نریندر مودی کے کشمیریوں کے خلاف اقدامات ’’غزوہ ہند ‘‘کا آغاز بن سکتے ہیں:حافظ حسین احمد

 نریندر مودی کے کشمیریوں کے خلاف اقدامات ’’غزوہ ہند ‘‘کا آغاز بن سکتے ...
 نریندر مودی کے کشمیریوں کے خلاف اقدامات ’’غزوہ ہند ‘‘کا آغاز بن سکتے ہیں:حافظ حسین احمد

  


کوئٹہ(ڈیلی پاکستان آن لائن)جمعیت علمائے اسلام ف  کے مرکزی رہنما اورسابق رکن پارلیمنٹ حافظ حسین احمد نے کہا ہے کہ نریندر مودی کے کشمیریوں کے خلاف اقدامات ’’غزوہ ہند ‘‘کاآغازبن سکتے ہیں،مریم نواز کی گرفتاری سے یکجہتی کی فضا کو ثبوتاژ کیا جارہا ہے،حکومت اوراپوزیشن انا کو ختم کرکے اتحاد کا مظاہرہ کرے،دفاعی ادارے بلا تاخیر تمام رہنماؤں کو صورتحال سے آگاہ کریں،حکومت اور اپوزیشن کے مشترکہ وفود ہمسایہ اور دوست ممالک کو بھیجیں جائیں۔

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئےحافظ حسین احمد کا کہنا تھا کہ مریم نواز کی اس وقت گرفتاری سے مسئلہ کشمیرپرجوتھوڑی بہت یکجہتی کی فضا تھی اس کوثبوتاژ کرنے کی کوشش کی گئی، حکومت  خود سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کررہی اورالزام اپوزیشن پر لگا یاجارہا ہے، موجودہ صورتحال میں حکومت کو ایسے اقدامات سے گریز کرنا چائیے تھا، انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں دونوں جانب سے جو تقاریر کی گئی وہ کشمیریوں کے دکھوں کا مداوا نہیں کرسکتی، اصل صورتحال سے آگاہی کے لیے دفاعی اداروں کو آگے بڑھنا ہوگا اور انہیں تمام سیاسی رہنماؤں کو اصل صورتحال کے متعلق بریفنگ دینا ہوگی، اس وقت موثر اوربھرپور اقدام کی ضرورت ہے اور فوری طور پر دفاعی ادارے بلا تاخیر تمام رہنماؤں کو صورتحال سے آگاہ کریں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اور اپوزیشن پر مشتمل وفود فوری طور پر ہمسایہ اور دوست ممالک کوبھیجیں جائیں کیوں کہ ملک کے اندر یکجہتی اور ہم آہنگی کے ذریعے ہی کشمیر کے مظلوم عوام کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا جاسکتا ہے، اب وقت آگیا ہے کہ آج،ابھی یا کبھی نہیں کی بنیاد پر کشمیر کا مسئلہ حل ہوسکتاہے۔ انہوں نے کہا کہ حضورﷺ کی احادیث کے مطابق غزوہ ہند نے ہونا ہے لیکن کیا اس کے لیے امت مسلمہ ذہنی طور پر تیار ہے؟ نریندر مودی کے کشمیریوں کے خلاف اقدامات ’’غزوہ ہند ‘‘ کا آغاز بن سکتے ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں حکومت اور اپوزیشن دونوںطرف سے غیر سنجیدگی کا مظاہرہ کیا جارہا ہے اور اس کے منفی اثرات ضرور رونما ہونگے،ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ دونوں جانب سے بیک وقت مشترکہ لائحہ عمل کے لیے بات کی جاتی اور عملی اقدامات کے لیے مثبت تجاویز دی جاتی، کشمیریوں کے لیے پارلیمنٹ کے دونوں جانب بیٹھنے والے اگر اپنی انا کو ختم نہیں کریں گے تو ان کے بلند و بانگ دعوؤں اور پرجوش تقاریر کا کوئی اثر نہیں ہوگا ،حکومت کو بہرحال پہل کرنا ہوگی اور اپوزیشن کو بھی اپنی ذمہ داریوں کا احساس کرنا ہوگا۔

مزید : علاقائی /بلوچستان /کوئٹہ


loading...