ٹیکسوں کی ہم آہنگی کا مسئلہ حل ہو جائے گا، سیکرٹری خزانہ پنجاب

  ٹیکسوں کی ہم آہنگی کا مسئلہ حل ہو جائے گا، سیکرٹری خزانہ پنجاب

  

لاہور(پ ر)’اقتصادی اثر، ہم آہنگی اور مستقبل  (Economic Impact, Harmonisation and Future Orientation)‘ کے عنوان سے کاروباری کمیونٹی کے نمائندوں، پیشہ ورانہ تنظیموں اور حکومتی نمائندوں پر مشتمل اعلیٰ سطح کا ایک ورچوئل پوسٹ-بجٹ سمینار منعقد ہو ا جس میں پنجاب کے صوبائی بجٹ  2020-21 کا جائزہ لیا گیا اور اقتصادی مواقع کی نشاندہی کے ساتھ مستقبل سے تعلق رکھنے والی سفارشات بھی پیش کی گئیں۔اس آن لائن سیمینار کا اہتمام دی ایسوسی ایشن آف چارٹرڈ سرٹیفائیڈ اکاؤنٹنٹس(The Association of Chartered Certified Accountants; ACCA) نے کیا تھا جس میں لاہور ٹیکس بار ایسوسی ایشن (ایل ٹی بی اے)، پنجاب ریونیو اتھارٹی(پی آر اے)، انسٹی ٹیوٹ آف کاسٹ منیجمنٹ اکاؤنٹنٹس آف پاکستان (آئی سی ایم اے پاکستان) اور لاہورایوان صنعت و تجارت (ایل سی سی آئی) کے نمائندوں نے شرکت کی۔اس موقع پر پنجاب کے سیکریٹری خزانہ، محمد عبداللہ خان سنبل مہمان خصوصی تھے جنہوں نے حکومتی نکتہ نظر پیش کیا اورون-ٹو-ون سوال اور جواب کے سیشن میں کاروباری کمیونٹی اور ٹیکس پروفیشنلز کی جانب ظاہر کیے گئے خدشات کا جواب دیا۔سمینار میں ایک انتہائی انٹرایکٹو، مستقبل سے تعلق رکھنے والی پینل گفتگو بھی شامل تھی جس میں ماڈریٹر کے فرائض اے سی سی اے گلوبل ٹیکس فورم کے رُکن اور اے سی سی اے ایم این پی اینڈ ٹیکس کمیٹی، عمر ظہیر میر ایف سی سی اے نے انجام دئیے۔ گفتگو میں جن اہم شخصیات نے حصہ لیا اْن میں ٹیکس اکنامسٹ، پنجاب ریونیو اتھارٹی (پی آر اے) جاوید احمد، چیئرمین، قائمہ کمیٹی برائے ٹیکسیشن، لاہور ایوان صنعت و تجارت(ایل سی سی آئی)، کاشف انور، صدر لاہور ٹیکس بار ایسوسی ایشن (ایل ٹی بی اے) خرم شہباز بٹ، اے سی سی اے پاکستان کے ہیڈ، سجید اسلم اور آئی سی ایم اے پاکستان کے صدر ضیاء المصطفیٰ شامل تھے۔

وفاقی اور صوبائی ٹیکسوں کے درمیان  ہم آہنگی کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے اے سی سی اے پاکستان کے ہیڈ، سجید اسلم نے کہا:”سروس سیکٹر کے لیے یہ بات آسان بنانے کے لیے کہ وہ ملکی نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کرتا رہے اور براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری  کی ترغیب کی غرض سے اس بات کی فوری ضرورت ہے کہ پالیسی ساز اس سیکٹر کی حقیقی ضرورتوں کوسمجھیں اور صوبوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ ایک ایسا میکانزم متعارف کرائیں جو ٹیکس ریفنڈز کی ایڈجسٹمنٹ میں سہولت فراہم کرے اور تمام صوبوں کے درمیان ٹیکس کے نرخوں میں ہم آہنگی پیدا کرے۔“

اپنے خطاب میں پنجاب کے سیکریٹری خزانہ، محمد عبداللہ خان سنبل نے کہا:”اس حقیقت کے باوجود کہ آئی ایم ایف کی شرائط  دشوار رہیں گی جن کے لیے محصولات  پیدا کرنے اور اخراجات کے انتظام کی ضرورت ہے، پنجاب کے بجٹ برائے 2020-21 ایک کاروبار دوست اور مستقبل سے ہم آہنگ بجٹ ہے جس میں تمام بڑے فریقین کی آراء شامل ہیں۔ صوبائی حکومت نجی شعبے کی اعانت کے لیے پر عزم ہے تاکہ اسے روزگا ر کے نئے مواقع پیدا کرنے کے قابل بنایا جا سکے اور یہ وفاقی حکومت کی کوششوں سے بھی ہم آہنگ ہے لہٰذا بڑے پیمانے تعمیراتی شعبے کو سہولت پہنچا رہی ہے۔پنجاب میں کاروبار کرنے میں آسانی (ease of doing business)  کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے بھی بڑے پیمانے پر کوششیں کی جارہی ہیں۔ ہم پہلاصوبہ ہیں جس نے پبلک-پرائیویٹ پارٹنرشن کو زیرو ریٹنگ دی ہے جس سے نجی شعبے کے لیے ہمار ی مدد ظاہر ہوتی ہے۔ہم سیلز ٹیکس کی بنیاد کو توسیع دینے کے لیے بھی کام کر رہے ہیں اور اس کی ہم آہنگی  اور تعاون یقینی بنانے کے لیے  وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے ساتھ بھی سرگرمی سے رابطے میں ہیں۔“

