لندن میں ’الطاف حسین‘ کی دو دن تلاشی، پولیس کاقبضے میں لئے گئے شواہد کی تفصیل بتانے سے انکار

لندن میں ’الطاف حسین‘ کی دو دن تلاشی، پولیس کاقبضے میں لئے گئے شواہد کی ...
لندن میں ’الطاف حسین‘ کی دو دن تلاشی، پولیس کاقبضے میں لئے گئے شواہد کی تفصیل بتانے سے انکار

  


  لندن (بیورو رپورٹ) میٹرو پولیٹن پولیس نے ایم کیو ایم کے رہنماءڈاکٹر عمران فاروق کے قتل کی تحقیقات کے سلسلے میں ایجویئر کے علاقے میں واقع ایم کیو ایم کے دفتر پر چھاپہ مارنے اور تلاشی لینے کی تصدیق کر دی ہے۔ میٹرو پولیٹن (میٹ) پولیس کے پریس آفس نے بتایا کہ ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین کے بزنس ایڈریس پر تلاشی کا کام دو دن سے جاری تھا۔ میٹ پولیس کے ایک اہلکار جوناتھن نے برطانوی میڈیا کو فون پر انکشاف کیاکہ چھاپہ جمعرات کو مارا گیا تھا جس کے بعد مفصل تلاشی کا کام شروع ہوا جو جمعہ کی شام کو مکمل کر لیا گیا۔ میٹ آفس کے اہلکار نے ایم کیو ایم کے دفتر سے قبضے میں لئے گئے شواہد کی تفصیل نہیں بتائی۔ پولیس کے مطابق ڈاکٹر عمران فاروق قتل کے سلسلے میں تحقیقات ابھی جاری ہیں۔ پولیس نے بتایا کہ کوئی گرفتاری عمل آئی اور نہ ہی کسی شخص کو تفتیش کے لئے روکا گیا ہے۔ گزشتہ ستمبر میٹرو پولیٹن پولیس سروس کی انسداد دہشت گردی کی ٹیم نے کہا تھا کہ ڈاکٹر فاروق قتل سے چند ماہ پہلے اپنا ایک آزاد سیاسی 'پروفائل' بنانے کی کوشش کر رہے تھے۔ پولیس کا کہنا تھا کہ ہو سکتا ہے ڈاکٹر فاروق اپنا سیاسی کیریئر از سرنو شروع کرنے کے متعلق سوچ رہے ہوں۔ اس وجہ سے پولیس ہر اس شخص سے بات کرنا چاہتی ہے جو ڈاکٹر فاروق سے سیاسی حوالے سے رابطے میں تھا۔ پولیس کے علم میں ہے کہ ڈاکٹر فاروق نے جولائی2010ءمیں ایک نیا فیس بک پروفائل بنایا تھا اور سماجی رابطے کی اس ویب سائٹ پر بہت سے نئے روابط قائم کئے تھے۔ ڈاکٹر عمران فاروق کی ہلاکت کی دوسری برسی کے موقع پر پولیس نے ایک مرتبہ پھر لوگوں سے اپیل کی کہ اگر ان کے پاس کوئی معلومات ہیں تو وہ سامنے لائیں۔پچاس سالہ ڈاکٹر عمران فاروق کو جو 1999ءمیں لندن آئے تھے، 16 ستمبر2010ءکو ایجویئر کے علاقے میں واقع گرین لین میں چاقو مار کر ہلاک کر دیا گیا تھا۔ اکتوبر میں پولیس کو حملے میں استعمال ہونے والی چھری اور اینٹ بھی ملی تھی۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ان کا قتل ایک سوچی سمجھی سازش کا نتیجہ ہے اور لگتا ہے کہ اس کے لیے دوسرے افراد کی مدد بھی حاصل کی گئی تھی جنہوں نے ہو سکتا ہے جان بوجھ کر یا انجانے میں قتل میں معاونت کی ہو۔

مزید : بین الاقوامی