پنجاب پر بیرونی حملوں کے اصل محرکات

 پنجاب پر بیرونی حملوں کے اصل محرکات
 پنجاب پر بیرونی حملوں کے اصل محرکات

  

 مصنف: پروفیسر عزیز الدین احمد

قسط (6)  

محمود غزنوی کے حملے:

حملہ آوروں کے پیش نظر کبھی بھی اسلام کی تبلیغ کا مقصد نہ تھا۔ ان حملہ آوروں نے یا باہر سے آکر برصغیر کے تخت شاہی پر متمکن ہو جانے والوں نے تبلیغ اسلام کی خاطر کبھی کوئی واضح اور ٹھوس اقدامات نہیں کئے وہ ملک گیری اور کشور کشائی کے لیے برصغیر میں داخل ہوئے تھے۔ جہانگیری، عالمگیری اور شاہجہانی ان کا اولین اور آخر مقصد تھا۔ 

اگر محمود غزنوی نے اسلام پھیلانے کی خاطر برصغیر پر17حملے کیے ہوتے تو وہ ان کےساتھ ساتھ مبلغین کی ایک جماعت بھی ہندوستان بھیجتا۔ تبلیغ اسلام کےلئے سرکاری محکمہ قائم کرتا، اسلام کی حمایت اور ہندو عقائد کی تکذیب کےلئے کتابیں لکھواتا، ہندوستان میں اسلام کی حقانیت ثابت کرنے کےلئے مذہبی مباحثوں کا اہتمام کرتا۔ تاریخ شاہد ہے کہ اس نے اس قسم کا کوئی اقدام نہیں کیا۔ محمود غزنوی نے اپنے دور میں اگر کسی علمی کام کی سرپرستی کی تو وہ بھی قبل اسلام کے ایرانی بادشاہوں کی تاریخ مرتب کرانے کا کام تھا جو اس نے فردوسی کے سپرد کیا اور اس کےلئے بھی طے شدہ معاوضہ اپنی کنجوسی کی وجہ سے ادا کرنے سے گریز کیا۔ 

محمود غزنوی کے ہندوستان پر حملے کا مقصد تبلیغ اسلام کی بجائے دولت حاصل کرنا تھا مؤرخ جابجا محمود غزنوی کی سیم و زر سے محبت کا تذکرہ کرتے ہیں۔ اور اس سلسلے میں جو واقعات نقل کرتے ہیں وہ سلطان کے ہندوستان پر حملہ کرنے کے اصل محرکات کی نشاندہی کرنے کے لیے کافی ہیں۔ مشہور مسلمان مؤرخ محمد قاسم فرشتہ اسی طرح کا ایک واقعہ اس طرح بیان کرتا ہے۔ 

”ابوالحسن علی بن حسین میمندی کا بیان ہے کہ ایک دن سلطان محمود نے ابو طاہر سامانی سے یہ سوال کیا کہ آل سامان نے اپنے عہد حکومت میں کس قدر جواہرات جمع کیے تھے؟ ابو طاہر نے جواب دیا، امیر نوح سامانی کے عہد میں سات رطل اعلیٰ جواہرات شاہی خزانے میں موجود تھے، محمود نے یہ جواب سن کر خدا کا شکر ادا کیا اور کہا کہ الحمد ا للہ خدا وند تعالیٰ نے مجھے سورطل سے بھی زائد بیش قیمت جواہرات دئیے ہیں۔“

ہیروں اور جواہرات کا جو خزانہ محمود غزنوی نے جگہ جگہ جنگیں لڑ کر اکٹھا کیا تھا اس کےلئے اتنی اہمیت رکھتا تھا کہ سلطان اسے مرتے وقت بھی حسرت بھری نگاہوں سے دیکھتا رہا۔ جیسے یہ اس کی زندگی کی اہم ترین چیز ہو اور جس سے علیٰحدگی اس پر انتہائی شاق گزر رہی ہو۔ وہ اسے پیچھے چھوڑ جانے کے خیال سے انتہائی افسردہ تھا۔فرشتہ لکھتا ہے:

”تاریخ سے یہ بات پوری صحت کے ساتھ ثابت ہوئی ہے کہ محمود نے اپنی موت سے 2روز پہلے اپنے تمام جواہرات، روپے اور اشرفیاں جو اس نے زندگی بھر کی جدوجہد سے جمع کی تھیں شاہی خزانے سے نکلوا کر اپنے محل کے سامنے ڈھیر کرا دیں۔ مؤرخین بیان کرتے ہیں کہ سرخ، سفید اور دوسرے متعدد رنگوں کے جواہرات کی چمک دمک سے صحن خانہ جنت کے باغ کی طرح سجا ہوا معلوم ہوتا تھا۔ محمود ان گراں قیمت جواہر پاروں پر حسرت کی نظریں ڈالتا رہا اور دھاڑیں مار مار کر روتا رہا۔ کچھ دیر اس نے جواہرات کو دیکھنے اور ان کی جدائی کے خیال سے رونے کے بعد انہیں پھر خزانے میں جمع کرا دیا۔ محمود نے اپنے آخری وقت میں بھی کسی کو اس خزانے سے ایک پھوٹی کوڑی نہ دی تھی۔ اس واقعہ سے نیز اسی قسم کے دوسرے و اقعات کی وجہ سے لوگ اس عالی نسب بادشاہ کو بخیل سمجھتے تھے۔ اس واقعہ کے دوسرے روز محمود نے محافے میں بیٹھ کر میدان کی سیر کی۔ اس کے حسب الحکم شاہی ملازموں نے شاہی اصطبل، شترخانے اور فیل خانے سے تمام گھوڑے، اونٹ ، ہاتھی اور دوسرے جانور اس کے سامنے پیش کیے۔ ان جانوروں کو دیکھ کر محمود دیر تک دل ہی دل میں کچھ سوچتا رہا اور اس کے بعد خوب دھاڑیں مار مار کر رونے لگا اور اسی حالت میں اپنے محل میں واپس آ گیا“۔

محمود غزنوی کو جیسا کہ مندرجہ بالا اقتباسات سے واضح ہوتا ہے دولت سے بے پناہ محبت تھی۔ چنانچہ وہ اس کے حصول کے لیے چھینا جھپٹی، الزام تراشی اور ایسے ہی دوسرے ہتھکنڈے استعمال کرنے سے گریز نہیں کرتا تھا۔ فرشتہ نے اس سلسلے میں ایک واقعہ نقل کیا ہے جسے ہم اس کے اپنے الفاظ میں پیش کرتے ہیں۔ وہ لکھتا ہے۔ ( جاری ہے ) 

نوٹ : یہ کتاب ” بُک ہوم“ نے شائع کی ہے ۔ ادارے کا مصنف کی آراءسے متفق ہونا ضروری نہیں ۔(جملہ حقوق محفوظ ہیں )۔

مزید :

ادب وثقافت -