لاہور سے ہیڈ مرالہ عرس سبز پیر تک

لاہور سے ہیڈ مرالہ عرس سبز پیر تک
لاہور سے ہیڈ مرالہ عرس سبز پیر تک

  


یہ تو اپنے اپنے یقین کی بات ہے، ماننے والے کہتے ہیں کہ شہید زندہ ہوتے ہیں، تو اللہ کے و لی بھی ایسی ہی حیثیت کے مالک ہیں اور اُن کی قبر بھی زندہ ہونے ہی کا ثبوت دیتی ہے۔ اس سلسلے میں ہمارے حضرت علامہ ابو الحسنات ؒ فرمایا کرتے تھے۔ ولی گمنام نہیں ہوتے۔ اُن کا نسب اور دور بھی سامنے ہوتا ہے اور دین کے لئے خدمات بھی رقم رہتی ہیں۔ اُن کا فرمانا تھا کہ ولی انتقال کے بعد بھی یاد رکھے جاتے ہیں اور زندہ ثبوت اُن کے مزار پر حاضری سے مل جاتا ہے۔ پیر عبداللہ غازی المعروف سبز پیر کا مزار ہیڈ مرالہ سے قریباً سوا کلو میٹر پہلے جنگل میں ہے اور جب اُن کے حوالے سے احباب سے پوچھا جائے، تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ مزار یہاں ایک ہزار سال سے زیارت گاہ عام ہے۔ بظاہر ایک بڑے جنگل میں تدفین اور اس سے قبل حضرت عبداللہ غازی کا یہاں چلہ کشی کے علاوہ دین کی تبلیغ کا فریضہ انجام دینا افسانہ لگتا ہے کہ آج کل بھی مزار سے ملحق تو آبادی ہے، لیکن اردگرد کھیت اور اس سے بڑے جنگل ہیں اسی سے تصور کیا جا سکتا ہے کہ ماضی میں یہاں کیا صورت حال ہو گی اور یہ اللہ کے بندے جب یہاں ڈیرہ جمائے ہوں گے تو درندوں سے بھی واسطہ پڑتا ہو گا کہ آج کل قریبی جنگل میں کبھی کبھی انسان درندگی کا مظاہرہ کر لیتے ہیں۔

صاحبزادہ عالمگیر نوجوان اور دین دار پڑھے لکھے نوجوان اور بڑے ملنسار ہیں۔ یہ ان کے اخلاص اور محبت ہی کا نتیجہ ہے کہ گزشتہ سال کی طرح اس سال بھی انہوں نے عرس میں شرکت اور مزار پر چادر پوشی کی رسم میں شامل ہونے کے لئے بلایا تو انکار نہ کر سکے، اس بار گلزار بٹ صاحب کے علاوہ حافظ ارشد صاحب کو بھی اپنے ساتھ چلنے کی دعوت دی جو اِن حضرات نے خوشی سے قبول کی۔ حافظ ارشد تو یوں بھی اِسی خطے کے پرانے باشندے ہیں جو پہلے بھی حتیٰ کہ اپنے ایام جوانی میں اس عرس میں آتے رہے ہیں۔

