بنگال مسلمانوں کی اکثریت والا علاقہ ہوگیا، مسلمان اپنی تعلیم ، اقتصادیات اورسماجی ترقی کا سوچنے لگے، یہ سارا سلسلہ نواب سرخواجہ سلیم اللہ کی کاوش کا نتیجہ تھا

بنگال مسلمانوں کی اکثریت والا علاقہ ہوگیا، مسلمان اپنی تعلیم ، اقتصادیات ...
بنگال مسلمانوں کی اکثریت والا علاقہ ہوگیا، مسلمان اپنی تعلیم ، اقتصادیات اورسماجی ترقی کا سوچنے لگے، یہ سارا سلسلہ نواب سرخواجہ سلیم اللہ کی کاوش کا نتیجہ تھا

  

 تحریر : پروفیسر ڈاکٹر ایم اے صوفی

قسط (8) 

یہ وہی نواب سلیم اللہ ہیں جن کی سعی جمیلہ سے آل انڈیا مسلم لیگ کی بنیاد اُ ن ہی کی رہائش گاہ پر ڈھاکہ میں1906ءمیں رکھی گئی اور اُسی آل انڈیا مسلم لیگ کی قیادت اور جدوجُہد نے پاکستان حاصل کیا۔ نواب سر خواجہ سلیم اللہ بہادر (1871-1915ئ) غیر منقسم بنگال کے نامور مسلمان زمیندار تھے۔ انہوں نے اپنی زندگی میں بڑے تاریخی کارہائے نمایاں سرانجام دیئے جو اُن کے دِل و دماغ کی خاصیت اعلیٰ کا نتیجہ تھا۔ وہ غیر منقسم بنگال کے پِسے ہوئے مسلمانوں کے بڑے خیر خواہ ، عوام پرور انسان تھے۔ وہ چاہتے تھے کہ مسلمان اسی صدی میں سرخُرو ہو جائیں۔پیدائشی اعتبار سے سلیم اللہ نواب تھے لیکن اُن کے کام فلاحی تھے اور عام لوگوں کی حالت بہتر کرنے پر تلے رہے۔ تقسیم بنگال اُن کے ذہن فہم کی پیداوار تھی اور مسلمانوں کے مفاد کےلئے عملی صورت نکالی کہ صوبہ بنایا جائے تاکہ حالت سنوار سکیں۔ مثلاً مشرقی بنگال اور آسام کو ملاِ کر ایک صوبہ بنایا جائے تاکِہ مسلمانوں کو تعلیم حاصل کرنے کے مواقع ، سرکاری ملازمتوں میں آسامیاں اور کاروبار میں حصہ داری میسّر آئے اور مسلمانوں کی حالت میں بہتری ہو ، بنگال میں مسلمان غربت ،بے روزگاری کا شکار تھے۔

گویا دو قومی نظریہ ، تقسیم بنگال یا تقسیم ہندتو انیسویں صدی کے آغاز میں بھی موجود تھی ۔جب مشرقی اور مغربی بنگال متحدہ تھے۔ کلکتہ دارالخلافہ تھا تعلیمی مراکز ، تجارتی اور صنعتی میدان پر ہندوﺅں کا قبضہ تھا۔ مسلمانوں کو موقع کم میسّر آتا تھا اِسی بنا ءپر ڈھاکہ میں مسلم لیگ کی بنیاد پڑی۔ گویا پاکستان کی عمارت کی بنیاد نواب سرخواجہ سلیم اللہ نے آل انڈیا مسلم لیگ کی صورت میں رکھی تاکہِ مسلمانوں کو ہندوﺅں کی برتری اور سودی نظام سے نجات دلائی جائے۔

 اس کے علاوہ نواب خواجہ سر سلیم اللہ نے ایسٹ بنگال آسام صوبائی مسلم ایسوسی ایشن ، ایسٹ بنگال آسام مسلم ایجوکیشن ایسوسی ایشن اور ایسٹ بنگال آسام صوبائی مسلم لیگ ایسوسی ایشن کی بنیاد رکھی۔ ان تمام سماجی سرگرمیوں ،محنت اورکاوش کا مقصد مفلوج، غریب کاشتکار ، فنی مزدور ، ترقی پذیر علاقوں کے مسلمانوں کی حالت بدلنے کا راستہ تھا۔ وُہ بڑے شائستہ دِل و دماغ کے مالک تھے۔ اُن کی اپنی تعلیم محل میں ہوئی۔ اُن کے اتالیق اُردو،فارسی،جرمنی اور انگریزی زبان کے ماہرین تھے۔ اِسی بناءپر نواب سلیم اللہ اُردو اور فارسی خوب جانتے تھے اور گفتگو اعلیٰ درجہ کی کرتے تھے۔اِسی کلچر اور تہذیب کی وجہ سے اُن کو تعلیم کے میدان میں ریفارمر کا درجہ دیا جاتا ہے۔ وُہ ہر قسم کی تعلیم کے فروغ کےلئے سرگرداں تھے۔ چونکہ وہ لذتِ تعلیم سے آشنا تھے اور لباس اور نفاست میں درجہ رکھتے تھے۔ اُن کی باتوں سے تعلیم کے فروغ کی خوشبو آتی تھی۔ وہ رئیس العلیم تھے۔ وُہ حقیقت میں پسے ہوئے مسلمانوں کے خیرخواہ تھے۔ وُہ لوگوں کو قیمتی مشورہ دیتے تھے۔

نواب سلیم اللہ صاحب نے قدیم مدرسہ سلسلہ تعلیم میں تبدیلی لانے کی سوچ پیدا کی۔اس کی پلاننگ کو حقیقی رنگ دیکر ماڈرن ایجوکیشن سسٹم کو مدرسہ میں رائج کیا اور اس طرح بے شمار مولانا انگریزی اور ریاضی کے مضامین کے ماہرین سامنے آئے۔ڈھاکہ یونیورسٹی کی بنیاد (یونیورسٹی) رکھی گئی۔اس زمانے میں ڈھاکہ یونیورسٹی کو آکسفورڈ آف دی ایسٹ کا خطاب دیا گیا۔ نواب سلیم اللہ خان نے ایک بہت بڑا ہال مسلم طلباءکی غیر نصابی سرگرمیوں کےلئے تحفہ میں دیا۔اس ہال کا نام نواب سلیم اللہ مسلم ہال رکھا گیا۔یہ ایشیاءکی تمام یونیورسٹیوں میں بڑا ہال ہے۔ وُہ سخی تھے۔ اپنے خزانے سے بے شمار غریب طالبعلموں کی مدد کرنا اُن کا وطیرہ تھا۔ غیر منقسم بنگال کے مسلم یتیم بچوں کےلئے یتیم خانہ تعمیر کیا۔ اِس یتیم خانہ کا نام بھی سلیم اللہ مسلم آرفینج تھا۔وہ مسلمانوں کی حالت بدلنے کےلئے کوشاں رہتے تھے۔ انہوں نے دولت کا استعمال عام مسلمانوں کی حالت بدلنے کےلئے کیا۔وُہ اپنی نوعیت کے مسلمان نواب تھے۔جن کی تڑپ بنگال کے مسلمانوں کے سماجی، تعلیمی، اقتصادی حالات کو بدلنے میں مضمر تھی۔اُن کی منصبوبہ بندی ، سوچ مسلمانوں کو ہندو کے اثر سے نجات دلانا تھی۔چونکہ انگریز نے بنگال پر1753 میں قبضہ کیا تھا اور مسلمانوں کو ہر فیلڈ میں دبانے کی کوشش کی۔ 1857ءکی جنگ آزادی کے بعد انگریز اور ہندو مسلمانوں کے خلاف سازشیں کرتے اور مسلمانوں کو نیچا دکھانے کےلئے ہر دم تیار رہتے۔لارڈ کرزن (1908-1905ئ) وائسرے ہند آئے۔ انہوں نے بنگال کے بہتر انتظامی اُمور اور تقسیم بنگال کا اعلان کر دیا۔

