کشتیاں جلا دیں، اب پیچھے مڑ کر نہیں دیکھنا، لاہور کو بچانے کیلئے راوی اربن ڈیو یلپمنٹ منصوبہ ضروری ، اس سے روزگار ملے گا، پیسے آئیں گے، آلودگی بھی کم ہو گی: عمرا ن خان

      کشتیاں جلا دیں، اب پیچھے مڑ کر نہیں دیکھنا، لاہور کو بچانے کیلئے راوی ...

  

 لاہور (جنرل رپورٹر، نمائندہ خصوصی، مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں) وزیراعظم عمران خان نے کہاہے کہ میں نے اب پیچھے مڑکر نہیں دیکھنا کیوں کہ میں نے ساری کشتیاں جلادی ہیں، حکومت نے 2 سال بہت مشکل سے گزارے، ملک کو ڈیفالٹ ہونے سے بچایا،، این آر او والے ہر جگہ اکٹھے ہوجاتے ہیں، این آر او دو تو مسئلہ کشمیر پر ساتھ دیں گے، کہا جاتا تھا کہ این آر او دو تو ایف اے ٹی ایف کا بل پاس کریں گے، این آر او دیں تو قانون سازی میں ساتھ دیں گے۔لاہور راوی ریور فرنٹ اربن ڈویلپمنٹ پراجیکٹ کا سنگ بنیاد رکھنے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ آلودگی خطرناک حد تک پہنچ چکی ہے، اس لئے ماڈرن شہر ناگزیر ہو چکا، اس منصوبے سے سرمایہ کاری کو بھی فروغ ملے گا۔وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ گزشتہ 15 سال میں لاہور کا پانی 800 فٹ نیچے چلا گیا، پنجاب میں زرعی علاقہ کم ہوتا جا رہا ہے۔ دریائے راوی ایک نالہ بن کر رہ گیا ہے۔ اس لئے راوی اربن ڈیویلپمنٹ منصوبہ ناگزیر ہو چکا ہے۔انہوں نے کہا کہ لاہور کو بچانا ہے تو راوی منصوبہ بنانا ہوگا۔ یہ منصوبہ نہ بنا تو لاہور کا حال کراچی جیسا ہو جائے گا۔ سیوریج کا پانی صاف کرکے راوی میں ڈالا جائے گا۔ راوی کے پاس بننے والے شہر کی عمارتیں اونچی بنائیں گے۔ اس منصوبے پر 50 ہزار ارب روپے لاگت آئے گی۔ان کا کہنا تھا کہ اس منصوبے میں اوورسیز پاکستانیوں کو سرمایہ کاری کیلئے بڑے مواقع دیئے جائیں گے۔ راوی اربن پراجیکٹ میں لوگوں کو روزگار ملے گا۔ کنسٹرکشن کمپنی کے ساتھ مزید 40 صنعتیں چلیں گی۔عمران خان کا کہنا تھا کہ یہ اسلام آباد کے بعد دوسرا منصوبہ ہوگا جہاں نیا شہر بننے جا رہا ہے۔ اس منصوبے کی کارکردگی کا خود جائزہ لوں گا۔ نئے بننے والے شہر کے اردگرد 60 لاکھ درخت اگائے جائیں گے۔ وزیراعظم کا کہنا تھا کہ 2004 سے کوشش کررہے تھے کہ یہ پراجیکٹ شروع ہولیکن نہیں شروع ہوسکا، چاہتے کہ  پاکستان میں جوپیسہ پڑا ہوا ہے وہ اس پراجیکٹ میں استعمال ہو۔ انہو ں نے کہا زمان پارک لاہور  میں رہتا تھا، آلودگی کہیں نہ تھی، لاہور اتنی تیزی سے پھیلا کہ زمان پارک جو باہر تھا شہر کے اندر آگیا، بچپن میں لاہور کا پانی بڑا میٹھا ہوتا تھا، آبادی بڑھنے سے آلودگی میں بہت اضافہ ہو چکا ہے، لاہور پھیلتا جا رہا ہے گرین ایریاز ختم ہوتے جا رہے ہیں، گندم کی کمی ہے، اس بار ڈیڑھ ملین ٹن گندم کم پیدا ہوئی، اس کی اور بھی وجوہات ہیں،پاکستان  میں کاٹن بہت زیادہ ہوتی تھی اب وہاں گنا لگنا شروع ہو گیا، ہم نے دیکھا  کہ آہستہ آہستہ لاہور پھیلتا گیا، لاہور میں منصوبہ بندی کے بغیرسوسائٹیز بن رہی ہیں  جونقصان دے رہی ہیں، شہر جس قدر پھیلتا جا رہا ہے لوگوں کو گیس، سیوریج پہنچانا ممکن نہیں ہوتا ، وزیر اعظم   نے کہا جدید شہر پھیلتے نہیں وہ اوپر کی طرف جاتے ہیں، حکومت کیلئے  اوپر کی طرف جانیوالے شہروں کو سہولتیں فراہم کرناآسان ہوتا ہے، نئے شہر میں بیراج بنیں گے، ٹریٹ کرکے صاف پانی دریا میں جائے گا، اس طرح دریا کا پانی بھی بڑھ جائے گا، نئے لاہور کو ماحولیاتی آلودگی مد نظررکھ کر بنایا جائے گا ،اس پراجیکٹ سے ملنے والے پیسوں  سے ہم قرضے ادا کر سکیں گے،یہ آسان نہیں ایک مشکل پراجیکٹ ہے جس میں بڑی مشکلات آئیں گی، اپنی ٹیم کونصیحت کی ہے کہ پیچھے نہیں جانا، کشتیاں جلا دی ہیں،اس منصوبے کو ہر حال میں مکمل کرناہے، اللہ تعالیٰ نے انسان کو بہت سی صلاحیتیں دے رکھی ہیں، ہمارے لیے ناکامی کا کوئی آپشن نہیں ہے،خود اس پراجیکٹ کو مانیٹر کروں گا، اس پراجیکٹ کو جلد شروع کرنے  کیلئے وفاقی ، صوبائی حکومتیں مل کر کام کرینگی، وزیر اعظم   نے کہا ابھی تک میٹرو اور اورنج لائن جیسے پراجیکٹ تیار کیے گئے ،ایسے منصوبوں سے پیسہ نہیں ملتا، 28  ارب سبسڈی دینا پڑتی ہے،ریور راوی پراجیکٹ سے معیشت کا پہیہ چلنا شروع ہو جائے گا ،ہمارا نیا ہاؤسنگ پراجیکٹ بھی ساتھ چلتا رہے گا، اب وہ وقت آ گیا ہے کہ یہ ملک انشاء اللہ اب ترقی کرے گا آگے بڑھے گا،۔   وزیر اعظم  نے کہا اللہ پاک  نے ہمارے ملک پر کرم کیا اور کورونا کے عذاب سے بچایا،انسان صرف کوشش کرتا ہے باقی مدد اللہ تعالیٰ کرتا ہے،کورونا کے کیسز میں کمی کے باوجود احتیاط جاری رکھنی چاہیے۔وزیراعظم عمران خان نے پنجاب میں پولیس اور پٹواری کلچر میں کرپشن پر سخت برہمی کا اظہار کیا  اور کہا کہ،تعمیراتی سیکٹر میں سرمایہ کاری کرنے والوں کو ہر قسم کی آسانیاں فراہم کی جائیں،کرپشن کی وجہ سے بھی معیشت کو بے حد نقصان پہنچا ہے۔ اسی وجہ سے ہماری حکومت نے کرپشن کے خلاف جہاد شروع کیا۔وزیراعظم عمران  نے وزیراعلی پنجاب سردار عثمان بزدار نے ون ان ون  ملاقات کی جس میں پنجاب کی صورتحال، ترقیاتی منصوبوں سمیت مجموعی صورتحال پر تبالہ خیال کیا گیا۔ عمران خان نے پنجاب میں اتحادی جماعتوں کے مسائل پر عثمان بزدار سے رپورٹ لی۔وزیر اعظم نے وزیر اعلی سے ان کی نیب طلبی کی تفصیلات بھی  حاصل کیں، عثمان بزدار نے کورونا کی صورت حال اور ہاؤسنگ پراجیکٹس سے متعلق بریفنگ دی۔ عمران خان نے ہدایت کی کہ پنجاب میں ترقیاتی کاموں کو مزید تیز کیا جائے۔وزیر اعظم عمران خان کی زیر صدارت قومی رابطہ کمیٹی برائے ہاؤسنگ و تعمیرات کا اجلاس بھی ہوا۔