اپنے خطاب کے دوران سیکریٹری خزانہ نے یہ بھی بتایا کہ حکومت سمجھتی ہے کہ اقتصادی ترقی (Growth  Economic)کے مقابلے میں انسانی ترقی 

(Development  Human) زیادہ  مؤثر اشاریہ ہے، لہٰذاسماجی ترقی کے پروجیکٹس کو حاصل ترجیح برقرار رہے گی جس کے تحت تعلیم اور صحت پر زیادہ 

سرمایہ کاری کی جائے گی۔

انہوں نے اس امید کا اظہار بھی کیا کہ ٹیکسوں کے درمیان ہم آہنگی کا مسئلہ بھی موجودہ مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں ہی حل ہو جائے گا اور ہم توقع کر سکتے ہیں کہ وفاق اور صوبوں کے درمیان اتفاق رائے پیدا ہو جائے گا تاکہ نئے خیالات کو جگہ دینے کیلیے ایک قابل عمل فریم ورک تیار کیا جا سکے۔

پنجاب ریونیو اتھارٹی کیٹیکس اکنامسٹ، جاوید احمد نے کہا کہ پی آر اے تیزی سے ڈیجیٹائزیشن کی جانب جا رہی ہے تاکہ ٹیکس دہندگان کو سہولت فراہم کی جا سکے اور اس سلسلے میں کسی بھی قسم کی رْکاوٹوں کو دور کرنے کے لیے پرعزم ہے۔

لاہور ٹیکس بار ایسوسی ایشن کے صدر، خرم شہباز نے کریڈٹ کی سہولتوں کے خاتمے جیسی رجعت پسندانہ  اقدامات متعارف کرانے کے حوالے سے سوال کیا اور ساتھ ہی اس بات کی تعریف بھی کی کہ حکومت ترقی پسندانہ قانون سازی کے لیے پیشہ ور افراد کے ساتھ سرگرمی سے کام کر رہی ہے۔ 

کاروباری کمیونٹی کی نمائندگی کرتے ہوئے لاہور ایوان صنعت و تجارت کے کاشف انور نے کاروباری اداروں کو درپیش مشکلات کا تذکرہ کیا اور کاروبار- دوست اقدامات کی تجویز پیش کی جس میں ٹیکس دہندگنا کو زیادہ اہمیت دی گئی ہو۔ 

ورچوئل سیمینار کے شرکاء نے تمام فریقین کے درمیان رابطے اور سرگرمیوں سے بھرپورگفتگو میں سہولت فراہم کرنے اے سی سی اے کے کردار کو سراہا تاکہ پالیسی ساز براہ راست کاروباری کمیونٹی سے رابطہ کر سکیں اور تجارتی سرگرمیوں اور کارپوریٹ سیکٹر کی جدت کے لیے ایک سازگار ماحول پیدا کیا جا سکے۔

سیمینار کی ریکارڈنگ  https://www.facebook.com/watch/live/?v=631353594146514  پر دیکھی جا سکتی ہے۔

٭٭٭

For media enquiries, contact:

Rashid Khan

E: rashid.khan@accaglobal.com 

Twitter @ACCANews @ACCA_PK

www.accaglobal.com

Syntax Communications 

Faisal Mushtaq: 0321-2431568

Sheeraz Mohiuddin: 0333-2235774

About ACCA: 

ACCA is the Association of Chartered Certified Accountants. We're a thriving global community of 227,000 members and 544,000 and future members based in 176 countries that upholds the highest professional and ethical values.

We believe that accountancy is a cornerstone profession of society that supports both public and private sectors. That's why we're committed to the development of a strong global accountancy profession and the many benefits that this brings to society and individuals.

Since 1904 being a force for public good has been embedded in our purpose. And because we're a not-for-profit organisation, we build a sustainable global profession by re-investing our surplus to deliver member value and develop the profession for the next generation.

Through our world leading ACCA Qualification, we offer everyone everywhere the opportunity to experience a rewarding career in accountancy, finance and management. And using our respected research, we lead the profession by answering today's questions and preparing us for tomorrow.

Find out more about us at www.accaglobal.com

مزید :

کامرس -