لاہور سے روانہ ہو کر نماز جمعہ سیالکوٹ میں ادا کی پھر وہاں سے مزار سبز پیر کے لئے روانہ ہوئے، ہدایت ملی کہ پُل پر انتظار کر لیا جائے، کچھ دوست آ رہے ہیں، تھوڑی دیر بعد ہی ہیڈ مرالہ پریس کلب کے چیئرمین اعجاز حسین ہاشمی، فنانس سیکرٹری صوفی محمد وارث اور دوسرے دو اراکین آ گئے اور ان کے جلو میں سبز پیر کے مزار کی طرف روانہ ہوئے۔ صاحبزادہ عالم گیر بازو پھیلائے منتظر تھے اور یہ اُن کی محبت اور ملنساری تھی کہ ہیڈ مرالہ پریس کلب کے سینئر وائس چیئرمین مظہر حسین،جنرل سیکرٹری اویس احمد رضا اور سیکرٹری اطلاعات رانا امجد علی کے علاوہ محمد صابر، رمضان علی، میاں ریاض اظہر، شاہد سلطان، صابر صراف، رمضان علی،عابد سلطان، طارق چغتائی، کاشف، کامران سلہری، خالد نونی، ڈاکٹر جاوید مرزا، ملک امتیاز ایڈووکیٹ اور رضوان طاہر ایڈووکیٹ بھی موجود تھے۔ یہ بتانا غیر ضروری نہیں کہ ان سب حضرات کاتعلق ملکی ذرائع ابلاغ سے ہے۔ یہ قومی اخبارات اور ٹیلی ویژن کی نمائندگی کرتے ہیں۔ اتنی بڑی تعداد میں ان حضرات کی موجودگی اور پھر پُرتپاک طریقے سے ملاقات نے دل کو اطمینان دلایا اور یہ سُن کر تو اور بھی خوشی ہوئی کہ یہ سب حضرات ایک خاندان کی طرح رہتے اور ایک دوسرے کے غم اور خوشی میں شریک ہوتے ہیں۔ پیشہ ورانہ فرائض کے حوالے سے اُن کے درمیان مسابقت ممکن ہے، لیکن تعلقات اتنے خوشگوار ہیں کہ ہیڈ مرالہ پریس کلب ایک مثالی ادارہ بنایا ہوا ہے۔بہرحال پیر عبداللہ غازی (سبز پیر) کا یہ عرس تھا اور روائتی میلہ بھی لگا ہوا تھا، جھولے اور کھیل تو تھے۔ بازار بھی لگائے گئے تھے، جہاں خورو نوش کے علاہ جسم ڈھانپنے کے لئے پارچات بھی فروخت کے لئے موجود تھے۔ڈھول کی ڈم ڈم اور نوجوانوں کی طرف سے پُرجوش ورد کے ساتھ چادر کا جلوس صاحبزادہ عالمگیر کے گھر سے روانہ ہوا اور مزار پر پہنچا، جہاں چادر چڑھائی گئی اور فاتحہ خوانی ہوئی۔ بعد ازاں شرکاءکی دستار بندی ہوئی اس کے لئے ہمیں بھی شرف بخشا گیا اور ہم نے صحافی دوستوں کی دستار بندی کی۔

صاحب ِ کرامت عبداللہ شاہ غازی کا مزار ”خاصہ لمبا ہے اور روایت یہ بتائی جاتی ہے کہ یہ بہت قد آور تھے اور لمبائی نو گز تھی۔ پھر یہ بھی پتہ چلا ہے کہ ایسا ہی ایک مزار لاہور کے نواح کوٹ عبدالمالک میں بھی ہے اور ان کو بھی سبز پیر ہی کہا جاتا ہے، جبکہ ایسے طویل مزار اور بھی ہیں۔ ایک تو اندرون شہر تھا اور اس چوک کا نام ہی نو گزہ چوک ہے، جبکہ ایک مزار مصطفی ٹاﺅن کی ایک مسجد میں بھی ہے۔ ہم نے گزشتہ سال بھی عرض کی تھی کہ ہمارے علمائے کرام کو اس بارے میں ضرور تحقیق کرنا چاہئے کہ ایسے قد آور حضرات کس دور میں تھے اور اُن کی خدمات کیا ہیں تاکہ مستند تاریخ سامنے آ سکے، کیونکہ بظاہر اتنے طویل قامت حضرات کا ماضی میں ذکر کہیں نظر نہیں آتا۔ بہرحال جو بھی ہے معتقد تو کہتے ہیں کہ اتنے لمبے قد کے نو بھائی تھے جو خدمت دین کے لئے مختلف علاقوں میں بھیجے گئے اور پھر انتقال کے بعد وہیں دفن بھی ہوئے اور یہ انہی کے مزار ہیں۔

