تعمیراتی شعبے کی ترقی کیلئے صوبہ بھر میں کثیرا لمنز لہ عمارتوں کی تعمیر پر پابندی ختم

تعمیراتی شعبے کی ترقی کیلئے صوبہ بھر میں کثیرا لمنز لہ عمارتوں کی تعمیر پر ...

  

پشاور(سٹاف رپورٹر) معاون خصوصی بلدیات و اطلاعات کامران خان بنگش نے جمعے کو جاری اپنے بیان میں کہا ہے کہ محکمہ بلدیات نے صوبہ بھرمیں کثیرالمنزلہ عمارتوں کی تعمیر کی اجازت دیتے ہوئے وزیراعظم عمران خان اور وزیراعلٰی محمود کے ایک اور عزم کی تکمیل کی ہے۔ ان کے مطابق چار ماہ قبل وزیراعلی محمود خان نے پی ڈی اے سے کثیر المنزلہ عمارات کے ذیلی قوانین کی منظوری دی تھی جس کی رو سے صوبہ کے پہلے دو کمرشل کثیر المنزلہ عمارات کی تعمیر کی منظوری یونیورسٹی ٹاون پشاور میں دی گئی ہے۔چھ اور چار کنال کی اراضی پر سولہ منزلہ دو عمارتوں کی تعمیر سے کم اراضی پر زیادہ آبادی کا تصور شرمندہ تعبیر ہوگا۔ معاون خصوصی نے مزید کہا کہ اس سے قبل صوبہ میں سات منزلہ سے زائد عمارت کی تعمیر کی اجازت نہیں تھی جس سے تعمیراتی صنعت کو کافی مشکلات کا سامنا تھا لیکن وزیراعلٰی کے حالیہ اقدام سے کمرشل زمینوں کو کثیرالمنزلہ بنانے کیلئے کمرشل پلاٹس کے مالکان کیلئے سنہری مواقع پیدا ہوئے ہیں جس سے نہ صرف تعمیراتی شعبے میں روزگار کے مواقع اُبھر آئینگے بلکہ صوبے کی زرعی اراضی کو تعمیرات کی ضد میں آنے سے تحفظ ملے گا۔ سرمایہ کاروں کو سہولیات کی فراہمی بارے کامران بنگش نے کہا کہ پی ڈی اے سمیت پندرہ ٹی ایم ایز میں ون ونڈو اپریشن سنٹرز کا قیام عمل میں لایا جاچکا ہے جس سے سرمایہ کاروں کی حوصلہ افزائی ہوگی۔ معاون خصوصی نے اپنے بیان میں کہا کہ وزیراعظم عمران خان تعمیراتی اراضی کو پھیلانے کی بجائے عمودی آبادی کا ویژن رکھتے ہیں جس سے کم اراضی پر زیادہ آبادی ممکن ہے اور کمرشل عمارتوں کی استطاعت اور صوبے کی سرمایہ کاری میں اضافہ ہوگا۔ان کا مزید کہنا تھا کہ اس اقدام سے تعمیراتی شعبے میں انقلاب برپا ہوگا اور اس سے جُڑے صنعتوں کو تقویت ملے گی

مزید :

صفحہ اول -