چراگا ہ کا تنازعہ، قیصرانی اور پشتون عیسوٹ قبائل میں تصادم، علاقہ میدان جنگ میں تبدیل

  چراگا ہ کا تنازعہ، قیصرانی اور پشتون عیسوٹ قبائل میں تصادم، علاقہ میدان ...

  

  وہوا(نمائندہ پاکستان) وہوا کے مغربی ٹرائبل ایریا تمن قیصرانی میں صوبہ پنجاب اور صوبہ بلوچستان کے مقام اتصال پر واقع تھانہ چتروٹہ کی حدود میں قبائلی علاقہ سڑیا تھلی اور لشکریالہ تورہ ڑوئی کے مقام پر قیصرانی اور پشتون عیسوٹ قبائل کے درمیان چراگاہ کے تنازعہ جنگ چھڑ گئی ہے گذشتہ روز سے دونوں قبائل کی جانب سے مورچہ زن ہوکر ایک دوسرے کے اوپر جدید آتشیں اسلحہ سے فائرنگ کا سلسلہ جاری ہے جس (بقیہ نمبر47صفحہ6پر)

کے نتیجہ میں پشتون عیسوٹ قبیلہ کے 2 افراد جن میں شبیر پانیزئی اور دوست محمد خدر زئی شامل ہیں فائرنگ کی زد میں آکر شدید زخمی ہوچکے ہیں جنہیں بلوچستان کے ہسپتال ریفر کردیا گیا ہے گذشتہ روز شروع ہونے والی یہ لڑائی قبائلی علاقہ لزدان سے بینی تک 20 کلومیٹر سے زائد ایریا تک پھیل چکی ہے اور جنگی علاقہ میں جگہ جگہ سینکڑوں قبائلی جنگجووں نے مورچے بنائے ہوئے ہیں اور وقفہ وقفہ سے فائرنگ کا سلسلہ جاری ہے جس سے پورا علاقہ فائرنگ کی آواز سے گونج رہا ہے دونوں قبائل کی جانب سے ایک دوسرے پر فائرنگ کے باعث وہوا اور بلوچستان کے ضلع موسیٰ خیل اور تحصیل تیئر ایسوٹ کے درمیان چلنے والی ٹریفک مکمل طور پر بند ہوچکی ہے جس سے دونوں اطراف کے مکین پھنس کر رہ گئے ہیں دونوں قبائل کی جانب سے ہر قسمی ٹریفک بندش کے اعلان کے بعد صوبہ بلوچستان کی انتظامیہ اور صوبہ پنجاب کی بارڈر ملٹری پولیس کو موقع پر پہنچنے میں شدید دشواری کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے تاہم بارڈر ملٹری پولیس کے افسر زیاد خان قیصرانی ٹرائبل تھانہ پھگلہ اور تھانہ چتروٹہ کی پولیس کے ہمراہ جبکہ موسیٰ خیل بلوچستان کے اسسٹنٹ کمشنر مدثر قیصرانی اور تحصیلدار درگ بلوچستان غلام قادر قیصرانی کئی کلومیٹر کا پہاڑی دشوار گزار علاقہ پیدل سفر کرکے موقع پر پہنچنے میں کامیاب ہوگئے ہیں اور دونوں قبائل کے عمائدین سے مذاکرات کرکے کشیدگی کم کرانے کے لیے کوشاں ہیں مگر تاحال انتظامیہ کو کوئی کامیابی حاصل نہیں ہوسکی جبکہ دوسری جانب پشتون عیسوٹ قبیلہ کے ایک ذمہ دار محمد یوسف ایسوٹ نے اے سی مدثر قیصرانی اور تحصیلدار غلام قادر قیصرانی سے یہ کہ کر مذاکرات کرنے سے انکار کردیا ہے کہ وہ ان کے مخالف قبیلہ قیصرانی سے تعلق رکھتے ہیں اور انہوں نے ڈپٹی کمشنر سے اے سی مدثر قیصرانی اور تحصیلدار غلام قادر قیصرانی کا تبادلہ کسی اور ضلع میں کرانے کے لیے سفارش کرنے کا مطالبہ بھی کردیا ہے یاد رہے کہ گذشتہ سال بھی اسی چراہ گاہ کے تنازعہ پر ان دونوں قبائل کے درمیان ایک ہفتہ تک فائرنگ کا سلسلہ جاری رہا تھا تاہم انتظامیہ کی مداخلت پر دونوں قبائل کے درمیان صلح کرادی گئی تھی۔

تبدیل

مزید :

ملتان صفحہ آخر -