ذکر عرس کا تھا، جو یہاں جنگل میں منگل والا سماں تھا۔ سبز پیر کے مزار کے ساتھ بڑی آبادی نہیں، جو مختصر گاﺅں ہے، اس میں نمایاں گھر عالمگیر ہی کا ہے، جو بزرگ کے خدمت گار ہیں اور عرس کے مہتمم بھی ہیں ۔ یہ عالمگیر اخبار نویس ہیں اور ہمارے روزنامہ ”پاکستان“ کے نامہ نگار ہیں۔ ہیڈ مرالہ پریس کلب کے وائس چیئرمین کا عہدہ بھی ان کے پاس ہے۔ عقیدت مندی کا ایک اور بڑا مظہر نظر آیا جب ایک طرف بہت سے حضرات دستر خوان پر کھانا کھاتے دکھائی دیئے، ان کی تواضع کے لئے آلو گوشت(مرغ) کا سالن، تندور کی تازہ روٹیاں اور حلوہ رکھا گیا تھا۔ بتایا گیا کہ یہ ایک عقیدت مند اکرم ہیں (جن کو سائیں اکرم سرکار کہا جاتا ہے) جنہوں نے لنگر جاری کیا ہے۔ یہ سلسلہ عرس کے پہلے روز سے شروع ہوا اور آخری یوم تک رہے گا لنگر کا آغاز صبح 8بجے ہوتا اور رات11بجے اختتام پذیر ہوتا ہے۔ دعوت خاص و عام ہے اور زائرین کو بٹھا کر تواضع کی جاتی ہے۔ معاونت ٹانڈہ قصبہ میں روزنامہ ”پاکستان“ کے نمائندہ ملک منظور کرتے ہیں۔ عقیدت کا وہی عالم تھا جو ایسے بزرگوں کے مزارات پر نظر آتا ہے۔

چادر پوشی اور لنگر کھانے کے بعد ہم واپسی کا قصد کر رہے تھے کہ ایک اور مہمان کے آنے کی اطلاع آئی۔ ہمیں بھی روک لیا گیا۔ یہ قومی اسمبلی کے رکن اور چودھری اختر وریو کے صاحبزادے ارمغان سبحانی تھے۔ ہماری چودھری اختر (مرحوم) سے فرائض منصبی کے حوالے سے یاد اللہ رہی، اس لئے رک گئے اور خوشگوار ملاقات بھی ہوئی۔ یوں بھی ہمیں یاد آیا اور ارمغان سبحانی کی توجہ مبذول کرائی کہ ہم آئے ہیں، تو مچھرالہ، سبز پیرروڈ پہلے موڑ سے مزار تک بہت بُری طرح ٹوٹ پھوٹ چکی ہے اس کی دوبارہ تعمیر کی طرف کسی نے توجہ نہیں دی، جبکہ یہ راستہ سڑک سے طویل ہے۔ سبز پیر پُل بہت تنگ ہے، اِس لئے قریباً پانچ کلو میٹر فاصلہ بڑھ جاتا ہے۔ منتخب نمائندہ قومی اسمبلی نے یقین دلایا کہ وہ سڑک کی تعمیر نو اور پلوں کی کشادگی کے لئے کوشش کریں گے۔ انہوں نے بھی اپنے ساتھیوں چودھری ثاقب بھٹی، ملک فاروق کھوکھر، رانا عارف اور اقبال ہرنا کے ساتھ مزار پر حاضری دی اور چادر چڑھائی۔ یہ بھی اتفاق ہے کہ واپسی سے قبل ایک صوفی گائیک منظور سائیں سے بھی ملاقات ہو گئی، جنہوں نے صوفیاءکرام کا کلام سُنا کر زائرین کے دِلوں کو گرمایا تھا، خوشگوار یادیں لے کر رات گئے واپس آ گئے۔ ٭

مزید : کالم