کالاباغ ڈیم کے متعلق فیصلہ

کالاباغ ڈیم کے متعلق فیصلہ
کالاباغ ڈیم کے متعلق فیصلہ

  


لاہورہائیکورٹ نے مشترکہ مفادات کونسل کی سفارشات کی روشنی میں کالاباغ تعمیر کرنے کا حکم دیتے ہوئے وفاقی حکومت سے کہا ہے کہ وہ آئین کے آرٹیکل ایک سو چون کے تحت مشترکہ مفادات کونسل کی سفارشات پر عملدرآمد کرتے ہوئے ڈیم کی تعمیر کا جلد از جلد حکم دے۔ لاہور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عمر عطاءبندیال نے کالاباغ ڈیم کی عدم تعمیر کے خلاف مختلف درخواستوں پر فیصلہ دیتے ہوئے قرار دیا کہ وفاقی حکومت مشترکہ مفادات کونسل کی سفارشات پر کالاباغ کی تعمیر کی پابند ہے۔فیصلے میں کہا گیا ہے کہ انیس سو اکناوے اور انیس سو اٹھانوے کے مشترکہ مفادات کونسل کے فیصلوں میں کالاباغ نہ بنانا بظاہر وفاقی حکومت کی ناکامی ظاہر کرتا ہے۔

سابق چیئرمین واپڈا اور سابق نگران وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا شمس الملک نے کالاباغ ڈیم کے حوالے سے لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ وفاقی حکومت ڈیم کی تعمیر فوری طور پر شروع کرکے ملک کو توانائی اور آبپاشی کے شعبے میں خودکفیل بنائے۔ کالاباغ ڈیم نہ بنانے کی وجہ سے اب تک ملک کو کھربوں روپے کا نقصان پہنچا ہے ، اگر اس کی تعمیر میں مزید تاخیر کی گئی تو آئندہ برسوں میں نہ صرف ہماری زرخیز زمینیں بنجر ہو جائیں گی، بلکہ پورا ملک تاریکی میں ڈوب جائے گااور صنعتیں جام ہو جائیں گی۔ان کا کہنا تھا کہ عوامی نیشنل پارٹی اور ڈیم کے دیگر مخالفین کے اس استدلال میں کوئی صداقت نہیں کہ ڈیم کی تعمیر سے نوشہرہ اور صوابی ڈوب جائیں گے۔

انہوں نے مزیدکہا کہ صوابی اور نوشہرہ کالاباغ سے ڈیڑھ سو کلومیٹر دور واقع ہیں، اس سے دونوں شہروں کو کوئی نقصان نہیں پہنچے گا۔ڈیم تعمیر نہ ہونے سے زیادہ نقصان خیبرپختونخوا کو ہورہا ہے۔اس ڈیم کی تعمیر سے صوبے کے جنوبی اضلاع میں آٹھ لاکھ ایکڑ بنجر زمینیں سیراب ہوسکیں گی۔ان کا مزید کہنا تھا کہ چھوٹے ڈیموں کی تعمیر کے حامیوں پر واضح کرنا چاہتا ہوں کہ ہم سا ت سو پچاس چھوٹے ڈیم بنائیں تو پھربھی ایک کالاباغ ڈیم کے برابرنہیں ہوں گے۔مخالفین کا یہ اعتراض بلاجواز ہے کہ کالاباغ ڈیم کی تعمیر سے نوشہرہ اور صوابی میں سیلاب آئے گا۔انیس سو انتیس اور دوہزار دس میں بھی نوشہرہ میں سیلاب آیا تھا۔اس وقت تو کالاباغ ڈیم نہیں تھا۔ اس وقت چین میںبیس ہزار، امریکہ میں چھ ہزار اور بھارت میں چار ہزار ڈیم ہیں، وہاں نہ تو کوئی مخالفت ہورہی ہے اور نہ ہی کوئی نقصان کا باعث بنتا ہے۔

