انسان سے مصارف عامہ کےلئے اس کی حیثیت اور ملکیت کے اعتبار سے کام لینا چاہیے

 انسان سے مصارف عامہ کےلئے اس کی حیثیت اور ملکیت کے اعتبار سے کام لینا چاہیے
 انسان سے مصارف عامہ کےلئے اس کی حیثیت اور ملکیت کے اعتبار سے کام لینا چاہیے

  

تحریر: ملک اشفاق

قسط: 38

 اخلاقیات کی کتاب پنجم میں محض عدالت اور اس کے متعلق فضائل پر بحث ہے۔ افلاطون اس یونانی لفظ ، جس کا ترجمہ عدالت کیا جاتا ہے، وسیع فلسفیانہ معنی لیتا تھا اس کے برعکس ارسطو مروجہ معنی کی تحلیل و تعیین کرنا چاہتا ہے اور اس میں اس کو یہ معلوم ہوتا ہے کہ مروجہ معنی میں باہم اختلاف ہے۔ سب سے پہلے تو عدالت کا مفہوم حکومت کے قوانین کا اتباع لیا جاتا ہے اور چونکہ بظاہر قوانین رعایا کی فلاح و اصلاح کے لیے ہوتے ہیں۔ اس لیے اس لفظ کے معنی معاشرتی فضیلت کے ہو جاتے ہیں اور چونکہ جو شخص اپنے ہمسائے کا حق ادا کرتا ہے اس کو بھی صاحبِ فضیلت کہتے ہیں اس لیے عدالت کو کامل فضیلت کے مساوی کہا جاتا ہے۔ مگر ارسطو عدالت سے زیادہ تر محدود معنی میں بحث کرتا ہے اور محدود معنی میں اس کا اظہار ایسے فعال سے ہوتا ہے جن کا تعلق شخصی اعمال و افعال سے ہے۔ اس خاص عدالت کی پھر قسمیں کی جاتی ہیں۔(1) تقسیمی عدالت(2) اصلاحی عدالت۔ تقسیمی عدالت کے دو اصل ہیں۔ ایک تو یہ کہ کسی تجارت یا معاملہ کے حصہ دار کو اس سے اتنا منافع ملنا چاہیے جتنا کہ اس کا حصہ ہے۔ دوسرا یہ کہ انسان سے مصارف عامہ کےلئے اس کی حیثیت اور ملکیت کے اعتبار سے کام لینا چاہیے۔ پہلے کو شغل اصل کے دوسرے کو اجزائے محصولات کے مساوی کہہ سکتے ہیں۔ اصلاحی عدالت قانونِ زمین کی خلاف ورزیوں سے بحث کرتی ہے۔ اس جرمانہ یا معاوضہ کا اندازہ نقصان سے ہوگا اور اس کو(تقسیمی عدالت کی طرح) اشخاص کے خاص حالات سے کوئی بحث نہیں ہے۔

 اس کے علاوہ عدالت کی اور بہت سی قسمیں ہیں۔ جب اس پر کسی سیاسی قانون کے حوالے کے بغیر غور کرتے ہیں تو یہ نیک نیتی ہے جس سے قانونی احکامات سے علیٰحدہ عدالت کی محبت ظاہر ہوتی ہے۔

 ارسطو کہتا ہے کہ قدیم اخلاقی فیصلہ تو محبت نفس کو عیب قرار دیتا ہے مگر واقعہ یہ ہے کہ ہر شخص اپنی اغراض و مفاد کے فکر میں رہتا ہے اور یہ بات بالکل عقل کے مطابق ہے کہ انسان سب سے زیادہ اپنے نفس سے محبت کرے۔ اس معمے کی کنجی لفظ اپنے کے ابہام کے اندر ہے۔ برا آدمی صرف اپنی غیر معقول ذات کو دوست رکھتا ہے اور اس لیے وہ اپنے حق سے زیادہ روپیہ، عزت ،لذت جسمانی اور دوسری چیزیں لینا چاہتا ہے اور اس سے اس کی ذات خوش ہوتی ہے۔ لیکن ذات میں بہ حیثیت مجموعی ایک معقول حصہ بھی ہوتا ہے اور یہ انسان کے افعال کا صحیح ہادی و حاکم ہوتا ہے۔ پس جو شخص صحیح معنی میں اپنی ذات کو دوست رکھتا ہے وہ عقل کی اتباع کرتا ہے۔ وہ افعالِ حسنہ کو سب سے زیادہ دوست رکھتا ہے اور اس سے وہ اپنی اور دوسروں کی خدمت انجام دیتا ہے۔ اگر حقیقی خیرداعی ہو تو وہ اپنی دولت حتیٰ کہ اپنی جان تک اس کے حصول کے لیے قربان کر دیتا ہے۔ لیکن برا آدمی اپنا اور دوسروں کا دشمن ہوتا ہے، کیونکہ وہ صرف اپنی ذات کو خوش رکھتا ہے جو کہ اس کی کل ذات کا صرف ایک جزو اور درحقیقت جھوٹی اور کاذب ذات ہے۔

