ایک مندر سے اگلی ہندتوائی منزل 428 مندر؟  (2)

ایک مندر سے اگلی ہندتوائی منزل 428 مندر؟  (2)
ایک مندر سے اگلی ہندتوائی منزل 428 مندر؟  (2)

  

 ہندوستان سے آئے اپنے ایک دوست اور چوٹی کے عالم دین اور  علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے پروفیسر سے میں نے استفسار کیا کہ وہاں بھارت میں یوگا پر مسلمان کس انداز میں سوچتے ہیں۔ جواب ملاحظہ ہو:" اماں شہزاد صاحب! کیا بات کرتے ہیں، سب بدمعاشی ہے. اپنے ہاں کے بدمعاش ہی ان جگہوں پر جاتے ہیں۔ یہ کہہ کر انہوں نے ناگواری سے بات کا رخ بدل دیا۔مجھے قدرے الجھن تو ہوئی لیکن شہر کے بڑے بڑے بنگلوں میں قائم خاموش یوگا سینٹر، ان کے مشٹنڈے ٹرینر اور سکون اور حصولِ لذت کے متلاشی لڑکے لڑکیوں اور خواتین و حضرات نے مجھے بہت کچھ سوچنے پر مجبور کر دیا۔ یوگا کے بارے میں یہ میری ایک رائے ہے۔ اس کے پہلو بہ پہلو اچھا خاصا تناسب ان افراد کا بھی موجود ہے جو اس عمل کو ورزش اور سکون کا ذریعہ سمجھتے ہیں۔ یہ افراد نمازی اور دین دار بھی ہو سکتے ہیں۔ ان کی معلومات یا علم کی حدود، ان کے نزدیک حرفِ آخر ہوا کرتی ہیں۔ یہ لوگ کچھ سننے سمجھنے پر راضی نہیں ہوتے۔ یوگا کے بارے میں ان کا فرمان حرف آخر کے درجے پر فائز ہوتا ہے۔ایسے افراد کو معصوم گردانتے ہوئے آرٹ آف لو نگ سنٹر کے مشن اسٹیٹمینٹ میں روی شنکر کا پیغام ملاحظہ ہو: "محبت اور دانش, نفرت اور تشدد پر غالب آ سکتے ہیں ". کیا یہ  بیان گاندھی کے نام نہاد فلسفہ عدم تشدد کا بالفاظ دیگر بیان نہیں ہے؟ اسی مشن اسٹیٹمینٹ میں گاندھی جی کے تذکرے کے ساتھ روی شنکر کے پیشِ نظر دنیا بھر میں ایک عالمگیر روحانی کنبے کی تشکیل ہے جس میں مختلف نسلوں، مذاہب، رہن سہن، معاشی اور معاشرتی اکائیوں کے لوگ ہوں گے۔ یہی بیان ذرا سے دیگر الفاظ میں امت مسلمہ کی تشکیل کے لئے بھی استعمال ہوسکتا ہے۔ لیکن آرٹ آف لونگ سینٹر کے کسی فارغ التحصیل سے عالمگیر امت مسلمہ کی تشکیل پر بات شروع تو کر کے دیکھیں، آپ کو کان دبا کر بھاگنا پڑے گا۔

