”لب راوی منصوبہ“ سہانے خواب سا پراجیکٹ 

”لب راوی منصوبہ“ سہانے خواب سا پراجیکٹ 
”لب راوی منصوبہ“ سہانے خواب سا پراجیکٹ 

  

تجزیہ،ایثار رانا

لاہور ”راوی ریور فرنٹ اربن ڈویلپمنٹ“ کا منصوبہ کے اردو میں مختصر نام  ’لبِ راوی پراجیکٹ“رکھا جا سکتا ہے۔اگر ایک نظر اس منصوبے کو دیکھا جائے تو یہ ایک خواب سا بلکہ سہانے خواب سا منصوبہ لگتا ہے۔50ہزار ارب روپے کی کثیر رقم سے اس منصوبے کو میں پنجاب بلکہ پاکستان کا گیم چینجر کہوں گا۔اسے آپ کسی طرح سی پیک سے کم تر نہیں کہہ سکتے۔اگر منصوبے پر عمل ہو جائے تو کم از کم پنجاب اور لاہور میں ملازمتوں،کاروبار اور ترقی کے اتنے  دروازے کھل جائیں گے کہ ہر ہر دروازے سے خوشحالی آسکے۔میں نے لب ِ راوی پراجیکٹ کو خواب سا منصوبہ اس لئے کہا ہے کہ اس شہر میں ایک مصنوعی جنگل اگایا جائے گا۔جس میں 60لاکھ درخت لگیں گے۔پانی کو صاف کر کے راوی کی سطح بلند کی جائے گی۔ہے نا ایک خواب سا منصوبہ۔میں وزیر اعظم عمران خان کو پچھلے تئیس سال سے جانتا ہوں۔مجھے ان کی کمٹمنٹ پر زرہ برابر  شک نہیں ہے۔وہ خواب دیکھتے ہیں اور پھر اس کی تعبیر میں جت جاتے ہیں۔ورلڈ کپ،شوکت خانم ہسپتال،نمل یونیورسٹی،وزارت عظمیٰ کسی دور میں سب خواب جیسے تھے۔لیکن آج وہ سب تعبیر کی شکل میں ہمارے سامنے ہیں۔لیکن یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا اکیلے عمران خان اس ہمالیہ جیسے منصوبے پر عمل کرا لیں گے؟۔بطور کپتان اس کے لئے ان کے پاس ایک ٹیم کا ہونا بہت ضروری ہے۔جن میں چاہے سیانے کم پر دیوانے زیادہ ہوں۔سب سے بڑا مسئلہ تو  ناجائز قابضین سے جگہ ہی وا گزار کرانا ہے۔نیب نے سر مایہ کاروں کو اتنا ڈرا دیا ہے کہ وہ ٹکہ خرچنے پر تیار نہیں۔میرا خیال ہے کہ اگر وزیر اعلیٰ عثمان بزدار یہ بیڑہ اٹھا لیں اور اگر اس منصوبے کا آدھا بھی مکمل کر جائیں تو وہ ہمیشہ کے لئے دیگر ایشوز کے ساتھ امر ہو جائیں گے۔کیونکہ یہ منصوبے نا ممکنات میں سے ممکنات کا نام ہے۔بات عزم،حوصلے اور ان کی انتھک محنت کی ہے۔دیکھیں کون آگے بڑھ کر علم اٹھاتا ہے۔ورنہ ماضی میں بھی کئی عظیم منصوبے بنے،ان کی تختیاں لگیں،تقریبات ہوئیں اور پھر وہ حسرتوں کے قبرستان میں بے کفن دفنا دی گئیں۔

تجزیہ

مزید :

تجزیہ -