”میڈیاکی تھالی“

”میڈیاکی تھالی“

میں نے ایک بڑی پرائیویٹ یونیورسٹی کے طلبا و طالبات سے کھچا کھچ بھرے ہال میں قدم رکھا، پھول پیش کئے گئے ، تالیاں بجیں اور ہم سب نے اپنی نشستیں سنبھال لیں، مجھے یہاں شعبہ صحافت کی طرف سے میڈیا اور کارپوریٹ کلچر کے موضوع پر بات کرنے کے لئے بلایا گیا تھا۔ میرے دن بھر کی مصروفیات کا ابھی تقریباً آغاز ہی تھااور ڈپیارٹمنٹ کے چئیرمین صاحب کے کمرے میں ملنے والی کافی نے بھی پون گھنٹے کی ڈرائیو کی تھکن اتارتے ہوئے موڈ خوشگوار کر دیا تھامگر یہ خوشگوارموڈ اس وقت غارت ہو گیا جب میزبانی کے فرائض سرانجام دینے والی طالبہ نے سب سے پہلے مجھے ہی خطاب کے لئے مدعو کرتے ہوئے انگارے برسانے شروع کئے، اس بچی استقبالیہ کلمات میں قرار دیا کہ ہمارا میڈیا قومی مفادات کی پاسبانی نہیں کرتا، یہ میڈیا تو بکاو¿ ہے جو ریٹنگ اور اشتہارات کے لئے کچھ بھی کر سکتا ہے۔

مجھے علم تھا کہ میرے بعد ایک بہت بڑے دانشور تشریف لانے والے ہیںمگر وہ دئیے ہوئے وقت پر بہرحال تشریف نہیں لائے تھے، مجھے ان کے افکار و خیالات کا بھی پیشگی علم تھا مگر میں بہرحال اپنی ذات اور اپنے پیشے کے ساتھ یہ بددیانتی نہیں کرسکتا تھا کہ اگر میں ان کی طرح قادرالکلام نہیں تو میں اپنا نُقطہ نظر بیان کرنے سے رک جاو¿ں۔ سب سے پہلے تو میں نے قومی مفاد کی تشریح چاہی، مجھے یہ کہنے میں کوئی عار نہیںکہ ہم سب نے اپنے اپنے دھڑے کے مفاد کو قومی مفاد ڈیکلئیر کر رکھا ہے۔ پنجاب والے سمجھتے ہیں کہ کالاباغ ڈیم کی تعمیر عین قومی مفاد میں ہے جبکہ سندھ، خیبر پختونخواہ والے اسے قومی مفاد کے منافی سمجھتے ہیں۔ سید منور حسن اور عمران خان کی نظر میں قومی مفاد کچھ اور ہے توآصف علی زرداری، اسفندیار ولی، الطاف حسین کی جماعتیں کسی اور شے کوقومی مفاد سمجھتی ہیں لہذا یہ کہنا کہ کوئی قومی مفاد کی پاسبانی نہیں کرتا، بہت ہی کمزور اور لغو الزام ہے۔ خود کو محب وطن سمجھتے ہوئے باقیوں کو غدار سمجھنا، خود کو مومن سمجھتے ہوئے باقیوں کو کافر قرار دینا، پڑھے لکھے لوگوں میں یہ باتیں آوٹ ڈٹیڈ ہوچکی ہیں۔ میں نے ان طلبا و طالبات سے کہا کہ اگر آپ بھی میڈیا بارے وہی باتیں کریں جو باہر تھڑے پر بیٹھاشخص کرتا ہے ، آپ کا میڈیا بارے بہ حیثیت مجموعی تصور بکاو¿ مال کا ہو تو پھر آپ کو میڈیا کی فیلڈ جوائن کرنے کا کوئی حق نہیں، آپ طالب علم ہیں تو آپ کو جذباتی بھاشنوں میں دئیے جانے والے کوسنوں کی بجائے میڈیا کے حقیقی مسائل سمجھنا اور ان کے حل کے لئے اپنا کردار ادا کرنا ہو گا۔