اجلاس میں وفاقی وزراء سینیٹر شبلی فراز، حماد اظہر، مشیر وزیراعظم مرزا شہزاد اکبر، چیرمین نیا پاکستان ہاؤسنگ و ڈیویلپمنٹ اتھارٹی لیفٹینٹ جنرل (ر) انور علی حیدر، گورنر اسٹیٹ بینک رضا باقر، وزیر اعلی پنجاب سردار عثمان بزدار، پنجاب کے صوبائی وزیر میاں محمود الرشید، مشیرڈاکٹر سلمان شاہ، چیف سیکریٹری پنجاب، وائس چیرمین ایل ڈی اے اور سینئر افسران اجلاس میں موجود تھے۔ویڈیو لنک کے ذریعے معاون خصوصی ملک امین اسلم، چیرمین ایف بی آر، وفاقی سیکریٹریز برائے ہاوسنگ،  منصوبہ بندی، توانائی، پیٹرولیم، قانون، چیئرمین سی ڈی اے شریک ہوئے۔خیبر پختونخوا، سندھ، بلوچستان، آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان کے  چیف سیکریٹریز بھی ویڈیو لنک کے ذریعے شرکت کی۔چیف سیکریٹری سندھ اور خیبر پختونخوا  نے عوامی سہولت کے لیے قائم کردہ ون ونڈو آن لائن پورٹل کے اجرا کے حوالے سے بریفنگ دی۔ اجلاس کو آگاہ کیا گیا کے اس پورٹل کے اجرا سے کوئی بھی خواہشمند شہری کوئی بھی تعمیراتی منصوبہ شروع کرنے کے لیے آن لائن درخواست دے سکے گا۔ اس پورٹل سے انسانی مداخلت کم سے کم ہو گی اور ہر موقع پر درخواست میں پیش رفت کا پتہ چل سکے گا۔ مزید اس پورٹل سے متعلقہ افسران کی کارکردگی متعین کرنے کا موقع بھی ملے گا۔وزیرِ اعظم نے سندھ اور خیبرپختونخواہ کی جانب سے آن لائن پورٹل کے اجراء کو سراہا۔وزیرِ اعظم کو  راوی ریور فرنٹ اربن ڈیویلپمنٹ پراجیکٹ کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی گئی۔وزیر اعظم نے اس امر پر زور دیا کے تعمیرات سیکٹر میں سرمایہ کاری کرنے والوں کو ہر قسم کی آسانیاں فراہم کی جائیں تاکہ زیادہ سے زیادہ افراد اس شعبے میں دی جانے والی مراعات سے مستفید ہوں۔ آن لائن پورٹل کے اجرا سے اس حوالے سے مدد ملے گی۔وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ حکومت صنعتی شعبے کی ترقی 

پر بھرپور توجہ دے رہی ہے، کاروباری طبقے اور تعمیرات سیکٹر کومراعات سے ترقی آئے گی،چھوٹے اور درمیانی درجے کے کاروبار کے فروغ کے لیے بھی اقدامات کر رہے ہیں، صنعتی شعبے اور کاروباری سرگرمیوں کے فروغ کے لئے وفاقی حکومت ہر ممکن تعاون کرے گی۔وزیر اعظم عمران خان نے صوبہ پنجاب کے سول افسران بشمول انتظامی محکموں کے سیکریٹریز، کمشنرز، ڈپٹی کمشنرز، ریجنل پولیس افسران سے ویڈیو لنک خطاب کیا جس میں وزیر اعلی پنجاب، چیف سیکریٹری اور آئی جی پنجاب موجود تھے۔وزیر اعظم نے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کو مشکل معاشی صورتحال کا سامنا رہا۔ معیشت قرضوں کے بوجھ تلے دبی رہی۔ جس کی وجہ سے تعلیم، صحت اور ترقیاتی منصوبوں کے لیے  مطلوبہ وسائل کی کمی درپیش رہی کرپشن کی وجہ سے بھی معیشت کو بے حد نقصان پہنچا ہے۔ اسی وجہ سے ہماری حکومت نے کرپشن کے خلاف جہاد شروع کیا۔- ساٹھ کی دہائی میں پاکستان کی ترقی کی مثالیں دی جاتی تھیں۔- کرپشن ہمیشہ اوپر اور ایلیٹ طبقے سے شروع ہوتی ہے یہ ملک ہمارا ہے۔  ہمارا جینا مرنا اسی ملک میں ہے۔ آئندہ نسلوں کے لیے نظام ٹھیک کرنا ہے۔گورننس کی بہتری ملکی ترقی کے لئے ضروری ہے، اس وقت ملک میں معاشی ترقی کے لیے سب سے اہم سیکٹر تعمیرات ہے۔ اس سے روزگار کے مواقع ملیں گے۔ آپ سے امید کرتا ہوں کے آپ اپنے اپنے دائرہ کار میں تعمیرات سیکٹر کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کریں گے۔- عوامی خدمت کو اپنا شعار بنائیں۔مدینہ کی ریاست میں قانون کی بالادستی، کمزور طبقے کا تحفظ اور تعلیم کا فروغ تھا۔ انہی سنہرے اصولوں پر عمل پیرا ہو کر ہم ترقی کر سکتے ہیں۔ اس مقصد کے حصول کے لیے افسران کا اہم ترین کردار ہے۔- غریب آدمی سے ہمدردی رکھیں، تھانہ کلچر ختم کر دیں،کرپشن اور نااہلی کی کوئی گنجائش نہیں،محکموں میں جزا اور سزا کا نظام متعارف کرایا جائے تاکہ کارکردگی میں بہتری آئے- کرونا وباء کے دوران موثر اقدامات کرنے پر پنجاب کی انتظامیہ کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں  آپ پر کوئی سیاسی دباؤ نہیں ہوگا  میریٹ پر کام کریں۔ میں ہر اس افسر کے ساتھ ہوں جو میرٹ پر کام کرے گا۔وزیراعظم عمران خان نے صوبہ پنجاب کی صورتحال پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہاں نچلی سطح پر بہت زیادہ کرپشن ہے، جو افسر بھی ملوث ہوگا، نوکری سے فارغ کر دیا جائے گا۔وزیراعظم عمران خان نے پولیس اور پٹوار کلچر ختم کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ پولیس اور بیوروکریٹس کو بہت زیادہ الاؤنسز دیئے، تنخواہوں بھی بہتر کر دیں، اب رزلٹ دیں۔وزیراعظم نے بیوروکریسی اور پولیس افسران کو حکم دیا کہ لوگوں کیساتھ اچھے سلوک سے پیش آئیں، عوام کو جتنا ہو سکے ریلیف دیں۔ انہوں نے کورونا وائرس کیخلاف زبردست اقدام پر پنجاب حکومت اور بیوروکریسی کی تعریف کی۔وزیراعظم عمران خان سے فیصل آباد سے تعلق رکھنے والے ممبران قومی اسمبلی کی ملاقات کی۔وفاقی وزیر اطلاعات سینیٹر شبلی فراز، مشیر مرزا شہزاد اکبر اور وزیراعلی پنجاب سردار عثمان بزدار بھی ملاقات میں موجود تھے۔ممبران قومی اسمبلی میں چودھری محمد عاصم نذیر، نواب شیر وسیر، رضا نصراللہ گھمن، خرم شہزاد، فرخ حبیب، فیض اللہ اور راجہ ریاض احمد شامل تھے۔ممبران اسمبلی نے وزیراعظم کو اپنے متعلقہ حلقوں میں ترقیاتی اور فلاحی منصوبوں کے حوالے سیآگاہ کیا۔ فیصل آباد سے تعلق رکھنے والے ممبران قومی اسمبلی نے وزیراعظم عمران خان سے لاہور میں ملاقات کے دوران شکایات کی بھرمار کر دی ہے جس پر وزیراعظم عمران خان نے سخت اظہار برہمی کیا ہے اور وزیراعلیٰ کو اگلے ہفتے فیصل آباد جانے کا حکم بھی دیدیا ہے۔