میں …… میرا…… مجھے!

  میں …… میرا…… مجھے!
  میں …… میرا…… مجھے!

  


خواتین و حضرات شاید آپ کو معلوم نہ ہو کہ ٹیلی فون پر گفتگو میں سب سے زیادہ استعمال ہونے والا لفظ ”میں“ ہے اور اس کے ساتھ ساتھ ”میرا۔ مجھے“ سب سے زیادہ تواتر سے استعمال ہونے والے الفاظ ہیں۔ ٹیلی فون پر بات یہ وہی ”مَیں“ ہے جس کی خاطر لوگ دشمنیاں لیتے ہیں، بدعنوانی اور چوری چکاری کرتے ہیں اور قتل و غارت مچاتے ہیں۔ کسی بھی ملک کی تاریخ اٹھا کر دیکھ لیں، قتل و غارت،جنگیں، فساد، دھوکہ اور غلط بیانی، اسی مَیں کی تسکین کے لئے ہوئی ہیں، دنیا کا پہلا قتل جو ہابیل اور قابیل سے منسوب کیا جاتا ہے، ایک مَیں …… کی خاطر ہی ہوا تھا۔ ”مَیں“میں تکبر، خود سری، ضد اور خودنمائی جھلکتی ہے، اس میں کی خاطر خاندانوں، دوستوں، بھائیوں اور حتیٰ کہ ملکوں کے درمیان نفاق، نفرت، انتقام اور دشمنی جنم لیتی ہے۔


یہی، مَیں میرا مجھے جب سیاست میں آتا ہے تو سیاسی رہنماؤں، سیاسی پارٹیوں اور حکومتوں کو بھی مشکلات میں ڈال دیتا ہے۔ کوئی بھی حکومت یا سیاسی پارٹی فرد واحد کے سر پر نہیں چلتی،یہ صرف پاکستان کی سیاست ہے جہاں فرد واحد یا ایک خاندان نسل درنسل حکومت کرتا ہے اور اس خاندان کی پارٹی اسی ایک شخص اور ایک خاندان کے نام سے ہی چلتی ہے،چاہے اس خاندان میں کوئی بڑا، تجربہ کار یا صاحب بصیرت شخص ہی کیوں نہ ہو، کسی ایک نوجوان وارث ولی عہدکو پارٹی کا سربراہ بنا دیا جاتا ہے کہ حکومت اور اقتدار گھر ہی میں رہے، چاہے وہ نو عمر نابالغ ہی کیوں نہ ہو۔ ہمیں تو فکر دامن گیر ہونے لگی ہے کہ ایسے ہی خاندان میں کسی نومولود کو پارٹی سربراہ نہ بنا دیا جائے، اسی طرح ”میرا“، میرا حق، میرا فیصلہ، میرا حکم، میری رائے میری مرضی (میرا جسم میری مرضی) میری جائیداد، ”میرے سامنے بولتے ہو“ وغیرہ بھی بہت نقصان، بدامنی، جھگڑے اور عداوتیں پیدا کرتے ہیں۔ ”میری جائیداد“، انفرادی طور پر اور ”میری حکومت“ اجتماعی طور پر افراد اور قوموں کو بہت نقصان پہنچاتی ہیں۔


اسی طرح خواتین و حضرات ”مجھے“ کا بھی تواتر سے استعمال اور طاقت کے انداز میں اظہار فرد، معاشرے اور ملک کو لے بیٹھتا ہے۔”مجھے کیوں نکالا“ سے لے کر”مجھے منظور نہیں“ تک کے الفاظ پریشانیاں اور پشیمانیاں پیدا کرتے ہیں۔ مجھے یہ چاہیے، یہ میرا ہے، میں نے یہ فیصلہ کیا ہے وغیرہ کے انجام عام طور اچھے نہیں ہوتے۔ اس کی ایک مثال عمران خان، چیئرمین تحریک انصاف کے اس جملے سے دینا چاہوں گا جس نے ملکی اور عالمی سطح پر بہت شہرت اور نیک نامی حاصل کی مگر اس کا انجام اچھا نہیں ہوا۔ ہماری مراد عمران خان کا وہ تاریخی جملہ ہے ”قطعی نہیں“ "Absolutely Not" سے ہے۔
خواتین و حضرات ہمیں عمران خان کی اس ”قطعی نہیں“ کی پالیسی سے مکمل اتفاق ہے اور ہم ان کی اس حکمتِ عملی سے اتفاق کرتے ہیں جو انہوں نے امریکہ کو اڈے فراہم کرنے سے انکار کیا تاہم یہ انکار کئی اور طرح سے، محفوظ طریقے سے،