میں نے سٹوڈنٹس سے پوچھا کہ آپ کو علم ہے کہ کارپوریٹ کلچر کیا ہے، مجھے پورے ہال سے کوئی جواب نہیں ملا، میں خاموش ہو کر انتظار کرنے لگا تو ایک نوجوان بولا، منافع کمانے کے لئے ناجائز طریقوں کے استعمال کو کارپوریٹ کلچر کہتے ہیں۔ میرا موڈ مزید غارت ہو گیا۔ ان سے عرض کیا کہ آپ کارپوریٹ کلچر کو اس طرح نہ لیں جس طرح کبھی ٹیلی فون ، ٹیلی وژن اور وی سی آرجیسی ایجادات کو لیا گیا۔ ہاں ٹیلی فون، ٹیلی وژن اور وی سی آر ( یا اب ڈی وی ڈی وغیرہ) کے منفی اثرات بھی ہیں مگر یہ ان لوگوں کے لئے ہی ہیں جو ان کا منفی استعمال کرتے ہیں ورنہ ٹیلی وژن سے لے کر انٹرنیٹ تک کی ایجادات نے زندگیوں میں سہولت کا انقلاب پیدا کیاہے اور ایسے ہی کارپوریٹ کلچر ہے۔ ہمیں کارپوریٹ کلچر کی تعریف کسی بزنس ٹائی کون یا ایکسپرٹ سے کروانی چاہئے، کیونکہ جس طرح کسی ٹی وی کا سرکٹ اس کا بنانے والا اور مکینک ہی بتا سکتا ہے اسی طرح کارپوریٹ کلچر کی تعریف کوئی مولوی اللہ دتہ نہیں کر سکتا۔ کارپوریٹ کلچر کو کسی آرگنائزیشن کا کلچر بھی کہہ سکتے ہیں ۔عشروں پہلے اس تصور کو تشکیل دینے والے اس کے مثبت اورمنفی دونوں ہی پہلو بیان کرتے ہیں۔ کارپوریٹ کلچر اصل میں کسی بھی ادارے میں مالکان اور کارکنوں کے ان روّیوں کا مظہر ہوتا ہے جن کے تحت وہ فیصلے اور پھر ان پر عملدرآمد کرتے ہیں۔ یہ کلچرمالکان کو مجبور کرتا ہے کہ وہ میرٹ پر ” رائیٹ جاب کے لی¿ے رائیٹ ایمپلائی“ کا چناو¿ کریں، یعنی سفارش اور رشوت کو راستہ نہ دیا جائے، دوسرے مرحلے میں یہ کلچر ٹیلنٹ اور محنت کی قدر کرتے ہوئے ان ملازمین کو بہترین تنخواہ اور مراعات دینے کا پابند بناتا ہے جو کمپنی کی ساکھ، کاروبار اور منافع کو بڑھائیں۔ گویاپسند ناپسند کی بنیاد پر ہڈحراموں اور نالائقوں کی سرپرستی کی بھی نفی ہو گئی۔ تیسرے یہ کلچر کہتا ہے کہ کام کرنے کے لئے ملازمین کو بہترین ماحول فراہم کیا جائے، یہ ماحول صرف ملازمین کے لئے خوبصورت دفتر ہی نہیں بلکہ نفسیاتی اطمینان فراہم کرنے کی بھی شرط عائد کرتا ہے۔ جو ادارے کارپوریٹ کلچر کو اپنا لیتے ہیں، ان کے ملازمین پوری تندہی سے ادارے کے مفاد کو اپنا مفاد سمجھتے ہوئے کام کرتے ہیں۔

