وزیراعلیٰ کی سرکاری سکولوں کے نصاب میں نبی کریم ؐ کی سیرت کو شامل کرنے کی ہدایت

وزیراعلیٰ کی سرکاری سکولوں کے نصاب میں نبی کریم ؐ کی سیرت کو شامل کرنے کی ...

  

پشاور(سٹاف رپورٹر)وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان نے سرکاری سکولوں کے تدریسی نصاب میں حضور نبی کریم ﷺ کی سوانح حیات کے حوالے سے جامع مضامین شامل کرنے کی ہدایت کی ہے تاکہ طلباء و طالبات محسن انسانیت کی سیرت طیبہ سے صحیح معنوں میں شناسا ہو سکیں۔ انہوں نے ضم شدہ قبائلی اضلاع میں سکولوں کی سولرائزیشن اور صو بے میں سکولوں کی اپگریڈیشن کے منصوبے ترجیحی بنیادوں پر مکمل کرنے جبکہ غیر فعال سکولوں کو فعال بنانے اور سکولوں کی اپگریڈیشن وغیرہ کے لئے حقیقت پسندانہ حکمت عملی اختیار کرنے کی ہدایت کی ہے اور کہا ہے کہ حتمی مقصد صوبے میں بچوں کی معیاری تعلیم تک رسائی یقینی بنانا ہے۔ انہوں نے سرکاری سکولوں میں ضرورت کی بنیاد پر ڈبل شفٹ شروع کرنے کے حوالے سے درپیش مسائل فوری طور پر حل کرنے اور اس مقصد کے لئے سمری کابینہ کے اجلاس میں پیش کرنے کی ہدایت کی اور واضح کیا کہ وہ محکمہ تعلیم کے آئندہ اجلاس میں تمام مسائل پر واضح پیش رفت دیکھنا چاہتے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے وزیراعلیٰ ہاؤس پشاور میں محکمہ تعلیم کے حوالے سے ایک اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔ صوبائی وزیر برائے ابتدائی وثانوی تعلیم اکبر ایوب خان، وزیراعلیٰ کے پرنسپل سیکرٹری شہاب علی شاہ، سیکرٹری محکمہ ابتدائی و ثانوی تعلیم سمیت دیگر متعلقہ محکموں کے انتظامی سیکرٹریز، سٹریٹیجک سپورٹس یونٹ کے سربراہ صاحبزادہ سعید اور دیگر متعلقہ حکام نے اجلاس میں شرکت کی۔ وزیراعلیٰ نے سرکاری سکولوں میں طلباء و طالبات کے سکول چھوڑنے کی شرح کو کم کرنے کے حوالے سے اٹھائے گئے اقدامات پر اطمینان کا اظہار کیا تاہم انہوں نے ہدایت کی کہ سکول چھوڑنے کی شرح کو مزید کم کرنے کے لئے آئندہ کے لئے واضح اہداف کا تعین کیا جائے اور ان کا حصول مقررہ ٹائم لائن کے اندر یقینی بنایا جائے۔ وزیراعلیٰ نے محکمہ تعلیم کے اٹھارہ اور انیس گریڈ کے ملازمین کے تبادلوں اور تعیناتوں کو بھی ای ٹرانسفر پالیسی کے تحت کرنے کی اصولی منظوری دی ہے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ دور دراز علاقوں میں بھرتیوں کے عمل میں مقامی افراد کو ترجیح دی جائے۔ محمود خان نے مزید ہدایت کی کہ صوبے کے سرکاری سکولوں میں دوسری شفٹ کے اجراء کے لئے تین مختلف کیٹیگریز بنائی جائیں اور ترجیحات کا تعین کیا جائے۔ جہاں ضرورت زیادہ ہو وہاں پہلے مرحلے میں دوسری شفٹ کا آغاز کیا جائے۔ اجلاس کو محکمہ ابتدائی و ثانوی تعلیم کی اصلاحات، ترقیاتی منصوبوں پر پیش رفت، آئندہ کے لائحہ عمل، رواں مالی سال کے بجٹ اور دیگر امور پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ اجلاس کو آگاہ کیا گیا کہ محکمہ تعلیم نے جدید ٹیکنالوجی کو بروئے کار لاتے ہوئے محکمہ کی آفیشل ویب سائٹ کو اپ ڈیٹ کیا گیا ہے جسکا بہت جلد باضابطہ اجراء کردیا جائیگا۔ محکمہ تعلیم کے اقدامات سمیت تمام ڈیٹا عوام کے لئے ویب سائٹ پر دستیاب ہوگا۔ محکمہ تعلیم خیبرپختونخوا نے اپنے یوٹیوب چینل بھی بنایاہے، تمام درسی اسباق چینل پر اپلوڈ کئے گئے ہیں جو پشتو زبان میں بھی ڈب کئے گئے ہیں۔ علاوہ ازیں کلاس اول سے بارہویں جماعت تک کے سرکاری اور پرائیویٹ طلباء و طالبات کے مسائل کے حل کیلئے آن لائن سہولت بھی دی گئی ہے، جس کے تحت آن لائن پوچھے گئے سوالات کا چوبیس گھنٹوں کے اندرجواب دیا جاتا ہے۔ ابتدائی مرحلے میں چار مضامین ریاضی، کمسٹری، بیالوجی اور فزکس کو اس سسٹم میں شامل کیا گیا ہے۔ اجلاس کو آگاہ کیا گیا کہ مالی سال 2019-20 کے تحت محکمہ تعلیم میں ریلیز شدہ بجٹ کی ننانوے فیصد یوٹیلائزیشن یقینی بنائی گئی ہے۔ رواں مالی سال کے تحت شعبہ تعلیم کے لئے 30488.07 ملین روپے مختص کئے گئے ہیں۔ صوبے میں ایجوکیشن مانیٹرنگ اتھارٹی کا قیام عمل میں لایا گیا ہے جس کے تحت رولز بھی تیار کئے گئے ہیں جو جانچ پڑتال کے لئے محکمہ قانون کو دئیے گئے ہیں۔ ضم شدہ اضلاع میں 92فیصد سکولوں کی مانیٹرنگ کی گئی ہے جبکہ صوبے کے دیگر اضلاع میں یہ کوریج سو فیصد ہے۔ 2014میں صوبے میں غیر فعال سکولوں کی تعداد 465تھی جبکہ اب صرف 71سکول غیر فعال ہیں۔ وزیراعلیٰ نے ان 71سکولوں کو بھی رواں مالی سال کے اندر ہی فعال بنانے کی ہدایت کی۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ صوبے میں 96فیصد سکولوں کو پانی کی فراہمی، 97فیصد سکولوں میں باؤنڈری وال کی تعمیر اور 98فیصد سکولوں میں ٹائلٹس کی سہولت فراہم کر دی گئی ہے جبکہ باقی ماندہ سکولو ں کو بھی اسی سال کے اندر یہ سہولیات فراہم کر دی جائیں گی۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ ای ٹرانسفر پالیسی کے تحت 2093 درخواستیں موصول ہوئی ہے جن میں سے تبادلوں کے 949 احکامات جاری کئے جا چکے ہیں۔ کمپیوٹر اور موبائل کے ذریعے آن لائن درخواستوں کی سہولت دی گئی ہے۔ ای ٹرانسفرپالیسی کا نظر ثانی شدہ مسودہ بھی تیار ہے۔ پروفیشنل ڈویلپمنٹ پروگرام کے تحت پرائمری سکولوں کے 55ہزار اساتذہ کو پیشہ ورانہ تربیت دی گئی ہے جبکہ گرلز کمیونٹی سکولوں کے 1824اساتذہ بھی تربیت حاصل کر چکے ہیں۔ رواں مالی سال کے دوران صوبے کے 28اضلاع سے مزید 80 ہزار اساتذہ کو تربیت دینے کا ہدف رکھا گیا ہے۔ وزیراعلیٰ نے ضم شدہ علاقوں سے بھی کم از کم تین اضلاع کو اس تربیتی پروگرام میں ڈالنے کی ہدایت کی۔ انڈکشن پروگرام کے تحت 17315 اساتذہ کی تربیت کا عمل جاری ہے جبکہ رواں مالی سال کے دوران بھی 12616 اساتذہ کی تربیت کا ہدف رکھا گیا ہے۔ سکولوں میں ڈبل شفٹ کے اجراء کے لئے پہلے مرحلے میں 117 سکولوں کا انتخاب کیا گیا ہے جس کی سمر ی تیار ہے اور کابینہ کے آئندہ اجلاس میں پیش کی جائیگی۔ وزیراعلیٰ نے ڈبل شفٹ پروگرام کے لئے سکولوں کی تعداد بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا تاکہ زیادہ سے زیادہ طلباء و طالبا ت کو حصول تعلیم کا موقع مل سکے۔ ضم شدہ اضلاع کے شعبہ تعلیم میں 3155 آسامیاں تخلیق کی گئی ہیں جن میں سے 1594آسامیوں پر بھرتی کا عمل مکمل کر لیا گیا ہے۔ اسی طرح صوبے کے دیگر اضلاع میں گزشتہ دو سالوں کے دوران 9394 اساتذہ بھرتی کئے جاچکے ہیں۔ صوبے کے بندوبستی اضلاع میں 8ہزار سرکاری سکولوں کی سولرائزیشن کی جارہی ہے منصوبے کے تحت آئندہ ماہ ستمبر کے شروع میں آلات کی تنصیب کا عمل شروع کر دیا جائیگا۔ اسی طرح اس منصوبے کے تحت ضم شدہ اضلاع کے 1200سکولوں کی سولرائزیشن بھی کی جائیگی جس کے لئے ایک ہزار ملین روپے مختص کئے گئے ہیں۔ ضم شدہ اضلاع کے پانچ لاکھ 37ہزار 497سٹوڈنٹس کو مفت سٹیشنری اور بیگز کی فراہمی کے لئے خریداری کا عمل مکمل کرلیا گیا ہے، رواں ماہ کے آخر تک تقسیم کا عمل بھی شروع کردیا جائیگا۔ ضم شدہ اضلاع کے پرائمری سکولوں کے تقریباً ساڑھے پانچ لاکھ طلباء و طالبات کو وظائف دینے کے لئے نظر ثانی شدہ پی سی ون محکمہ منصوبہ بندی و ترقیات کو بھیج دیا گیا ہے، سکیم کی منظور شدہ لاگت 2951.95 ملین روپے ہے۔ سرکاری سکولوں میں کھیلوں کی سہولیات کی فراہمی کے منصوبے کے تحت بندوبستی اضلاع میں 2650سکولوں کو ہدف بنایا گیا ہے جن میں سے 900سکولوں میں کھیلوں کی سہولت فراہم کر دی گئی ہے سکیم کی مجموعی لاگت 318ملین روپے ہے۔ ضم شدہ اضلاع کے 1985سکولوں کو بھی کھیلوں کی سہولیات کی فراہمی کا منصوبہ شروع ہے جسکی لاگت 238.200ملین روپے ہے۔اب تک 625سکولوں میں سہولیات فراہم کر دی گئی ہے جبکہ باقی ماندہ سکولوں پر کام جاری ہے۔

مزید :

صفحہ اول -