حکمت عملی سے، سیاسی انداز سے اور ہوش مندی سے بھی کیا جا سکتا تھا کہ سانپ بھی مر جاتا اور لاٹھی بھی نہ ٹوٹتی۔ یہی وہ اہم موڑ اور نقطہ تھا جس کے بعد عمران خان اور امریکہ میں فاصلے بڑھنے لگے، ہماری ناقص رائے اور دانست میں جو عمران حکومت کی رخصتی ہوئی وہ اسی ایک ننھے جملے کی بنیاد بنی۔ آپ نے محسوس کیا ہوگا کہ کبھی دو ملکوں میں جب کوئی اختلاف ہوتا ہے تو بات، بیان بازی سے شروع ہوتی ہے، پھر سرد جنگ بن جاتی ہے۔ بات زیادہ بگڑ جائے تو جنگ شروع ہو جاتی ہے۔ گویا دبی ہوئی چنگاری شعلہ بن جاتی ہے۔ اس سارے عمل میں کوئی ایک اہم حرکت وجہ اور بات ایسی بھی ہوتی ہے جو ”جنگ کی فوری وجہ“ بن جاتی ہے۔ ہماری دانست میں شاید امریکہ اور عمران کافی عرصہ سے آمنے سامنے تھے تاہم Absolutely Not تعلقات کی خرابی کی فوری وجہ بنی اور جو حکومت سے محرومی پر منتج ہوئی۔ خان صاحب اس کا جواب سیاسی انداز میں یوں بھی دے سکتے تھے کہ میری  ایک کابینہ ہے، پارلیمنٹ ہے، دفاعی اور داخلہ وزارت ہے، قومی اسمبلی ہے اور یہ کہ میں اکیلا کوئی فیصلہ کرنے پر اختیار نہیں رکھتا۔ مجھے یہ معاملہ ان فورمز پر لے جانا پڑے گا اس کے بعد ہی کچھ کہا جا سکتا ہے۔ یوں یہ چٹا انکار نہ ہوتا۔ وہ جو طارق عزیز کہا کرتے تھے……
مجھے کسی بھی تعین پہ اختیار نہیں 
یہ کوئی اور میرے راستے بدلتا ہے


عمران خان اکثر اپوزیشن کو دھمکانے کے انداز میں کہتے آئے ہیں، ”میں ان کو چھوڑوں گا نہیں۔ میں ان کو رولاؤں گا۔ میں ان کا پیچھا کروں گا“ وغیرہ۔ ایسا سیاست میں نہیں ہوتا۔سیاست میں ایک پارٹی ہوتی ہے، کمیٹیاں ہوتی ہیں، گورننگ باڈی ہوتی ہے، یوں فیصلہ ذاتی انداز میں کرنے کی بجائے مشاورت سے ہوتا ہے۔ چاہے اس میں پارٹی رہنما کی مرضی اور دھونس ہی کیوں نہ ہو، معاملہ کمیٹی، کابینہ اور اسمبلی کے سر ہی رکھا جاتا ہے۔ ذاتی بیان اور ذاتی اعلان کرنا درست نہیں ہوتا۔
یہی وجہ ہے کہ ایک فرد واحد (چودھری شجاعت حسین) کا فیصلہ عدالت نے مسترد کر دیا اور پارلیمانی پارٹی کو ہی اختیار اور اولیت دی۔ چاہے ہر فیصلے میں مرضی پارٹی سربراہ کی ہی ہو، مگر اس کا اظہار مشترکہ مشاورت کے حوالے سے ہی کیا جانا چاہیے۔


