہ کروںگا، افغانستان کے ساتھ صرف دو طرفہ تجارت پر بات ہوگی ، افغان ٹرانزٹ ٹریڈ سے مقامی صنعت کو نقصان نہیں ہونے دیں گے، ہم دنیا کے دیگر ممالک کے معاہدوں پر بھی غور کر رہے ہیں، افغان ٹرانزٹ سے پاکستان میں پنسل انڈسٹری بند ہو گئی، بھارت کے تجارت پر سوچ سمجھ کر فیصلہ کریں گے.روزنامہ جنگ کے مطابق انہوں نے کہا کہ کاروباری طبقے کو ہر معاملے میں ملوث نہیں کرنا چاہیے تاہم حکومت معیشت کو دستاویزی شکل دینے سے پیچھے نہیں ہٹے گی،ہر کسی کو ٹیکس دینا ہو گا۔ بدھ کو پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ نیب ہر کاروباری شخص کیخلاف کارروائی کیلئے نہیں بنا تھا، صنعتکاروں و کاروباری طبقے کیخلاف نیب کی کارروائیوں کا معاملہ وزیر اعظم کے سامنے اٹھایا ہے، یہ سلسلہ اب بند کرنا پڑے گا۔ عبدالرزاق داﺅد نے کہا کہ گزشتہ دنوں کوریا کا دورہ کافی کامیاب رہا کوریا کے ساتھ ورکنگ گروپ سطح پر مذاکرات کرنے کا فیصلہ کیا ہے کوریائی بزنس مینوں اورکمپنیوںکے حکام سے بھی ملاقاتیںہوئی جن میں 30 ٹیکسٹائل کمپنیاںشامل ہیں بلکہ ایک ٹیکسٹائل کمپنی نے توفوری طور پر پاکستان میں سرمایہ کاری کیلئے حامی بھرلی جبکہ مزیدتین کمپنیوںنے بھی پاکستان میں سرمایہ کاری کیلئے خواہش ظاہر کی ہے، پاکستان کی کوریا کیلئے برآمدات کا حجم 30 کروڑ ڈالر سالانہ جبکہ درآمدات 60 کروڑ ڈالر سالانہ ہیں جو پاکستان کیلئے نقصان دہ ہے ، اس کے برعکس کوریانے ویتنام ، بنگلہ دیش، بھارت اور کمبوڈیا کو ڈیوٹی فری رسائی دے رکھی ہے جبکہ پاکستانی مصنوعات کیلئے 13 فیصدڈیوٹی ہے۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان کے ساتھ دوطرفہ تجارت کی بحالی کیلئے افغان صدراشرف غنی سے مثبت بات چیت ہوئی تھی جس کے نتیجے میں گزشتہ دنوںافغان ٹیم اسلام آباد آئی تھی اور بتایا کہ ان کی حکومت پاکستان کے ساتھ ترجیحی تجارتی معاہدے پربات چیت کرناچاہتی ہے، اب مشیر تجارت کی سربراہی میں پاکستان کا وفد20 سے 30 اگست کے درمیان کابل کے دورے پرجائے گا جہاں ہم افغان حکومت سے افغان ٹرانزٹ ٹریڈپربات کریں گے کیونکہ جس طرح افغان ٹرانزٹ ٹریڈچل رہی ہے اسطرح پاک افغان دوطرفہ تجارت ہمارے لیے فائدہ مند نہیں، پاکستان کا دورہ کرنے والی افغان ٹیم سے بھی کہا تھا کہ افغان درآمدکنندگان بہت بڑی تعداد میں ریزر، جوتوںکی پالش اور ٹی وی درآمدکرتے ہیں جو افغانستان کی ضرورت سے کافی زیادہ ہوتے ہیں۔ مشیر امور تجارت رزاق داﺅد نے مزید کہا کہ افغانستان واہگہ بارڈر کے راستے بھارت تک رسائی مانگ رہا تھا جبکہ افغانستان کو اس معاملے پر مزید بات کرنے سے روک دیا ہے۔

مزید : علاقائی /اسلام آباد


loading...