برطانیہ کی یوتھ جیلوں میں مسلمانوں کی ’آبادی‘ بڑھ گئی

برطانیہ کی یوتھ جیلوں میں مسلمانوں کی ’آبادی‘ بڑھ گئی
برطانیہ کی یوتھ جیلوں میں مسلمانوں کی ’آبادی‘ بڑھ گئی

  


 لندن (بیورو رپورٹ) انگلینڈ اینڈ ویلز کی یوتھ جیلوں میں مسلم نوجوانوں کی تعداد میں گزشتہ برس ایک چوتھائی سے زائد اضافہ ہوا ہے۔ یہ انکشاف تازہ ترین اعداد و شمار میں کیا گیا ہے۔ ینگ آفنڈرز انسٹی ٹیوشنز میں 2011 ءاور 12 20ءمیں قید پانچ میں سے ایک نوجوان یعنی 21 فیصد مسلمان تھے۔ 2009 ءاور 10 20ءمیں ایسے نوجوانوں کی تعداد 13 فیصد اور 2010ءاور 11 20ءمیں 16 فیصد تھی۔ جیلوں میں چلڈرن اینڈ ینگ پیپلز کے سالانہ ریویو میں سامنے آیا کہ بلیک اور اقلیتی نسلی کمیونٹیز سے تعلق رکھنے والے ینگ آفنڈرز قیدیوں کی تعداد میں بھی اضافہ ہوا جو 2010ءاور 11 20کی تعداد 39 فیصد سے بڑھ کر 2010ءاور 2011ءمیں 42 فیصد ہوگئی ۔چیف انسپکٹر آف پریزنز کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ برس مجموعی طور پر نوجوانوں کی کسٹڈی کم رہی یہ سٹڈی یوتھ جسٹس بورڈ کے اشتراک سے شائع کی گئی ہے 2011-12 کے اختتام پر 15 سے 18 سال عمر کے ینگ آفنڈرز انسٹی ٹیوشنز میں قید نوجوانوں کی تعداد 1543تھی گزشتہ سال یہ تعداد 1822 تھی۔ 53 فیصد نوجوانوں نے کہا کہ وہ پہلی بار قید ہوئے فی الوقت 231 ینگ آفنڈرز کو ڈی کمیشن میں رکھا گیا ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایسے نوجوانوں کی تعداد کم ہو رہی ہے چیف انسپکٹر آف پریزنز نک ہارڈوک نے کہا کہ زیر حراست ینگ آفنڈرز کے تجربے کے تصورات سے انہیں یوتھ جسٹس پالیسی تشکیل دینے میں مدد ملے گی۔ انہوں نے اس پر تشویش کا اظہار کیا کہ ایسے نوجوانوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے جو کسٹڈی میں خود کو غیر محفوظ تصور کرتے ہیں۔

مزید : بین الاقوامی