نواز شریف کے حلقہ این اے120 میں عارف حمید بٹ کی عمدہ کارکردگی

نواز شریف کے حلقہ این اے120 میں عارف حمید بٹ کی عمدہ کارکردگی
نواز شریف کے حلقہ این اے120 میں عارف حمید بٹ کی عمدہ کارکردگی

  

وقت بہت تیزی سے گزر رہا ہے اور دنیا بھر میں سیاست کے انداز بھی تبدیل ہو رہے ہیں۔ ویسے اس نوعیت کے لطیفے دنیا کے کسی دوسرے ملک میں نہیں ہوتے کہ عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت کم ہو جائے اور پاکستان میں کوئی یہ دعویٰ کر دے کہ تیل کی قیمت میں کمی اس کے ناکام دھرنے کی وجہ سے ہوئی ہے، پہلے دستور تھا کہ جب کوئی امیدوار ممبر اسمبلی یا سینیٹ بن جاتا تھا تو دوبارہ اس کی ملاقات عوام سے صرف اُس وقت ہوتی تھی، جب آئندہ الیکشن کا اعلان ہو جاتا تھا،لیکن اب عوام سیانے ہو گئے ہیں اور منتخب ممبران کو بھی احساس ہو گیا ہے کہ عوام نے اپنا انتقام ووٹ کے ذریعے لے لینا ہے اور اب ممکن نہیں ہے کہ کوئی منتخب امیدار عوام کے مسائل حل کرنے کی طرف توجہ نہ دے۔ پاکستان مسلم لیگ(ن) اس لحاظ سے بہت خوش قسمت سیاسی جماعت ہے کہ اس نے غلطیاں تو ضرور کی ہیں، لیکن دوسری جماعتوں کی طرح فاش غلطیاں نہیں کی ہیں۔ اب ان غلطیوں کی اصلاح بھی تیزی سے کی جا رہی ہے۔

حلقہ این اے 120پاکستان کے انتخابات میں اہم ترین حلقے کا درجہ رکھتا ہے، کیونکہ بھٹو سے لے کر محمد نواز شریف تک زیادہ وزرائے اعظم اِسی حلقے سے سامنے آئے ہیں۔ اس بار ہونے والے انتخابات میں حلقہ این اے120میں ایک خاتون امیدوار نے دوائیں بنانے والی کمپنیوں کے تعاون سے بہت اچھی مہم چلائی اور معقول تعداد میں ووٹ حاصل کر کے پاکستان مسلم لیگ (ن) کو خبردار کر دیا کہ اگر اس اہم ترین حلقے میں اپنی مقبولیت اور کامیابی کا گراف بلند ترین سطح پر رکھنا ہے، تو اس صورت میں دن رات عوام کی بھرپور خدمت کرنی پڑے گی۔ اب یہ نواز شریف کی خوش قسمتی ہے کہ اسے اس حلقے میں ایک مقبول اور کامیاب سیاسی ورکر کی شکل میں عارف حمید بٹ مل گیا جسے سرکاری طور پر حلقہ این اے120 کا کوآرڈینیٹر مقرر کیا گیا ہے۔

عارف حمید بٹ نے حال ہی میں بیڈن روڈ میں پانی کی کمی ختم کرنے اور پورے حلقے میں ٹیوب ویلوں کا جال بچھانے کے علاوہ اور بھی شعبوں میں بہت عمدہ کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے۔ صاف پانی کا مسئلہ پورے پاکستان کا مسئلہ ہے اور اب حکومت ہر سطح پر اس مسئلے کو حل کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ صاف پانی کی عدم دستیابی کی وجہ سے پانی فروخت کرنے والی کمپنیاں دن رات صرف فلٹریشن کی سہولت فراہم کر کے عام دستیاب پانی کو مہنگے داموں فروخت کرنے میں مصروف ہیں۔ دلچسپ بات ہے کہ حال ہی میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں معقول کمی کی گئی ہے۔ پاکستان میں محمد نواز شریف نے جو کمی کی ہے وہ تاریخی اس لئے ہے کہ پاکستان کے مقابلے میں انڈیا میں ہونے والی کمی آٹے میں نمک کے برابر بھی نہیں ہے، لیکن پاکستان کی سب سے بڑی فلٹریشن کمپنی نے اس خوشی میں بوتلوں میں بند پانی کی قیمت کم کرنے کی بجائے فی کریٹ30روپے کا اضافہ کر دیا ہے۔ شائد یہی سبب ہے کہ اب پاکستان مسلم لیگ (ن) کی قیادت نے اپنے منتخب ممبران کو ہدایت کی ہے کہ وہ اپنے اپنے حلقوں میں صاف پانی کی مسلسل فراہمی کے لئے فلٹریشن پلانٹ ضرور لگوائیں۔

