1857ءکی جنگ آزادی کے بعدانگریز وں کی نظر میں مسلمان مجرم ٹھہرے، اب انگریزوں کی نظر ” سونے کی چڑیا “ پر تھی

 1857ءکی جنگ آزادی کے بعدانگریز وں کی نظر میں مسلمان مجرم ٹھہرے، اب انگریزوں ...
 1857ءکی جنگ آزادی کے بعدانگریز وں کی نظر میں مسلمان مجرم ٹھہرے، اب انگریزوں کی نظر ” سونے کی چڑیا “ پر تھی

  

 تحریر : پروفیسر ڈاکٹر ایم اے صوفی

قسط (9) 

آل انڈیامسلم لیگ(پس منظر)

جغرافیائی اعتبار سے برصغیر ہند کی زمین کرئہ ارض پر اِس قرینے سے واقع ہے کہ دُنیا کے ہر خطۂ کے بسنے والے بادشاہوں،جنگجوﺅں اور فاتحین کی نظر اِس ” سونے کی چڑیا “پر رہی جس میں مختلف کلچراور مذاہب نے جنم لیا۔ہندوستان کا وسیع رقبہ میں پہاڑ،دریا اور میدان ہیں۔سطح مرتفع ہے۔ چٹیل میدان ،جنگلات ،سب قسم کے علاقے ہیں۔جانور،پودے ،درخت ، پھل ،پھول اور سبزیاں موجود ہیں۔لوگ مختلف اشکال، قدوقامت اور رنگ و روپ کے ہیں۔ مختلف زبانیں ہیں۔ دن رات کا فرق ، موسموں کا تغیّر و تبدل ہے۔ چاند اور سورج کے اپنے اپنے اوقات ہیں۔ سمندری حصہ بے پناہ وسعت میں ہے اور پہاڑوں پر چاندنی رنگ کی برف ہے۔ بارشیں کہیں کم اور کہیں زیادہ ہیں ۔کبھی طوفان آتے ہیں اور کبھی ٹھنڈی ہوائیں چلتی ہیں۔ کبھی مون سون کی بارشیں ،سیلاب اور تباہی پھیلاتے ہیں۔ہر طرح کے امراض پیدا ہوتے ہیں۔ زلزلہ اور طوفانوں کی مار سے کئی علاقے تباہ ہوئے ہیں۔ کہیں وافر پانی ہے اور کہیں قطرہ بھی نہیں ہے۔ گویا سرزمین ہند مختلف اطوار پر مبنی ہے ۔ موسم کی رعنائیاں اِس قدرہیں، گرم،سرد،معتدل اور خوشگوار سبھی موسم ہیں۔ہر علاقے کااپنا لباس ، رہن سہن، بودو باش،ذریعہ آمدن،کھیتی باڑی مختلف صورتوں اورذاتوں میں ہے۔ کئی علاقوں کے لوگ سرخ و سفید، اُونچے، لمبے دھڑنگے ہیں۔ کئی علاقوں کے لوگ خوشنما،سفید رنگ کے ہیں۔ مگر قد چھوٹا ہے اور کئی ایک علاقے بالکل سیاہ باشندوں پر مبنی ہیں۔

 آرین کا دعویٰ ہے کہ یہ ہند کی ساری کی ساری زمین کے مالک ہیں کیونکہ ہزاروں سال قبل وہ اس علاقے میں آباد تھے اوردیکھتے ہی دیکھتے برصغیر میں اُن کی زندگی میں بڑی تبدیلیاں آئی ہیں۔ عجیب بات یہ ہے کہ آرین خیال کرتے ہیں کہ اُن کی سوسائٹی میں عورتوں کی بڑی عزت ہوتی تھی اور ایک مرد ایک وقت میں ایک شادی کر سکتا تھا۔ گویا قدیم زمانہ ہند مونوگیمی (Monogamy )کا زمانہ تھا اور عورتوں کی بڑی عزت اور تکریم کی جاتی تھی اور مردو زن کے حقوق میں برا بر اور توازن تھا۔ اس زمانے کی تہذیب میں شراب نوشی اور ڈانس کا رواج تھا۔ لوگ بہادر اور جنگجو تھے ۔ یہ لوگ گھوڑا ریس کے شوقین تھے ۔ اُن کا کلچراور ایمان یہ تھا کہ وہ اونچی ذات سے ہیں۔ آرین کو اپنی تہذیب پر بھی نا ز تھا کہ وہ باقی تہذیبوں ، معاشرت سے علیٰحدہ اور اچھے ہیں۔ اُن کا خیال یہ بھی تھا کہ جو لوگ آرین سے پہلے کسی جگہ آباد تھے وہ غیر تہذیب یا فتہ تھے۔ 

