طوفانی بارشوں نے بلوچستان میں   تباہی مچادی،سندھ سے زمینی رابطہ منقطع

طوفانی بارشوں نے بلوچستان میں   تباہی مچادی،سندھ سے زمینی رابطہ منقطع
 طوفانی بارشوں نے بلوچستان میں   تباہی مچادی،سندھ سے زمینی رابطہ منقطع

  

 کوئٹہ(ڈیلی پاکستان آن لائن)طوفانی بارشوں نے بلوچستان میں تباہی مچادی، مستونگ، خضدار، ہرنائی، نوشکی، لورا لائی، ڈھاڈر میں سیلابی ریلوں میں متعدد مویشی بہہ گئے، کچے گھروں کی دیواریں گر گئیں، کھڑی فصلوں کو نقصان پہنچا جبکہ قومی شاہراہوں پر جگہ جگہ آمدورفت معطل ہوگئی،شدید بارشوں کی وجہ سے کئی دیہات کا زمینی رابطہ منقطع ہوگیا، مکران کوسٹل ہائی وے پر 30 فٹ چوڑا شگاف پڑگیا،کوہلو کےندی نالوں میں طغیانی سےسوناری پل بہہ گیاجس کی وجہ سے کوہلو کاسبی اور کوئٹہ سےزمینی رابطہ منقطع ہوگیا۔

صوبائی حکومت کے ترجمان لیاقت شاہوانی کے مطابق بارش اور سیلاب کے دوران مختلف حادثات میں اب تک تین افراد کے جاں بحق ہونے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ کوئٹہ سمیت بلوچستان کے مون سون رینج والے علاقوں آواران، تر بت، گوادر، اورماڑہ، ڈیرہ بگٹی،جھل مگسی، زیارت، ہرنائی، لسبیلہ، جعفر آباد اور نصیر آباد، بولان اور سبی، سمیت مختلف علاقوں میں بارشوں کا سلسلہ وقفے وقفے سے جاری ہے۔جعفرآباد میں بارش کے باعث پیش آنے والے حادثے میں 2 افراد جاں بحق ہوگئے جبکہ حب میں سیلابی ریلے میں پھنسے 2 افراد کو ریسکیو کر لیا گیا۔خضدار کے تفریحی مقام مولا چٹوک میں سیلابی ریلے میں پھنسے 7 سیاح ریسکیو کر لیے گئے جبکہ مکران کوسٹل ہائی وے پسنی کے بدوک کے قریب پل سیلابی ریلے میں بہہ گیا جس کے باعث گوادر کا لسبیلہ اور کراچی سے زمینی رابطہ منقطع ہو گیا اور کئی گاڑیاں پھنس گئیں۔ضلع ڈیرہ بگٹی میں مختلف علاقوں میں 4 سے 5 فٹ پانی لوگوں کے گھروں میں داخل ہوگیا، انتظا میہ نیآبادی کو محفوظ مقامات پر منتقل کردیا۔ ہرنائی میں ا یک گھنٹے مسلسل بارش سے نشیبی علاقہ زیر آب آ گیا اور پہاڑوں سے آنے والے پانی کے باعث برساتی نالوں میں سیلابی ریلہ محلہ غریب آباد کے کچے مکانات میں داخل ہوگیا، رہائشی اپنی مدد آپ کے تحت سیلابی پانی کو گھروں سے نکال رہے ہیں۔بولان کے علاقے کرتہ ندی میں بارش کے باعث سیلابی صورتحال پیدا ہوگئی جس کی وجہ سے کوئٹہ سبی شاہراہ پر ٹریفک معطل ہو گیا،سیلابی ریلہ کرتہ میں خانہ بدوشوں کے مال مویشی بہا کر لےگیا۔ڈیرہ بگٹی میں سیلابی ریلےمیں سانپ نےایک شخص کوکاٹ لیاجسےڈسٹرکٹ ہسپتال منتقل کردیا گیا،سیلابی ریلہ مقامی آبادی کاسامان اورکھانےپینےکی اشیابھی بہاکرلےگیا۔

دوسری جانب صوبائی ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی(پی ڈی ایم اے)نےبارشوں سےپیداہونےوالی صور تحال کےباعث انتظامیہ کو الرٹ کر دیاتھااورحکام نے ساحلی علا قوں میں ماہی گیر وں کی گہرے سمندر، برساتی نالوں، سیا حتی مقاما ت اور نالوں کے قریب شہریوں کی آمدو ر فت پر پابندی عا ئد کردی تھی۔محکمہ موسمیات نے مو جودہ بار شو ں کا سلسلہ اتوار تک جاری رہنے کا امکان ظاہر کیا ہے اور پی ڈی ایم اے کی جانب سے متاثرہ اضلاع کے لیے امدادی سامان روا نہ کر دیا گیا ہے۔ بلوچستان حکومت کے ترجمان لیاقت شاہوانی نے کوئٹہ میں نیوز کونفرنس کے دوران کہا ہے کہ بلوچستان میں بارشوں کاسلسلہ جاری ہے بعض علاقوں میں املاک  اور جانی نقصان اور کمیونکیشن سسٹم متاثر ہوا ہے،  وزیر اعلی  جام کمال خا ن پیدا شدہ صورتحال کا از خود جائزہ لے رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ مون سون بارشو ں کا الر ٹ جاری کر دیا گیا تھا، پی ڈی ایم اے پہلے سے ہی ہائی الرٹ پر ہے، وزیر اعلی نے متعلقہ محکموں کو مشینری کو استعمال کرکے امدادی کاموں کی ہدایت کردی ہے جبکہ متاثرہ علاقوں میں ٹینٹ، دیگر امدادی سامان بجھوایا جارہاہے۔ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہاکہ ضلع گوادر اور بولان میں سیلابی ریلے کے باعث سڑکیں بند ہوگئی ہیں جنہیں کھولنے کیلئے اقدامات کیے جارہے ہیں۔ انھوں نے کہاکہ بہت سارے ڈ یمز میں اوور فلو ہورہاہے اب تک بارشوں سے تین افراد جا ں بحق ہوئے ہیں عوام سے اپیل ہے کہ وہ غیر ضروری سفر سے گریز کریں۔انہوں نے ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ  حساس مقامات سے آبادیوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جائے۔

مزید :

علاقائی -بلوچستان -کوئٹہ -