حلقہ این اے120کے دل بیڈن روڈ پر عارف حمید بٹ نے تیسرا ٹیوب ویل مکمل کرا دیا ہے اس سے پہلے پریس کلب کے سامنے اور میکلوڈ روڈ پر کیتھڈرل سکول کے سامنے ٹیوب ویل مکمل ہو چکے ہیں۔ بیڈن روڈ کے نئے ٹیوب ویل اور علاقے کے دیگر ترقیاتی پروگراموں پر گفتگو کرتے ہوئے عارف حمید بٹ نے بتایا میاں محمد نواز شریف نے سختی سے ہدایت کی ہے کہ تمام اجتماعی مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جائے، اس لئے سب سے پہلے پانی ، بجلی اور صحت کے مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے کا عمل تیزی سے جاری ہے۔ گزشتہ 20سال سے بیڈن روڈ اور اس سے متصل علاقے ہمہ وقت پانی کی فراہمی سے محروم تھے۔ اس مقصد کے لئے چار کیوسک کا نیا ٹیوب ویل نصب کر دیا گیا ہے۔ پہلے صرف دو کیوسک کے ٹیوب ویل نصب ہوتے تھے، جو بڑھتی ہوئی آبادی کی پانی کی ضروریات پوری کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے تھے، لیکن اب چار کیوسک کا ٹیوب ویل لگنے سے پانی تیسری منزل تک بغیر کسی پانی کی مشین کے پہنچے گا، جس سے بجلی کی بہت زیادہ بچت ہو گی۔ساتھ ہی مَیں نے گورنر پنجاب چودھری سرور سے خصوصی ملاقات کی اور اُن سے درخواست کی کہ وہ ایک صاف پانی کا پلانٹ بیڈن روڈ پر بھی لگوا دیں۔ مجھے یہ بتاتے ہوئے انتہائی خوشی ہو رہی ہے کہ گورنر پنجاب چودھری سرور نے بیڈن روڈ کے نئے ٹیوب ویل کے ساتھ بین الاقوامی معیار کا فلٹریشن پلانٹ لگانے کے لئے 22لاکھ روپے کی منظوری دے دی ہے اور بہت جلد نیا ٹیوب ویل اور فلٹریشن پلانٹ کام شروع کر دیں گے۔

بجلی کے دیگر مسائل کے علاو وہ سب سے اہم مسئلہ تمام علاقوں میں بجلی کی بڑھتی ہوئی سپلائی کو پورا کرنا ہے، جس کے لئے تمام حلقے میں پرانے ٹرانسفارمر تبدیل کرنے کے علاوہ نئے ٹرانسفارمر کی تنصیب کا سلسلہ بھی شروع کیا جا چکا ہے، بجلی کے بے ہنگم تاروں کی وجہ سے بے شمار حادثات ہو رہے ہیں، پورے حلقے کا دورہ کرنے کے بعد جہاں جہاں کمزور بجلی کے تار تھے انہیں تبدیل کیا گیا ہے اور رہائشوں کے قریب خطرہ بن جانے والی تاروں کو بھی تبدیل کر کے صحیح جگہ لگا دیا گیا ہے۔ اس سلسلے میں جانکی دیوی ہسپتال کے قریب لگی ہوئی ان تاروں کو اپنی جگہ سے ہٹا کر نئی جگہ لگا دیا گیا ہے، جن کی وجہ سے نادرا کے قریب آتشزدگی کا واقعہ رونما ہوا تھا، جانکی دیوی ہسپتال لاہور کے قدیم ترین ہسپتالوں میں شامل ہے، لیکن یہاں زچہ بچہ کے لئے صحت کی وہ جدید سہولتیں میسر نہیں، جو اصولاًمہیا ہونی چاہئیں۔ اب جانکی دیوی ہسپتال کو معیاری ہسپتال بنانے کے لئے منصوبہ تیارکیا جا رہا ہے، جس کے بعد ہسپتال میں تمام جدید سہولتیں اور ادویات مفت فراہم کی جائیں گی۔ سوئی گیس کے مسائل بھی حل کروائے گئے ہیں۔ منٹگمری روڈ پر ایک بہت بڑی بستی سوئی گیس سے محروم تھی، اس بستی کو سوئی گیس فراہم کر دی گئی ہے اور جن علاقوں میں سوئی گیس کا پریشر کم ہے۔ ان علاقوں میں صورت حال بہتر بنانے کی طرف خصوصی توجہ دی جا رہی ہے، بطور کوآرڈینیٹر حلقہ این اے120 میری پوری کوشش ہے کہ انفرادی مسائل حل کروانے کے ساتھ اجتماعی مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کئے جائیں۔

مزید :

کالم -