 سکندر اعظم اپنے جاہ و لشکرکے ساتھ 327 قبل از مسیح میں اِس علاقہ میں وارد ہوا۔ تباہی مچائی اور فتح کرتا ہوا آگے بڑھتا گیا۔ اِس زمانے میں بھی ذات پات کی تہذیب تھی اوراسی ذات پات کی تقسیم پر آرین کے مذہب کی بنیادہے۔ اُن کی نظر میں برہما نے پہلی تخلیق کی جسے منو کہتے ہیں۔انسانوں کی چار ذاتیں ہیں۔ برہمن، کھتری، ویش اور شودر۔

 انگریز حالات کا جائزہ لیتے رہے۔ مقامی ریاست ،راجاﺅں سے میل جول کرنے لگے اور پورے جنوبی ایشیاءکی تاریخ،جغرافیہ ،مذہبی اطوار ، زبانوں سے واقفیت حاصل کر لی۔ ہندوﺅں کے ساتھ اچھا برتاﺅ رکھا اور آہستہ آہستہ اندر سے ہندوﺅں کو اپنے ساتھ ملایا اور مسلمان حاکموں کے خلاف سازشیںتیار کر لیں اور مشرقی حصہ بنگال پر مکمل قبضہ 1753ءمیں کر لیا اور مزید ریاستوں کی طرف رُخ کرنا شروع کیا اور مغربی حصہ یعنی موجودہ پاکستان پر انگریزوں نے 1849ءمیں قبضہ کر لیا اور پورے ہندوستان پر قابض ہو گئے اور آخری مغل بادشاہ بہادر شاہ ظفر کو ملک بدر کیا اور مسلمانوں پر ظلم و ستم شروع ہو گئے۔ 

 ہندوﺅں نے اپنی چالاکی سے انگریز کو یقین دلایا کہ ہم مہاراج آپ کے ساتھ ہیں۔ مسلمان بڑے خطرناک ہیں۔یہ آپ سے اپنی بادشاہت چھن جانے کا بدلہ لیں گے۔ ان سے ہوشیار رہنا۔یہ دیش تو ہمارا ہندوﺅں کاہے۔مسلمان تو ہم پر وارد ہوئے تھے۔ ہماری دھرتی صاف تھی۔ شودروں نے آکر اس کو خراب کیا ۔ آپ اُن سے ہوشیار رہنا۔ انگریز آہستہ آہستہ مضبوط ہوتا گیا۔ انگریزی تعلیم ،چرچ،مذہبی عیسائیت کے ادارے قائم ہونے لگے۔ فارسی ، عربی اور اُردو کے خلاف محاذ تیار ہوئے اور اسلام کو ٹارگٹ بنایا گیا۔ مسلمانوں کےلئے سرکاری دفاتر میں آسامیاں ناپید ہوگئیں۔ مسلمان بحیثیت قوم تعلیم ،معاشرت اور کاروبار میں ہندوﺅں سے پیچھے رہتے گئے۔ بے اتفاقی نے مزید نقصان پہنچایا۔

 1857ءکی جنگ آزادی نے مسلمانوں کےلئے مزید حالات خراب کیے۔ انگریز مزید مسلمانوں کا دشمن ہو گیا۔ ہندو ہر وقت مسلمانوں کو نقصان پہنچانے کی کوشش میں تھے۔ سرسید احمد خان نے مسلمانوں کو انگریزی تعلیم کی طرف راغب کیا اور انگریز نے ہندوﺅں کو سماج میں مقام دینے کی غرض سے انڈین نیشنل کانگریس1885 ءمیں بنوائی۔ پھر1905ءمیں تقسیم بنگال ہوئی۔1911 ءمیں تنسیخ تقسیم بنگال ہوئی۔ 1906ء میں مسلم لیگ کا قیام ڈھاکہ میں ہوا تاکہ مسلمانوں میں شعور بیدار کیا جائے۔ یہ وہ ظلم و ستم کے حالات تھے ۔ جن کی بناءپر مسلم لیگ کا قیام ضروری ہو گیاتھا اور آگے چل کر یہ جماعت نجات دہند ہ ثابت ہوئی۔