آپ کو یاد ہوگا کہ لاہور میں ہونے والی اسلامی سربراہ کانفرنس کے موقع پر نئے نئے بنے بنگلہ دیش نے شرکت سے انکار کر دیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ پہلے بنگلہ دیش کو تسلیم کرو، پھر شیخ مجیب الرحمن اس کانفرنس میں شرکت کے لئے لاہور آئے گا۔ ذوالفقار علی بھٹو کا اپنا فیصلہ تھا کہ بنگلہ دیش کو تسلیم کر لیا جائے (کیونکہ اس کی بنیادوں میں موصوف کا خون بھی شامل تھا)۔ لیکن بھٹو نے کراچی میں ایک جلسہ عام سے خطاب کیا اور عوام سے پوچھا کہ آپ کہتے ہو تو ہم بنگلہ دیش کو تسلیم کر لیتے ہیں۔ عوام کیونکہ اس وقت بھٹوکے سحر میں گرفتار تھے لہٰذا سب نے یک زبان ہو کر کہا کہ تسلیم کر لو۔ یوں ملک میں کسی کو یہ کہنے کا موقع نہیں ملا کہ اپنے ایک بازو مشرقی پاکستان کو الگ ملک کیسے مان لیں۔ اسی طرح عمران خان صاحب کو بھی تھوڑا بہت سیاسی ہونا پڑے گا۔ ”میں، میرا، مجھے“ کی گردان کی جائے، ”میری پارٹی، میری کابینہ، میرے ساتھی اور میرا پارٹی منشور“ وغیرہ کے کاندھے پر رکھ کر فائر کرنا چاہیے جو شخص شہد سے مر جائے اسے زہر دینے کی کیا ضرورت ہے۔


اشفاق احمد نے ایک مرتبہ اپنے ایک ڈرامے میں لکھا کہ انگریز جب کتاب چھاپتا ہے تو بہترین کاغذ، اعلیٰ پرنٹنگ، بہترین اور دلکش ٹائٹل اور پُرکشش تصاویراستعمال کرتا ہے۔ چاہے اس کتاب میں جھوٹ ہی نہ لکھا ہو، اس پر قربان جانے کو دل چاہتا ہے۔مرضی، منشاء چاہے پارٹی سربراہ کی ہو، مگر ”طریقہ واردات“ ایسا ہو کہ وہ مشاورتی فیصلہ لگے، پارٹی کی رہنمائی اور پارٹی پر حکومت کرنے میں فرق ہوتا ہے۔ خان صاحب کی تقاریر میں، ”میں میرا مجھے“ کی تکرار ہوتی ہے۔اس سے نعرے تو بلند لگ جاتے ہیں، جلسہ گرم بھی ہو جاتا ہے، خوب تالیاں بھی بج جاتی ہیں مگر پارٹی کے دیگر رہنماء اور عہدے دار پس منظر میں چلے جاتے ہیں۔
خواتین و حضرات یہاں یہ عرض کرنا بھی ضروری ہے کہ عمران خان کو کسی متبادل قیادت کا انتظام اور تیاری بھی کرنی چاہیے جو ان کی عدم موجودگی اور ان کے بعد پاکستان تحریک انصاف کو قائم و دائم رکھ سکیں، اسی انداز سے جو اس پارٹی کا خاصہ ہے۔ ہر بات پارٹی کے مشورے سے اور اس کا اعلان پارٹی کی منشا بتا کر کرنے سے عمران خان کی مقبولیت میں فرق نہیں پڑے گا اور نہ ہی ان کے اختیارات اور پارٹی پر گرفت کمزور ہو گی۔ سیاسی رہنما یا پارٹی کا سربراہ ہونے اور ”سلطان راہی“ بننے میں فرق ہوتا ہے۔
یہ حقیقت ہے کہ ملکی اور غیر ملکی سطح پر جو تھوڑی بہت خان صاہب کی مخالفت ہے وہ ان کے رویوں کی وجہ سے ہے، پارٹی پالیسی یا سیاسی حکمتِ عملی سے اختلاف کی بناء پر نہیں۔

مزید :

رائے -کالم -