 بنگالی ہندوﺅں نے اِس تقسیم کی مخالفت کر دی۔ اس وقت نواب سلیم اللہ مسلمان لیڈر تھے جو تقسیم بنگال کے حق میں تھے۔ اسی تقسیم میں مشرقی بنگال کے مسلمانوں کےلئے ترقی کے راستے تھے ۔اِس سکیم سے بنگال کے مسلمان ہند و کی بالا دستی سے آزاد ہوئے۔ سود کے نظام سے نجات اور تجارت و صنعت و حرفت میں خود اعتمادی مسلمانوں میں آنی تھی۔ کیونکہ اس تقسیم سے مسلمانوں کی آبادی والے حصہ میں مسلمانوں کا جُدا صوبہ بننا تھا اور مسلمان اپنے صوبے کی ترقی میں حصے دار ہونے تھے۔لہٰذا نواب سلیم اللہ اِس تقسیم کے حق میں پبلک پلیٹ فارم پر آگئے۔ آپ کی زبان میں شائستگی تھی۔ جذبہ تھا اور مسلمانوں کےلئے درد تھا۔آپ نے پورے بنگال میں تقسیم بنگال کی مہم جاری کردی۔ لوگوں کی رائے نواب سلیم اللہ خان کی آواز بن گئی۔ بنگال کے سرکردہ مسلمان اس تحریک میں شامل ہو گئے ۔ اس تحریک نے مسلمانوں کے شعور کو مزید تقویت بخشی اور انہوں نے آزادی کےلئے اپنا مستقبل کا نقشہ تیار کر لیا۔ 

بندگی میں گھٹ کر رہ جاتی ہے اک جُوئے کم آب 

اور آزادی میں بحر بے کراں زندگی

(اقبالؒ)

جب سرکاری طور پر تقسیم بنگال کا اعلان ہوا اور اس تقسیم سے مسلمانوں کی اکثریت والا علاقہ پیدا ہوگیا۔جہاں مسلمان رہ کر اپنی تعلیم ، اقتصادیات،سماجی ترقی کا سوچنے لگے۔ یہ سارا سلسلہ نواب سرخواجہ سلیم اللہ کی کاوش اور سوچ کا نتیجہ تھا۔ چنانچہ اِس 6 سال کے عرصہ میں مسلمانوں میں تعلیمی شعور پیدا ہوا۔ تجارت اور کاروبار بڑھنے لگا۔ سرکاری ملازمتوں میں مسلمان بھرتی ہونے لگے۔تاہم ہندو نے تقسیم بنگال کی بڑی مخالفت کی۔جلسے، جلوس،ہڑتالیں،املاک کا نقصان،فسادات شروع ہو گئے۔پورے ہندوستان کے لیڈر تقسیم بنگال کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے۔ لارڈ کرزن کی جگہ لارڈ ہارڈنگ وائسرائے ہند11ستمبر 1911ءکو آگئے۔ آپ نے ڈھاکہ کا دورہ کیا۔ صوبہ کی ترقی سے وائسرائے ہند خوش ہوئے اور اعلان کیاکہ ڈھاکہ یونیورسٹی کا قیام عمل میں لایا جائے۔ 

 نواب سلیم اللہ خان نے بنگال کے مسلمانوں کو خصوصی دعوت دی کہ وہ مسلم لیگ میں شامل ہوں تاکہ مسلمانوں کی آواز کو اکٹھا کیا جائے۔اس عمل سے کئی مقتدر لیڈر سامنے آ ئے جو نواب صاحب کے خیالات کے حامی تھے۔16جنوری1915ءکو نواب سلیم اللہ کی وفات ہو گئی۔ تاہم نواب علی چوہدری اور مولانا اے کے فضل حق نے مسلم لیگ کی قیادت سنبھالی ۔ 

 نواب سر سلیم اللہ نے لارڈ ہارڈنگ کے اِس پر اُمید وعدہ کو بروئے کارلانے کےلئے اپنی جدوجہد اور مصروفیت میں اضافہ کردیا اور یونیورسٹی کی تیاری میں ٹھن گئے۔ یونیورسٹی ایک ذریعہ تھی،جہاںسے مستقبل کے لیڈر،سوچ و بچار کرنے والے ماہرین،اکنامکس، تجارت، لٹریچر،لسانیات، شماریات، فزکس،کیمسٹری اور دیگر علوم کے ماہرین میسر آنے تھے۔

 اب وقت آگیا تھا کہ نواب صاحب سیاست کے میدان میں داخل ہو کر بنگال کے مسلمانوں کی قیادت سنبھالیں۔ نواب صاحب نے تعلیم کے میدان میںبڑی خدمات سرانجام دیں اور صوبہ کی تقسیم کے سلسلے میں بڑا کردار ادا کیا۔ہندووں کی مخالفت کی بناءپر تقسیم شدہ بنگال 1911ءمیں لارڈ ہارڈنگ حکومت نے یکجا کر دیا۔ نواب صاحب کو بڑا صدمہ ہوا۔ کیونکہ تقسیم بنگال کی وجہ سے ایسٹ بنگال کے مسلمانوں نے بڑی ترقی کی۔ہندووں کے پنجے سے آزاد ہوئے، یونیورسٹی اور تعلیمی ادارے قائم ہوئے۔

 نواب سلیم اللہ غیر منقسم بنگال کے منفرد لیڈر تھے جن کی بے پناہ عزت تھی۔ مگر وہ سیاست سے ریٹائر ہو گئے۔ نواب سلیم اللہ کی ریٹائرمنٹ کے بعد مسٹر اے کے فضل حق بنگال اور آسام کے لیڈر ہوئے۔ آپ نے1940ءمیں قرار داد لاہورکے حق میں تائید کی۔ تاہم نواب سلیم اللہ تعلیمی سرگرمیوں میں شرکت کرتے رہے۔ آپ نے وفات سے قبل آل انڈیا محمڈن ایجوکیشنل کانفرنس اور ایسٹ بنگال و آسام ایجوکیشنل کانفرنس کی وقتاً فوقتاً صدارت کی۔ نواب سلیم اللہ صاحب کا سب سے بڑا احسان بنگال اور دیگر ہند کے مسلمانوں پر یہ تھا کہ30 دسمبر1906ءکو آل انڈیا مسلم لیگ کی بنیاد پڑی۔10اکتوبر 1913ءقائد اعظم محمد علی جناحؒ آل انڈیا مسلم لیگ کے ممبر ہوئے۔قیادت سنبھالی اور مسلم لیگ کی جدوجہد کی وجہ سے 14 اگست1947ءکو تقسیم ہند کے نتیجے میں دنیا کی بڑی اسلامی ریاست معرضِ وجود میں آئی۔ اس عظیم ملک کے2 حصے ایک ہزار میل کی مسافت پر تھے۔ ایک حصہ مشرقی بنگال آسام پرمشتمل مشرقی پاکستان جبکہ دوسرا حصہ پنجاب،سرحد،سندھ اور بلوچستان پر مشتمل مغربی پاکستان قائم ہوا اور مشرقی حصہ16 دسمبر1971ءکو بنگلہ دیش بن گیا۔

 نواب سیلم اللہ7جون1871ءڈھاکہ کی نواب فیملی میں پیدا ہوئے۔ بچپن کی زندگی ڈھاکہ میں گذری اُن کے اتالیق برطانوی ، جرمنی ، اُردو اور فارسی کے ماہرین تھے۔ جو اُن کو محلات میں تعلیم دیتے تھے۔ آپ کی شادی 1893ءمیں ہوئی اور اسی سال سرکار ہند کا ڈپٹی مجسٹریٹ کا عہدہ میسّر آیا۔ آپ مہمن سنگھ ضلع میں یکم نومبر1893ءسے11مارچ 1894ءتک تعینات رہے۔ پھر مظفرپور بہار لگائے گئے ۔ آپ مارچ1895 ءتک مجسٹریٹ رہے۔پھردل اچاٹ ہو گیاتو استعفیٰ دےدیا, والد ماجد کی ناگہانی موت 16 دسمبر1901ءمیں ہو گئی۔ اُن کو تار آیا۔ باپ کی وفات کے بعد سلیم اللہ خان کو نیانواب 1901ءمیں چُن لیا گیا۔

 بحیثیت سربراہ فیملی آپ نے پنچائیت سسٹم کی سربراہی کو سنبھالا, اس سے قبل پنچائیت سسٹم کو ہر محلہ کے سردار چلاتے تھے جو منتخب ہوتے تھے۔ نواب صاحب حکومت برطانیہ کے اداروں اور ڈھاکہ کی ترقی کے بارے میں سردار پنجائیت سے رابطہ رکھتے اور قانونی قسم کے مقدمات کے فیصلہ کرتے تھے وہ اس قدر ہر دلعزیز فیصلے کرتے کہ عوام سرکاری عدالت کی طرف رجوع کرنا چھوڑ گئے۔ کیونکہ کچھ عرصہ قبل مجسٹریٹ رہ چکے تھے اور آئین سے واقفیت ہو چکی تھی۔ لوگوں کے حالا ت جا ن گئے تھے،آپ کی قیادت کے تحت خان بہادر خواجہ محمد اعظم نے پنجائیت کے سسٹم میں تبدیلی لانے کی کاوش کی۔ 

