مون سون میں جانی و مالی نقصان کےاعدادو شمار جاری،بارشوں اور سیلاب سے پاکستان میں اتنے افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھےکہ آپ بھی ہل کر رہ جائیں گے

مون سون میں جانی و مالی نقصان کےاعدادو شمار جاری،بارشوں اور سیلاب سے ...
مون سون میں جانی و مالی نقصان کےاعدادو شمار جاری،بارشوں اور سیلاب سے پاکستان میں اتنے افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھےکہ آپ بھی ہل کر رہ جائیں گے

  


لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن)قدرتی آفات سے نمٹنے والے ادارے نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی نے مون سون سے ہونے والے جانی و مالی نقصان کے اعدادوشمار جاری کر دئیے ہیں  جس کے مطابق بارشوں اور سیلاب سے   خیبر پختونخوا ہ سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے۔

ترجمان این ڈی ایم اے کے مطابق یکم جولائی سے 8اگست تک ہونے والی بارشوں اور سیلاب کے نتیجے میں مجموعی طور پر 139 افراد جاں بحق ہوئے۔مون سون کے ابتدائی 39 دنوں میں 115 افراد زخمی ہوئے جب کہ 186 گھروں کو جزوی نقصان پہنچا اور 117 مکمل طور پر تباہ ہوئے۔متعلقہ محکمے نے بارشوں اور سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں 770 خیمے اور 1095کمبل تقسیم کیے۔محکمہ موسمیات نے پیش گوئی کی ہے کہ رواں برس مون سون کے دوران معمول سے زیادہ بارشوں کا امکان ہے جس کے سبب نقصان کا خطرہ ہے۔این ڈی ایم اے نے مون سون کے دوران طغیانی اور لینڈ سلائیڈنگ کے نتیجے 39 اضلاع کے شدید متاثر ہونے کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔گلگت بلتستان کے9، پنجاب کے6، بلوچستان کے6، سندھ کے13 اور آزاد کشمیرکے 5 اضلاع بھی متاثر ہو سکتے ہیں۔رپورٹ کے مطابق صوبہ پنجاب کے جنوبی اضلاع ڈیرہ غازی خان اور راجن پور انتہائی زیادہ متاثر ہونے کا امکان ہے۔اسی طرح صوبہ سندھ میں دادو، گھوٹکی، جامشورو، خیرپور، لاڑکانہ، قمبرشہدادکوٹ، سجاول اور ٹھٹھہ انتہائی زیادہ متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔رپورٹ میں بتایا گیاہے کہ صوبہ بلوچستان میں جعفرآباد، صحبت پور اور نصیرآباد انتہائی زیادہ متاثر ہوسکتے ہیں۔صوبہ خیبرپختونخوا ہ میں چارسدہ، ڈیرہ اسماعیل خان، پشاوراور شانگلہ انتہائی زیادہ متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔

مزید : علاقائی /پنجاب /لاہور


loading...