فنڈز کی بندش،سی اینڈ ڈبلیو دفتر میں ایکسیئن کی عدم تعیناتی

فنڈز کی بندش،سی اینڈ ڈبلیو دفتر میں ایکسیئن کی عدم تعیناتی

  

بنوں (ڈسٹرکٹ رپورٹر)فنڈز کی بندش،سی اینڈ ڈبلیو دفتر میں ایکسیئن کی عدم تعیناتی، 4ماہ سے مکمل ترقیاتی کام کے بل اور سیکورٹی رقم کی عدم ادائیگی،ای ٹنڈنگ بڈنگ سسٹم کی بجائے سنگل سٹیج پر ٹینڈر پاس فیل کا طریقہ کار دوبارہ شروع کرنے اور بیوٹیفکیشن پراجیکٹ کے ترقیاتی کام کے لئے فنڈز کی ہنگامی بنیادوں پر فراہمی اور دیگر مطالبات کے حق میں ٹھیکیدار برادری ایسوسی ایشن کے صدر سید نواز خان، جنرل سیکرٹری حاجی صدیق خان نے سی اینڈ ڈبلیو افس میں ہنگامی پریس کانفرنس کی۔پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ٹھیکیدار برادری ایسوسی ایشن ضلع بنوں لے صدر سید نواز خان،جنعل سیکرٹری حاجی صدیق خان،سینئر نائب صدر عبداللہ منڈان،مقبول زمان حیدر اعوان ودیگر نے کہا کہ کرونا وائرس اور لاک ڈاون کی وجہ سے سب سے زیادہ ٹھیکیدار برادری متاثر ہوئی ہے۔کرونا وائرس بیماری سے ایکسیئن سی اینڈ ڈبلیو انتقال کر گئے۔جس کی وجہ سے سی اینڈ ڈبلیو دفتر میں ایکسئن کا سیٹ حالی ہے۔ ابھی تک سی اینڈ ڈبلیو بنوں دفتر میں صوبائی حکومت کی طرف سے ایکسئین کی تعیناتی کاقانونی عمل پورا نہ ہوسکا۔ ایکسیئن کی عدم تعیناتی کی وجہ سے گذشتہ 4ماہ سے فنڈز کی بندش کی وجہ سے ٹھیکیدار برادی مشکلات سے دوچارہوئی ہیں۔ٹھیکیداروں کے سیکورٹی رقم، مکمل کئے گئے ترقیاتی کام کے بل سی اینڈ ڈبلیو دفتر میں ایکسئین کی عدم تعیناتی کی وجہ سے ریلیز نہیں ہورہے ہیں۔صوبائی حکومت نے ٹھیکیدار برادری کے لئے نیا قانون ای ٹنڈنگ اور ای بڈنگ کا قانون لایا ہیں۔قانون کے تحت 7دنوں کے اندر اندر ٹھیکیدار وں کی جانب ای ٹنڈز میں جمع ٹنڈز کے ای بڈنگ قانون کے تحت پاس یا فیل ہونا ہیں۔لیکن صوبائی حکومت نے اپنے ہی رائج قانون کی دھجیاں اڑا دی ہیں۔تین ماہ گزر گئے لیکن ای بڈنگ میں ٹینڈز پاس فیل کا عمل مکمل نہ ہوسکا۔ٹھیکیدار برادری کے لئے لائنس کی منظوری صرف انجینئرنگ کونسل پاکستان کرتا ہے۔پہلے ٹھیکیدار برادری کے لائنس کی رینول بنوں سی اینڈ ڈبلیو افس میں ہوتی لیکن اس کو بھی پشاور منتقل کر دیا گیا جوکہ ٹھیکیدار برادری کو کسی بھی صورت قابل قبول نہیں۔بیوٹیفکیشن پراجیکٹ کے تحت70فیصد ترقیاتی کام مکمل ہوچکا ہے۔لیکن فنڈز کی فراہمی ابھی تک معطل ہے۔ضلعی انتظامیہ،چیف سیکرٹری خیبر پختونخواہ، اور وزیر اعلی خیبر پختونخواہ محمود خان ٹھیکیدار برادری کے تمام مطالبات تسلیم کریں۔بیوٹیفکیشن پراجیکٹ کے تحت جاری ترقیاتی کے لئے فنڈز کی فراہمی ممکن بنائیں۔بنوں سی اینڈ ڈبلیو دفتر کے لئے تین دن کے اندر اندر نئے ایکسئین کی تعیناتی کی جائیں۔ای ٹینڈنگ کے ذریعے پاس فیل کا طریقہ کار ختم کرکے دوبارہ سنگل سٹیج طریقہ کار پر ٹینڈز جاری کرنے کا حکم جاری کیا جائیں۔ٹھیکیدار برادری نے صوبائی حکومت کو تین دن کی ڈیڈ لائن دیتے ہوئے دھمکی دی کہ اگر تین دن کے اندر اندر مطالبات تسلیم نہ کئے گئے تو بنوں میں ٹھیکیدار برادری سڑکوں پر نکلے گی۔ اور یہ بھی اعلان کیا کہ ہماری بنیادی حقوق سلپ کرنے کے خلاف ٹھیکیدار برادری ہائیکورٹ میں جلد رٹ بھی دائر کرینگے۔ اس حوالے سے سینئر وکلاء برادری کے ساتھ گفت وشنید جاری ہیں۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -