ہم کہاں کھڑے ہیں ؟

 ہم کہاں کھڑے ہیں ؟
 ہم کہاں کھڑے ہیں ؟

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


 اگر تاریخ کے اوراق پلٹا کر دیکھے جائیں تو پاکستان ہمیشہ معاشی سیاسی اور اخلاقی بحران کا شکار رہا ہے میں نے ذاتی طور پر بہت بار اس کی وجہ جاننے کی تگ و دو کی اور نتیجہ ایک ہی پایا، ہمارے ہر مسئلے کا حل صرف ایک ہی چیز میں چھپا ہے اور وہ تعلیم کے سوا کچھ اور نہیں۔انگریزوں کے بعد پچھلی سات دہائیوں سے ہمارے حکمرانوں نے اس ملک کے معصوم عوام کا خوب استحصال کیا ہے الیکشن کے قریب ہمیشہ باور کروایا جاتا ہے کہ اس ملک کی تقدیر نوجوانوں کے ہاتھ میں ہے میں اس بات سے اتفاق تو کرتا ہوں کہ 64 فیصد عوام نوجوانوں پر مشتمل ہیں مگرہمیں ادھا سچ بتایا جاتا رہا، ہمیں کسی نے یہ نہیں بتایا کہ انہی نوجوانوں میں دو کروڑ سے زائد ایسے ہیں جنہوں نے آج تک کسی تعلیمی ادارے کا منہ تک نہیں دیکھا اگر اس دقیانوس اور لولے لنگڑے نظام تعلیم کو ایک سائڈ پر رکھ کر صرف اس بات پر اکتفا کیاجائے کہ تعلیم انسان میں خود شناسی،سوچ اور شعور بیدار کرتی ہے بولنے کا طریقہ،سوال کا سلیقہ اور اپنا حق مانگنا سیکھاتی ہے تو کسی بھی ذی شعور انسان کے لیے یہ نتیجہ اخذ کرنا مشکل نہ ہوگا کہ اس ملک میں کم و بیش دو کروڑ سے زائد نوجوان جی ہاںوہی نوجوان جن کے ہاتھ میں ملک کی تقدیر ہے نہ سوچ سکتے ،سوال کر سکتے ہیں اور نہ ہی اپنے کیے گئے فیصلوں کا دفاع کرسکتے ہیں غربت اور مہنگائی سے بالاتر، یہ وہ لوگ ہیں جن سے قوم ،مذہب، رنگ اور نسل کے نام پر کچھ بھی کروایا جا سکتا ہے جہاں کچھ بھی! جن کو جذباتیت کی بھینٹ چڑھا کر جھوٹے وعدوں کے خواب دکھا کر کسی کے بھی پیچھے لگایا جا سکتا ہے۔ اگر آپ ایک اہل عقل پاکستانی ہیں اور ملکی حالات کا تنقیدی تجزیہ کرنے کے بعد ائندہ الیکشن میں کسی درست انتخاب تک پہنچ بھی جائیںتب بھی یہ سب بے سود ہے کیونکہ پاکستان ایک جمہوری ملک ہے اور اقبال نے کہا تھا کہ جمہوریت وہ طرز حکومت ہے کہ جس میں بندوں کو گنا کرتے ہیں تولا نہیں کرتے۔
اقبال کی یہ بات شاید عوام تو سمجھنے سے قاصر رہے مگر حکمران برسوں پہلے ہی بہت اچھے سے سمجھ چکے تھے، مجھے اس بات کا اندازہ تب ہوا جب میں پاکستان کے تعلیمی بجٹ کا موازنہ ایشیا کے دیگر ممالک سے کرتا چلا گیا۔ تاریخ گواہ ہے کہ اس قوم کوعزت ہمیشہ تب ملی ،جب ڈھول بجانے اور نعرے لگانے کا وقت آیا،جی ہاں جب انتخاب کا وقت آیا۔
مگر یہ سب تو اب ہماری نفسیات کا حصہ بن چکا ہے کیونکہ ہم نے نہ تو کبھی اپنے اپ کو تولنے کی کوشش کی اور نہ ہی کبھی ہمیںکسی نے یہ احساس دلایا نہ جانے ہم یہ بات کیوں بھول چکے ہیں کہ تعلیم کے بغیر کسی “قوم کو عزت” ملی اور نہ کبھی کوئی” تبدیلی“ رونما ہوئی اور جہاں تعلیم ایک بنیادی ضرورت کے بجائے ایک آسائش بن کر رہ جائے تو وہاں روٹی کپڑے اور مکان کے خواب دیکھنا بھی بذات خود کسی جہالت سے کم نہیں،ناجانے ہم ان بے حس اور خودغرض حکمرانوں کے اشارے پر اپنا لہو حاضر کرنے کیسے نکل پڑتے ہیں جنہوں نے کبھی یہ نہیں بتایا کہ آئین نے ہمارے بچوں کو جو مفت تعلیم کا حق دیا وہ پورا کون کرے گا ؟ آخر کب تک ان بچوں کو تعلیم سے دور رکھا جائے گا،ہمیں یہ بات ذہن نشین کر لینی چاہیے کہ جب ایک گونگا، بہرا اور اندھا معاشرہ انتخاب کرنے لگتا ہے تو سوائے استحصال، بدعنوانی اور اقرباءپروری کے کچھ حاصل نہیں ہوتا، کیا یہ وہی سب کچھ نہیں جو ہمارے آباو¿اجداد نے دیکھتے اور سنتے اپنی زندگیاں گزار دیں اور شاید ہم بھی اپنی نسلوں سے یہی کچھ دیکھنے کی توقع رکھتے ہیں یا پھرہم خود کلامی کے اس قدر شکار ہو چکے ہیں کہ اپنی ہی آواز سے نا آشنا ہوتے چلے جا رہے ہیں یاد رکھیے جب سکول،کالج اوریونیورسٹیاں بنانے کی بجائے پل ،چوک اور چوراہے سجائے جائیں گے تو ایسے نتائج کی توقع رکھنا کوئی اچنبھے کی بات نہیں، اب وقت آگیا ہے کہ ہم خود کو گننے کے بجائے تولنا شروع کر دیں تو شاید پھر ہمیں یہ اندازہ ہو جائے کہ ہم کہاں کھڑے ہیں۔

مزید :

رائے -کالم -