 16اکتوبر1905 ءکو تقسیم بنگال کے فارمولا کا اعلان ہو گیا ۔ ایسٹ بنگال اور آسام ایک صوبہ جو مسلمانوں کی اکثریت آبادی پر مشتمل تھا ہو گیا۔ اس کا دارالخلافہ ڈھاکہ ہو گیا۔ مغربی بنگال کا صوبہ جُدا ہو گیا اس کا دارالخلافہ کلکتہ بن گیا۔سربام فیلڈ فلر(SIR BAMFIELD FULLER )اس نئے صوبہ کے لیفٹینٹ گورنرمقرر ہو گئے۔ 

 15اکتوبر1905ءسے قبل بنگال صوبہ کے ساتھ بہار، اڑیسہ اور بنگال پریذیڈنسی تھی۔ اس کا دارالخلافہ کلکتہ تھا۔ نئے صوبہ میں آسام ، ڈھاکہ ڈویژن ، چٹاکانگ ڈویژ ن ، راجسثائی ڈویژن تری پورہ اور مالدار آ گئے۔ اس وقت ایسٹ بنگال صوبہ کی مسلمانوں کی آبادی1,80,00000تھی جبکہ کل آبادی 3,10,00,000 تھی۔

 نواب سلیم اللہ خان کی زندگی کی بڑی کامیابی تھی کہ مسلمانوں کی اکثریت والے مشرقی بنگال اور آسام کو ملا کر ایک نیا صوبہ مسلم بنگال بن گیا مگر اسی قوت کے ساتھ ہندو لیڈر شپ مخالف تھی۔ پنڈت سراندراناتھ بینرجی(1848-1925ئ) ایک جابر قسم کا صوبہ کی تقسیم کا مخالف ہندو تھا۔ سربام فیلڈ لیفٹینٹ گورنر نے اپنے ریکارڈ میں مسلمانوں کی خوشی میں ان کی دُعائیں ریکارڈ کرلیں۔ مگر ہندو نے اعلان کیا” دھرتی ماتا کی ناجائز تقسیم ہے جس کا نام کالی دیوی ہے“۔ہندوﺅں نے متشدد تحریکیں چلا ڈالیں۔ اور بنگالی لیڈر اور کانگریسی لیڈر ہڑتالوں ، توڑ پھوڑ میں شامل ہوگئے۔ اسی بات کا نواب صاحب کو خدشہ تھا کہ ہندو، کانگریسی اور ایسے لوگ مخالفت کریں گے۔ 

 ان حالات کا مقابلہ کرنے کےلئے مسلمانوں کے مفاد کا خیال کرنے والی سیاسی جماعت کی ضرورت مسلمانوں نے محسوس کر لی۔ کیونکہ پارٹیشن آف بنگال سے مسلمانو ں کے مفاد کو تقویت میسّر ہو سکتی تھی۔لہٰذا ایک سیاسی پلیٹ فارم کےلئے نواب سلیم اللہ نے سوچا۔16 اکتوبر1905ءکے روز بنگال کی تقسیم کا اعلان ہو گیا۔اِس موقع پر پبلک میٹنگ نارتھ بروک ہال ڈھاکہ میں رکھی گئی۔ نواب سر سلیم اللہ نے صدارت کی۔ اس میں چیدہ چیدہ لوگوں نے شرکت کی۔اس میٹنگ میں ایک سیاسی آرگنائزیشن جوبنگالی مسلمانوں کو تحفظ دے تجویز دی گئی۔ جس کا نام ” محمڈن صوبائی یونین“ رکھا گیا۔ یہ برٹش انڈیا کی پہلی سیاسی تنظیم تھی جو مشرقی بنگال ڈھاکہ میں ترتیب دی گئی۔ نواب سلیم اللہ کو سرپرست اعلیٰ ، نواب مرزامعظم آف شائستہ آباد صدر اور نواب محمد یوسف خان بہادر کو سیکرٹری منتخب کر لیا گیا۔ نواب سلیم اللہ نے تقسیم بنگال کو سراہا اور نئی تنظیم کے قیام کو مسلمانوں کےلئے اچھا شگون قرار دیا۔