دوسری جانب عوامی نیشنل پارٹی کے سینیٹر حاجی محمد عدیل نے لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے کی مخالفت کرتے ہوئے کہا ،جس ڈیم کو پرویزمشرف، ضیاءالحق اور نوازشریف نہ بنا سکے،ہائیکورٹ کے فیصلے پر نہیں بن سکتا۔ڈیم کے بننے سے پنجاب کے سوا کسی کو کوئی فائدہ نہیں۔اے این پی کی مخالفت کی شدت کا اندازہ اس امر سے لگایا جا سکتا ہے کہ کالاباغ کے حوالے سے خان عبدالولی خان کا موقف تھا کہ کالاباغ ڈیم کی تعمیر کی صورت میں اسے بموں سے اڑا دیں گے۔ پرویز مشرف نے بھی کالاباغ ڈیم کی تعمیر کا اعلان کیا تھا،لیکن جب ریفرنڈم میں عوامی نیشنل پارٹی نے پرویز مشرف کی حمایت کا فیصلہ کیاتو شرائط میں کالاباغ ڈیم کی تعمیر نہ کرنا بھی شامل تھا تو پرویز مشرف نے ریفرنڈم کے ذریعے صدر منتخب ہونے کے لئے قومی منصوبے پر عملدرآمد روک دیا اور ملک کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا۔اگر کالاباغ ڈیم بن جاتا تو آج ملک میں توانائی کے بحران کا کوئی تصور تک نہ ہوتا۔

توانائی بحران کی وجہ سے ملک کو ماہانہ اربوں روپے کانقصان ہورہاہے اور ترقی کا عمل رک چکا ہے۔بیرونی سرمایہ کاری میں خطرناک حد تک کمی آ چکی ہے اور ملک سے چھوٹی صنعتیں بنگلہ دیش ، سری لنکا اور ملائیشیا منتقل ہوچکی ہیں۔نیپرا کی رپورٹ کے مطابق ملک میں جاری بجلی بحران سال دوہزار بیس تک جاری رہے گا۔بجلی بحران کا قلیل المدتی کوئی حل موجود نہیں۔بجلی بحران کے باعث ملکی اقتصادی شرح نمو بُری طرح متاثر ہورہی ہے۔لوڈشیڈنگ کے باعث صنعتیں بند ہورہی ہیں اور لاکھوں مزدور بے روزگار ہورہے ہیں۔موجودہ پاور سیکٹر میں بجلی کی پیداواری استعداد کارتیئیس ہزار میگاواٹ یومیہ ہے، اس کے برعکس چودہ ہزار میگاواٹ بجلی یومیہ پیدا کی جارہی ہے۔ ملک میں چالیس فیصد بجلی چوری اور لائن لاسز کی نذر ہورہی ہے۔ اس تناظر میں دیکھا جائے تو کالاباغ ڈیم کی تعمیر کے متعلق لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ بہترین اور بروقت ہے،کیونکہ دنیا میں سستی بجلی ہائیڈل پاور ہی ہے۔

پاکستان میں ہائیڈل پاور کی پیداوار کے بہترین مواقع موجود ہیں، مگر ساری توجہ تھرمل پاور سے مہنگی بجلی حاصل کرنے پر دی جارہی ہے۔مہنگی بجلی سے نقصان ملکی معیشت کو پہنچ رہا ہے اور عام آدمی بھی مہنگی بجلی برداشت نہیں کرسکتا۔ بھارت نے کالاباغ ڈیم کی مخالفت میں مختلف این جی اوز اور کئی جماعتوں میں اربوں روپے تقسیم کئے ہیں۔بھارت نہیں چاہتا کہ پاکستان میں کالاباع ڈیم جیسا بڑا ڈیم تعمیرہو سکے اور پاکستان توانائی کے بحران سے نکل سکے۔بحیثیت قوم ہمیں تعصبات سے نکل کر ایک پاکستانی بن کر سوچنا چاہیے اور قومی مفادات کو مقدم رکھناچاہیے۔ گزشتہ آٹھ سال سے ملک میں توانائی کا بحران شدت اختیار کر چکا ہے۔ کالاباغ ڈیم سے چھیتیس سو میگاواٹ سستی ترین بجلی پیدا کی جا سکتی ہے۔قومی مفاادت کو مدنظر رکھتے ہوئے اس میگاپراجیکٹ کوسیاست کی بھینٹ نہ چڑھایا جائے۔

مزید : کالم