ایف بی آر نے پاکستانیوں کے 7 ارب ڈالر کا پتہ چلالیا، کارروائی کب سے شروع ہوگی؟ اسد عمر نے تہلکہ مچادیا

ایف بی آر نے پاکستانیوں کے 7 ارب ڈالر کا پتہ چلالیا، کارروائی کب سے شروع ہوگی؟ ...
ایف بی آر نے پاکستانیوں کے 7 ارب ڈالر کا پتہ چلالیا، کارروائی کب سے شروع ہوگی؟ اسد عمر نے تہلکہ مچادیا

  


اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن)چیئرمین ایف بی آر نے انکشاف کیا ہے کہ پاکستانیوں کے بیرون ممالک میں سات سے آٹھ ارب ڈالر کا پتہ لگا لیا ہے، اسدعمر کے مطابق ٹیکس ریٹرن فائل نہ کرنیوالوں کے خلاف 31اکتوبر کے بعد ایکشن لیا جائیگا ۔

تفصیلات کے مطابق چیئر مین ایف بی آر نے کہا ہے کہ پاکستانیوں کے بیرون ممالک میں سات سے آٹھ ارب ڈالر کا پتہ لگا لیا ہے، 53 افراد کا ڈیٹا متعلقہ ممالک کو بھیجا گیا ہے جبکہ مجموعی طور پر 1227 افراد کا ڈیٹا اور ریکارڈ تلاش کیا جا رہا ہے۔

اسد عمر کی زیر صدارت قائمہ کمیٹی خزانہ کا اجلاس ہوا اجلاس میں ایف آر نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ او ای سی ڈی کے ساتھ 2016 میں معاہدہ کیا گیا۔2018 میں 28 ممالک کے ساتھ ٹیکس معلومات کا تبادلہ کیا گیا ہے 57 ہزار 450 پاکستانیوں کے آف شور اکاونٹس کا ڈیٹا مل چکا ہے 378 افراد کے اکاونٹس میں 10 لاکھ ڈالرز سے زیادہ ہے 378 افراد کے پاس 80 فیصد سرمایہ ہے154 افراد کے پاس 5 سے ساڑھے سات لاکھ ڈالرز موجود ہیں 123 افراد کے پاس 7 لاکھ 50 ہزار سے 10 لاکھ ڈالرز موجود ہیں 1325 افراد کے پاس 5 سے 10 لاکھ ڈالرز موجود ہیں۔378میں سے 325 افراد کے کیسز آف شور کمشنرز کو بھیجے گئے مجموعی طور پر 1227 افراد کے ڈیٹا اور ریکارڈ کی تلاش جاری ہے ،اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اسد عمر نے بتایا کہ ایف بی آر نے پاکستانیوں کے بیرون ملک 7 ارب ڈالر کے قریب اثاثوں کا پتہ چلایا ہے۔ ایک ملین ڈالر سے زیادہ کے 378 اکاونٹ ہیں اور ان کے اندر 5 ارب ڈالر کے قریب رقم موجود ہے۔ ایف بی آر نے ٹیکس ریٹرن فائل کرنے کیلئے 31 اکتوبر کی ڈیڈ لائن رکھی ہے جس کے بعد ٹیکس قانون کے تحت ان لوگوں کے خلاف ایکشن لیا جائے گا۔

مزید : قومی


loading...