 اس امر سے تو انکار نہیں ہو سکتا کہ لذت کے حصول اور الم سے بچنے کی خواہش افعالِ انسانی کی سب سے بڑی محرک ہے اور متفین اس حقیقت سے سزائیں دینے میں فائدہ اٹھاتے ہیں۔ لیکن لذت کی اخلاقی قیمت کیا ہے اور نعمتوں کے میزان میں اس کی منزلت کون سی ہے؟ یہ امر تو مسلم ہے کہ لذت بھی ایک خیر ہے کیونکہ قدرتی طور پر ہم اس کی خواہش اسی کی خاطر کرتے ہیں کسی دوسری تشفی کےلئے خواہش نہیں کرتے۔ لیکن لذت مسرتِ کامل کا جزو اعظم و اہم نہیں ہو سکتی کیونکہ عام طور پر تجربہ ہوتا ہے کہ بعض لذتیں اپنے ناپاک متلازمات کی وجہ سے شرہوتی ہیں۔ ہر قسم کی زیادتی اور ہر قسم کی افراط سے بری ہیں اور یہی حال لذات کا ہے اس سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ لذت نہ خیرِ برتر ہے اور نہ اعلیٰ درجہ کی نعمت ہے۔ ارسطو کا عام نتیجہ (اگر ہم یہ مان لیں کہ اس کا استدلال صحیح ہے جس کے متعلق بہت زیادہ شک کیا گیا ہے) یہ ہے کہ لذت مسرت کا ایک لازمی عنصر ہوتی ہے لیکن اس کا صرف یہی ایک عنصر نہیں ہے۔ کتابِ ہفتم میں جس کو عموماً یوڈیمس سے منسوب کیا جاتا ہے، لذت کی یہ تعریف کی جاتی ہے کہ یہ روح کی ایسی فضیلت ہوتی ہے جس کی راہ میں کسی قسم کی رکاوٹ نہیں ہوتی اور اس میں اس کو مسرت کا بالکل عین بنایا جاتا ہے۔ سقراط فضیلت کو عملی بصیرت کہتا تھا۔ یعنی ایسا علم جس سے عمل میں کام لیا جاتا ہے۔ ارسطو یہ تسلیم کرتا ہے کہ فضائل اور عملی بصیرت واقعاً ایک دوسرے سے جدا نہیں ہو سکتیں لیکن اس کے ساتھ وہ کہتا ہے کہ یہ ایک دوسرے کا عین ہیں۔ فضیلت عملی عنصر (بصیرت) کے بغیر اخلاقی نہیں بلکہ فطری یا جبلی ہوتی ہے کیونکہ اخلاقی فضیلت کی تعریف میں تو یہ کہا جاتا ہے کہ جذبات اور خواہش عادتاً عقل کے تابع ہوتی ہیں۔ اس لیے جو شخص عملی بصیرت رکھتا ہے اس میں ہر قسم کی اخلاقی فضیلت موجود ہوتی ہے کیونکہ کامل طورپر عملی بصیرت ذی فضیلت افعال سے پیدا ہوتی ہے اور یہ پھر عملی عادات سے نیک افعال کی طرف لے جائے گی۔(جاری ہے )

نوٹ :یہ کتاب ” بک ہوم “ نے شائع کی ہے ، جملہ حقوق محفوظ ہیں (ادارے کا مصنف کی آراءسے متفق ہونا ضروری نہیں )۔

مزید :

ادب وثقافت -