ہائیکورٹ بار ملتان کے صدر چوہدری طاہر کو توہین عدالت کانوٹس 

  ہائیکورٹ بار ملتان کے صدر چوہدری طاہر کو توہین عدالت کانوٹس 

  

  ملتان (خصو صی رپورٹر)   ہائیکورٹ ملتان بنچ نے صدر ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن ملتان چوہدری طاہر محمود کو عدالتی معاملہ میں مداخلت پر توہین عدالت کا نوٹس جاری کر دیا ہے۔ توہین عدالت کا نوٹس عدالتی احکامات پر عملدرآمد نہیں کرنے اور تلخ الفاظ استعمال کرنے کے ساتھ روسٹرم نہیں چھوڑنے پر جاری ہوا۔ عدالت عالیہ نے صدر بار کو 7 روز میں جواب جمع کرانے کی بھی ہدایت جاری کی ہے کہ کیوں نہ ان کے خلاف آئین کے آرٹیکل 204 اور توہین عدالت آرڈیننس 2003 کی شق 3 اور 4 کے تحت کارروائی عمل میں لائی جائے۔ گزشتہ روز عدالت(بقیہ نمبر46صفحہ6پر)

 عالیہ میں سدرہ بی بی بنام ایس ایچ او کی آئینی درخواست  پر سماعت جاری تھی اسی دوران صدر بار نے روسٹرم پر اپنا مؤقف پیش کرنے کی کوشش کی اس دوران ان کی فاضل عدالت سے تلخ کلامی ہو گئی اور عدالت عالیہ کی جانب سے صدر بار کو روسٹرم چھوڑنے کا بھی کہا گیا جبکہ تلخ کلامی بڑھنے پر دیگر وکلاء نے بھی معاملہ سلجھانے کی کوشش کی۔ بعد ازاں صدر بار عدالت سے چلے گئے اور ہنگامی پریس کانفرنس طلب کر لی اس دوران عدالت عالیہ کی جانب سے صدر بار کو توہین عدالت کا نوٹس جاری کرتے ہوئے صدر بار چوہدری طاہر محمود کو 7 روز میں جواب جمع کرانے کی ہدایت دی گئی ہیں جبکہ کیس کی سماعت 17 اگست کو ہوگی۔ دوسری جانب واقعہ بارے چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ کو بھی آگاہ کردیا گیا ہے جبکہ واقعے پر ہائیکورٹ بار کی جانب سے ہنگامی پریس کانفرنس کا اعلان کچھ دیر واپس لیکر ایگزیکٹو باڈی کا اجلاس طلب کرلیا گیا۔ اس بارے صدر ہائیکورٹ بار چوہدری طاہر محمود نے کہا ہے کہ معاملہ چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ کے علم میں ہے۔ ہم میٹنگ کے بعد لائحہ عمل طے کریں گے۔

توہین عدالت

مزید :

ملتان صفحہ آخر -