ذرائع کے مطابق ممبران قومی اسمبلی کا کہنا تھا کہ ہمارے ضلع میں ایس ایچ اوز اور ڈی ایس پیز کھل کر کرپشن کر رہے ہیں جبکہ علاقوں کو ترقیاتی فنڈز سے محروم رکھا گیا ہے۔انہوں نے وزیراعظم سے شکایت لگائی کہ متعلقہ عہدیداروں سے پوچھیں کہ ہمارے حلقوں کو فنڈز کیوں نہیں دیتے؟ بیوروکریسی حکومت کا ساتھ نہیں دیتی، ہر جگہ مسائل ہی مسائل ہیں، نوٹس لیا جائے۔ممبران قومی اسمبلی نے دعویٰ کیا کہ پنجاب میں آٹے اور چینی کی مارکیٹ میں مہنگے داموں فروخت میں محکمہ خوراک ملوث ہے۔ وزیراعظم نے اراکین کی شکایات کا نوٹس لیتے ہوئے کہا کہ جو بھی ترقیاتی اور انتظامی معاملات ہیں، ان کو فوری حل کیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ مجھے پتا ہے کہ پولیس اور پٹوار کلچر میں کرپشن ہو رہی ہے۔وزیر اعظم عمران خان کی زیر صدارت صوبہ پنجاب کے تعلیمی نظام میں اصلاحات کے حوالے سے جائزہ اجلاس بھی ہوا۔اجلاس میں وفاقی وزراء شفقت محمود، سینیٹر شبلی فراز، حماد اظہر، مشیر مرزا شہزاد اکبر، وزیراعلی پنجاب سردار عثمان بزداد، صوبائی وزیر تعلیم مراد راس، وزیر خزانہ مخدوم حاشم جواں بخت، وزیر اطلاعات فیاض الحسن چوہان، چیف سیکریٹری پنجاب اور سینئیر افسران  نے  شرکت کی۔صوبائی وزیر تعلیم مراد راس نے اجلاس کو صوبہ پنجاب کے تعلیمی نظام میں اصلاحات اور نئے منصوبوں کے بارے تفصیلی بریفنگ دی۔وزیر اعظم نے گفتگو کرتے ہوے کہا کے تعلیم ہی کے ذریعے اصل ترقی ممکن ہے۔ وزیر اعظم نیصوبہ پنجاب کی طرف سے اساتذہ کی ٹریننگ،  یکساں نظام تعلیم کے لیے اقدامات اور متعلقہ قانونی اصلاحات کو سراہا۔وزیر اعظم نے سکولوں میں سہولیات مہیا کرنے کی خاص تاکید کی۔وزیر اعظم نے اس بات پر زور دیا کے یکساں نظام تعلیم سے ہی معاشرے میں امتیازی سلوک کو ختم کیا جا سکتا ہے۔ وزیر اعظم عمران خان سے گور نر پنجاب چوہدری محمدسرور کی گور نر ہاؤس میں ملاقات جبکہ وزیراعلی پنجاب سردار عثمان بزدار اوروفاقی وزراء بھی موجود تھے۔۔ ملاقات کے دوران سیاسی اور حکومتی امور سمیت دیگر ایشوز کے بارے میں بات چیت کی گئی۔اس موقع پرگور نرپنجاب چوہدری محمدسرور نے وزیر اعظم عمران خان کو پنجاب آب پاک اتھارٹی،کورونا بحران کے دوران ریلیف اقدامات اور پنجاب کی یونیورسٹیز میں اصلاحات سمیت دیگر اقدامات کے بارے میں بتایا جبکہ وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ یونیورسٹیز میں اصلاحات کیلئے تمام وسائل استعمال کیے جائیں اور عوام کو پینے کے صاف پانی کی فراہمی کیلئے بھی اقدامات کو مزید تیز کیا جائے۔ اْنہوں نے کہا کہ پینے کے صاف پانی کی فراہمی سے عوام کو بہت سی خطر ناک بیماریوں سے بچا یا جاسکتا ہے۔

عمران خان

مزید :

صفحہ اول -