 مسئلہ یہ ہو گیا تھا کہ مسلمان ہمت اور دل ہار چکے تھے۔ اِن کو کوئی تسّلی دینے والا نہ تھا۔ سرسید احمد خان نے مسلمانوں کو ہدایت کی کہ تعلیم کو محبوب بنائیں۔ آپ نے غفلت سے مسلمانوں کو جگایا اور بتایا کہ مسلمانوں کی ترقی کے تمام راستے مسدود ہیں۔ جبکہ وہ تعلیم میں اپنے آپ کو تیار کریں۔

 ہند کے مسلم کمزور تھے۔وہ ہندو اور انگریز کے ظلم و ستم کا نشانہ کافی عرصہ بنے رہے۔ کئی اپنی مال و جائیداد گنو ابیٹھے اورزیادہ نقصان تو 1857ءکی جنگ آزادی یا معرکہ آرائی کے بعد ہوا۔ مسلمانوں نے انگریز حکمرانوں کی حکم عدولی کی۔ خوب لڑے اور مجرم ٹھہرائے گئے ۔ بعد میں انگریز کی الم ناکیوں کا شکار ہوئے۔ اب ضرورت اِس امر کی تھی کہ انگریز قوم کے ساتھ تعلیم کے ذریعہ حالات استوار کیے جائیں ۔ اِسی طرح بیرسٹر امیر علی آف کلکتہ نے محمڈن نیشنل ایسوسی ایشن کا قیام عمل میں لایاتا کہ مسلمان تنظیم اور تعلیم کے ساتھ عمدہ نمونہ زندگی اور عمل کے ساتھ ثابت کریں اور خود سے ہونے والی زیادتیوں کا ازالہ کیا جائے۔ مسلمانوں کی بستیاں غربت کا شکار تھیں۔ خوف طاری رہتا تھا۔ 

 گویا سرسید احمد خان اور جسٹس امیر علی جیسے لوگوں کی حکمت و مصلحت کی وجہ سے مسلمانوں کی زندگی میں احساس پیدا ہوا اور انگریز کے رویّہ میں ردوبدل ہوا۔ مسلمان زیادہ بے علم تھے۔کیونکہ مسلم آبادی کے صوبوں میں تعلیمی درسگاہ ہی موجود نہ تھی۔ ہندوستان کے شمال مغرب میں صرف پنجاب یونیورسٹی1883 ءمیں انگریز نے قائم کی تھی۔ گویا یہ یونیورسٹی دہلی تک تھی۔ شمال مشرقی حصہ میں ڈھاکہ یونیورسٹی1921 ءمیں شروع ہوئی۔ 

 مسلمانوں کی زمینیں بنجر اور ویران تھیں۔ ہندو کاشتکار کی زمینیں خوب شاداب تھیں۔ مسلمانوں کی زبان عربی ،فارسی اور اُردو جو فصاحت و بلاغت کا اعجاز رکھتی تھی۔ اِن کو ختم کرنے کی مہم کا آغاز کلکتہ فورٹ ولیم کالج سے ہوا۔ ہندی اور سنسکرت کو ترجیح دی جائے لگی۔ہندو ہر نوکری ،آسامی کے مستحق سمجھے جاتے تھے اور ہر معاشرہ کی منزل انگریز ہندو کو دیتا تھا۔ ہندو مسلمانوں کے ساتھ ہر اخلاقی پستی کے اقدام کرتا تھا۔ شنوائی نہیں ہوتی تھی۔ دُنیا کی تمام آسائشوں سے مسلمان محروم رکھے جاتے تھے اور کوشش یہی رہتی تھی کہ مسلمانوں کو نقصان پہنچاﺅ ۔ مسلمان اپنی قسمت پر روتے تھے۔ ہر قسم کا دھوکہ فریب اِن کو دیا جاتا تھا۔ مسلمانوں کا لباس عام ہوتا تھا۔ ان کے پاس گنجائش نہ تھی کہ اچھا لباس خرید سکیں۔ اب ان حالات میں مسلمانوں میں شعور بیدار ہوا اور جماعت کی سوچ پروان چڑھی۔ ( جاری ہے ) 

کتاب ”مسلم لیگ اورتحریکِ پاکستان“ سے اقتباس (نوٹ : یہ کتاب بک ہوم نے شائع کی ہے، ادارے کا مصنف کی آراءسے متفق ہونا ضروری نہیں ۔ )

مزید :

بلاگ -