 نواب سلیم اللہ خان کو تعلیمی خلش مسلمانوں کےلئے تھی۔ چنانچہ سر سید احمد خان کی طرزماڈل پر ایسٹرن بنگال اینڈآسام صوبائی محمڈن ایجوکیشنل کانفرنس کو ترتیب کیا۔ اس محمڈن ایجوکیشنل کانفرنس کی پہلی میٹنگ 15اپریل1906ءمیں نواب سلیم اللہ خان کی زیر صدارت شاہ باغ میں منعقد ہوئی۔آپ نے اپنی تقریر میں موجودہ نظام تعلیم پر تنقید کی اور نئی اصلاحات تعلیم کےلئے تجویز کیں۔

بنگال کی تقسیم سے مسلمانوں کے شعور میں تبدیلی آئی۔ خود اعتمادی میں اضافہ ہوا۔ انگریز لیفٹیننٹ گورنر نے بھی اس تبدیلی میں دلچسپی لی اور اس طرح مسلمانوں کے لیے سرکاری محکمہ میں آسامیاں نکلنے لگی اور تعلیمی اداروں میں ہوسٹل تعمیر ہونے لگے۔ تعلیم میںدلچسپی بڑھنے لگی۔ ہندوﺅں نے اس لیفٹیننٹ گورنر کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ انگریز سرکار کو یہ بات ناپسند آئی فلر کی غیرت نے گوارا نہ کیا اور اگست 1906ءمیں اس نے استعفیٰ دے دیا۔ 

مسلمانوں کو ایک اور ہلکی سی اُمید نظر آئی کہ سیکرٹری آف انڈیا لارڈ مورلے نے برطانیہ کی پارلیمنٹ میں 1906ءمیں اپنی تقریرمیں انڈیا کی حالت بدلنے کےلئے ”ڈیمو کریٹک سسٹم“ ہندوستان کے ایڈمنسٹریشن کےلئے تجویز دی۔ ان ہی ایاّم میں نواب سلیم اللہ نے سیاسی پلیٹ فارم کا آئین اور چند نکات تیار کیے اور اس کا نام آل انڈیا مسلم کنفیڈریسی تجویز کیا گیا اور اس کی کاپیاں ہند کے چیدہ چیدہ مسلمانوں کو بھجوادیں۔ 

 آل انڈیا محمڈن ایجوکیشنل کانفرنس میں ہندوستان بھر سے1500 مندوبین اور 500 مبصرین نے شرکت کی۔ اخراجات سب کے سب نواب سلیم اللہ نے ادا کیے۔ 

30 دسمبر1906ءکو اختتامی اجلاس زیر صدارت نواب وقارالملک ہوا۔جس میں آل انڈیا سیاسی پارٹی کی تشکیل کا سوچا گیا۔ اس اختتامی اجلاس میں نواب سلیم اللہ خان نے بڑی مدلل اور طویل تقریر کی اور مسلمانوں کی حالت میں تقسیم بنگال کے بعد تبدیلی کا ذکر کیا اور بتایا کہ آل انڈیا مسلم کنفیڈریسی کیوں بنائی گئی۔ اور مسلمانوں کی سیاسی تربیت کےلئے ایک متحدہ سیاسی پلیٹ فارم کی ضرورت پر زور دیا۔ حکیم اجمل خان آف دہلی نے تائید کی۔ لہٰذا نئی سیاسی جماعت کا نام آل انڈیا مسلم لیگ بااتفاق رکھا گیا اور نواب سلیم اللہ کو نائب صدر چن لیا گیا۔ ( جاری ہے ) 

کتاب ”مسلم لیگ اورتحریکِ پاکستان“ سے اقتباس (نوٹ : یہ کتاب بک ہوم نے شائع کی ہے، ادارے کا مصنف کی آراءسے متفق ہونا ضروری نہیں ۔ )

مزید :

بلاگ -