ہاں!کارپوریٹ کلچر بہرحال کاروبار کو کامیابی سے مشروط کرتا ہے ۔ کہاجاتا ہے کہ کارپوریٹ کلچر میں ادارے کامیابی کے لئے ہر جائز و ناجائز طریقہ اور راستہ اختیار کرتے ہیں مگر میری آبزوریشن یہ ہے کہ جو ادارہ کارپوریٹ کلچر کے بہترین اصولوں کو اپنا لیتا ہے وہ منفی ہتھکنڈے استعمال کر ہی نہیں سکتا۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ایسے اداروں کا سب سے بڑا اثاثہ ان کی ساکھ ہوتی ہے۔ کیا پاکستان کے بہت بڑے ٹیلی وژن نیٹ ورک کو کوئی خریدنا چاہے تو کیا وہ صرف عمارتوں، مشینری اور فرنیچر کی قیمت میں اسے خرید سکتا ہے، ہرگز نہیں، اس کی اصل قیمت اس کی گڈ ول ہے، اس کے ناظرین ہیں ۔ مان لیجئے کہ یہ گڈ ول اور ناظرین اس وقت تک ہی رہیں گے جب تک وہ معاشرے کے عمومی تقاضوں کے مطابق خبر دینے اور خبر لینے میںاپنا بہترین کردار ادا کرتا رہے گا۔ عوام بریکنگ نیوز کو غلط قرار دیتے ہیں مگر کیا وہ خود ہمیشہ بریکنگ نیوزدینے والے چینل کی سکرین کے ساتھ چمٹے نہیں رہتے، ہم دانشور بن کے کہتے ہیں کہ اسلام آباد میں سکندر کے ڈرامے کو لائیو نہیں دکھانا چاہئے تھا مگر کتنے گھر ایسے تھے جہاں وہ ٹی وی چینل دیکھے گئے جو اس ڈرامے سے باہر نکل آئے۔ ہمارا میڈیا ہمارے معاشرے کی عکاسی کرتا ہے اورکیا یہ ظلم نہیںہوگا کہ ہم چند افراد کی غلطیوں کو مثال بناتے ہوئے الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا کی اس عظیم الشان خدمت کو نظرانداز کردیں جو اس نے اس ملک میں آئین اور جمہوریت کی بحالی کے ساتھ ساتھ انسانی حقوق کے تحفظ کے لئے سرانجام دی، میں تو کہتا ہوں کہ اگر انسانی حقوق کے تحفظ کا اس ملک میں کوئی سب سے بڑا ایوارڈ ہے تو وہ پورے میڈیا کو بطور ادارہ ملنا چاہئے۔ہاں ! یہ درست ہے کہ ریٹنگ اور اشتہارات دونوں ہی میڈیاکی ضرورت ہیں، یہ میڈیا کے لئے اسی طرح ضروری ہیںکہ جس طرح کسی سیاسی جماعت کے لئے مقبولیت اور کسی کاروبار کے لئے کامیابی، ہاں، ان کے لئے غیر اخلاقی حربوں کی کبھی بھی حمایت نہیں کی جا سکتی۔ مجھے بعد میںجاری ہونے والی خبر سے علم ہوا کہ میرے بعد میں آنے والے معروف دانشور نے کارپوریٹ کلچر کو یہودیوں کی پیداوار قرار دیتے ہوئے قریب قریب اسے مسلمانوں اور اسلام کے خلاف سازش ہی قرار دیا۔

پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا میں کام کرنے والے پچانوے فیصد لوگ آئیڈیل صورتحال میں کام نہیں کر رہے مگر اس کے باوجود میں گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے میڈیا نے پاک بھارت حالیہ تلخی سے فرقہ وارانہ کشیدگی کی وارداتوں کے دوران بہرحال بھارت کے میچور سمجھے جانے والے میڈیا سے بھی زیادہ ذمہ داری کا مظاہرہ کیا ہے۔اگر میڈیا کے لوگ ہی بہ حیثیت مجموعی میڈیا کو گالی دینے لگیں گے تو پھر پاکستان کے عوام کے بہترین مفاد میں کام کرنے والے اس ادارے کا وکیل کون ہو گا۔ہاں ! اس میں موجود کالی بھیڑوں کی نشاندہی ضرور کرنی چاہئے مگر ہمیں اپنے ان پچانوے فیصد کارکنوں کی قربانیوں اور محنت کو گالی نہیں بنانا چاہئے جو اس میں شامل چند کالی بھیڑوں کی وجہ سے ساتھ ہی پس جاتے ہیں۔ میڈیاکو گالی دینے والے میڈیا کی تھالی میں ہی شہرت اور دولت کا راتب بھی چاٹتے ہیں اور پھر اسی میں تھوک بھی دیتے ہیں،مجھے ان سے کہنا ہے کہ انہیں اس میں تھوکنے کی بجائے اس میں لگے داغوںکو صاف کرنا چاہئے۔سیاست کی طرح میڈیا کے وسیع تر اور بااثر ترین شعبے میں آنے والے پورے معاشرے کی نمائندگی کرتے ہیں، اگر عام آدمی یہاں فرشتہ نہیں تو انہیں بھی بھگوان نہیں سمجھنا چاہئے اور اس کے ساتھ ساتھ ۔۔۔ انہیں شیطان بھی نہیں قرار نہیں دینا چاہیے۔

مزید : کالم