بنی گالا سنٹر جلنے کے بعد اس نام سے پاکستان میں ان لوگوں کا بظاہر تنظیمی ڈھانچہ تو موجود نہیں ہے لیکن مساج سنٹر وں، بیوٹی پارلروں، جموں اور اس نوع کی دیگر جگہوں میں یوگا کی تربیت دینے والے سینکڑوں ہزاروں ادارے موجود ہیں۔ صرف راولپنڈی اسلام آباد کا جائزہ لیں تو یہاں کے اشرافی علاقوں میں ایسے درجنوں سینٹر ہیں جو خواتین و حضرات کے جسمانی پیچ و خم کو یوگا ورزشوں کے ذریعے دیدہ زیب بنانے کا دعوی کرتے ہیں۔ پچھلے کئی عشروں سے یوگا کی مختلف النوع تربیت دینے والے ان اداروں سے فارغ التحصیل ہزاروں لاکھوں خواتین وحضرات پاکستان کے ہر ریاستی ادارے میں موجود ہیں۔ چنانچہ شہناز من اللہ کی کوششوں سے روی شنکر کو چھ ہفتوں کی بجائے صرف چھ دن میں پاکستانی ویزا مل جانے پر مجھے کچھ تعجب نہیں ہوا۔ یہ تو اس ابتدائی ہندوتوائی برادری کے اثر و رسوخ کی وہ ہلکی سی جھلک ہے جو کبھی کبھی پڑھنے سننے کو مل جاتی ہے۔ ہمارے ریاستی اداروں میں ہندو ملازمین کا تناسب کتنا ہے؟ جتنا بھی ہے، اتنا نہیں کہ کسی مسلمان کے کان کھڑے ہو جائیں۔ تو پھر ملک بھر میں پرانے، بوسیدہ، متروکہ اور علاوہ ازیں غیر مستعمل 428 مندروں کی بحالی کا منصوبہ کیا وزیراعظم عمران خان کے اپنے ذہن کی اختراع ہے؟ قبلہ گاہی، وزیراعظم تو پورے ملک اور ملک سے باہر ہزاروں لاکھوں امور کے متعلق صرف فیصلے کرتا ہے۔ تو 428  مندروں کی یہ فہرست کس نے بنائی تھی؟ ان مندروں کا سروے کس نے کیا, یا کرایا تھا؟ ان مندروں کی بحالی کے لیے دلائل کس نے تراشے؟ ان  کی بحالی کے وسائل کی وضع کردہ تجاویز کس ذہن کی اختراع ہیں؟ ان کی بحالی کے لیے اربوں روپے ریاستی خزانے ہی سے آئیں گے, تو اربوں کی فراہمی پر یقین دہانی کس نے کرائی؟ یہ وہ چند سوال ہیں جن کا جواب محض "وزیراعظم" نہیں ہو سکتا. یہ کام واقعتاً کسی ٹیم کا ہے جس نے ریاستی فیصلہ سازوں کو یہ یقین دلا رکھا ہے کہ ان 428 مندروں کی بحالی سے ملک میں مذہبی سیاحت(Religious tourism) کو فروغ حاصل ہوگا, کروڑوں ڈالر زرمبادلہ حاصل ہوگا, خوش حالی آئے گی، ملک ترقی کرے گا وغیرہ وغیرہ۔ 

یہ ٹیم اور ٹیم میں کام کرنے والے لوگ کون ہیں؟ کون اس معمولی سے عمل کو ریاستی منظوری کی سطح پر لانے میں کامیاب ہو چکے ہیں؟ قبلہ گاہی!  پچھلے دو عشروں سے یہ ہندتوائی مخلوق یوگا مشقوں کے پردے میں ہماری اشرافیہ کے اندر نقب لگا کر محبت کی بنیاد پر جو عالمگیر روحانی معاشرہ تشکیل دینے کے لئے کوشاں ہے، مان لیجئے کہ اس مخلوق کو خاصی کامیابی حاصل ہو چکی ہے۔میں اصرار کروں گا کہ یہ ہندتوائی مخلوق ہمارے ریاستی اداروں اور اشرافیہ کے اندر کھاتے پیتے افراد کاایک "عالمگیر روحانی کنبہ" ہے، بے پناہ اثرورسوخ رکھنے والا کنبہ۔ ورنہ 428 مندروں کی بحالی کا منصوبہ 95  فی صد عوام کے سامنے رکھ کر دیکھئے، وہ  بالاجماع آپ کو پاگل خانے میں داخل کرانے پر اصرار کریں گے۔ چنانچہ اسلام آباد میں ایک مندر کی تعمیر کوانسانی حقوق سے منسلک کرکے اسے جائز کہنے والے مجتہدین اور مندر مخالف دونوں قسم کے مسلمانوں سے گزارش ہے کہ میری ان معروضات پر ذرا غور کرلیں۔ کیا یہ صرف ایک مندر کی تعمیر کا مسئلہ ہے یا اس تجربے کے بعد باقی 428 مندروں کی بحالی کا ہندتوائی منصوبہ ہمارے متفق علیہ نظریہ پاکستان پر حملہ کرنے جا رہا ہے. اس پر اور  یوگا پر انشااللہ اگلی دفعہ بات ہوگی۔ (باقی آئندہ)

مزید :

رائے -کالم -