خاتون کی دوسری شادی پر باپ بچوں کو ماں سے نہیں چھین سکتا: لاہور ہائیکورٹ

  خاتون کی دوسری شادی پر باپ بچوں کو ماں سے نہیں چھین سکتا: لاہور ہائیکورٹ

  

 لاہور(نامہ نگارخصوصی)لاہورہائی کورٹ نے قراردیا کہ ماں کا دوسری شادی کرنا کوئی جرم نہیں جس کی بنیاد پر بچوں کو ماں سے الگ کردیاجائے، علیحدگی کے بعد خاتون کی دوسری شادی کی بنیا دپر باپ بچوں کوان کی ماں سے نہیں چھین سکتا،مسٹر جسٹس راجہ شاہد محمود عباسی نے یہ ریمارکس بچوں کی تحویل کے کیس میں بچے ماں کے حوالے کرتے ہوئے دیئے،عدالتی حکم سن کر بچوں کے باپ محمد سردار نے رونا شروع کردیاتو فاضل جج نے انہیں مخاطب ہوکر کہا کہ تم باپ ہوکر اس طرح رو رہے ہو تو ماں پر بچوں کی جدائی میں کیا بیتی ہوگی،درخواست گزار خاتون شازیہ بی بی کی طرف سے موقف اختیارکیا گیاکہ اس کے خاوند محمد سردارنے بچے چھین کر اسے طلاق دے دی اوربے بنیاد مقدمہ بھی درج کروادیا،خاوند کے ڈر سے اس نے دارالامان میں پناہ لے لی اورپھر دوسری شادی کرلی،عدالت کے حکم پر باپ نے بچے  عدالت میں پیش کردیئے،خاتون کے سابق شوہر کے وکیل نے عدالت میں موقف اختیار کیا کہ درخواست گزار خاتون کا کردار ٹھیک نہیں،اس پر مقدمہ درج ہو چکا ہے، اس نے دوسری شادی بھی کرلی ہے،بچے ماں کے پاس نہیں جانا چاہتے،عدالتی حکم پر بچوں کی ماں سے ملاقات کروائی گئی،خاتون نے بچوں سے لپٹ کررونا شروع کردیا جبکہ دونوں بچے باربار باپ کی طرف جانے کی کوشش کرتے رہے جس پر باپ نے رونا شروع کردیا،فاضل جج نے مذکورہ ریمارکس کے ساتھ بچے ماں کے حوالے کرنے کاحکم دے دیا،اس موقع پر بچوں نے بھی رونا شروع کردیا،ماں بچوں کو دلاسے دیتی رہی اور انہیں ساتھ لے گئی۔

دوسری شادی

مزید :

صفحہ آخر -