کیپٹن عبدالرشید

کیپٹن عبدالرشید
کیپٹن عبدالرشید

  

حیات ہوں تو مَیں ان کا ماتھا چوم لوں۔ 14اگست 1947ء کو مغربی پاکستان میں کراچی میں مولانا شبیر احمد عثمانی نے اور مشرقی پاکستان میں ڈھاکہ میں مولانا ظفر احمد عثمانی نے سبز ہلالی پرچم لہرا کر اسلامی جمہوریہ پاکستان کو دنیا میں متعارف کرایا۔ 15اگست کو بھارت میں ترنگا لہرایا گیا، اسی دن رات کو چراغاں کے دوران دہلی میں چاندنی چوک میں گھنٹہ گھر پر مسلمانوں پر چاقوؤں سے حملے کرکے ہندوؤں نے ہندو مسلم فسادات کا آغاز کیا۔ طبل آزادی بجنے سے قبل دہلی کے مسلمانوں کو یقین تھا کہ دہلی میں ہندو مسلم فسادات نہیں ہوں گے، یقین تو پہلے ہی دن چکنا چور ہو گیا۔اس کے بعد چل سو چل۔ فسادات بڑھتے چلے گئے۔

جامع مسجد سے قریب ترین ہندوؤں کی گنجان آبادی کے بیچ میں مسلمانوں کا ایک چھوٹا سا محلہ کوچہ استاد حامد تھا، ہم اسی محلے کے رہائشی تھے۔ چند دن بعد عیدالفطر آ گئی۔ محلہ کے تمام مردوں نے عید کی نماز پڑھنے جامع مسجد جانا تھا۔ اس بار جاتے ہوئے فکر مند تھے کہ ہم نماز کو جائیں اور پیچھے کوئی ہنگامہ نہ ہو جائیّ گھر پر صرف عورتیں اور بچے ہیں۔ جلدی جلدی دوگانہ سے فارغ ہو کر تیز تر ہو کر گھر کو واپس لوٹے، جس گرم جوشی سے ایک دوسرے کو عید مبارک کہتے تھے، وہ گرم جوشی نہیں ہے، ہمت حوصلہ نہیں۔ گھر والوں پر ایک خوف سوار ہے۔ ستمبر کاپہلا ہفتہ آیا۔ جمعہ کا دن ہے، نماز جمعہ پڑھنے جانا ہے۔ پھر وہی خوف دامن گیر ہے۔ چوکیدار کو کہا محلہ کا دروازہ بند کرکے رکھنا، نماز سے فارغ ہو کر آئے تو ہنگامہ شروع ہو گیا۔ ہندو مسلم امن کمیٹی حرکت میں آئی۔ بلوائیوں کو منتشر کرایا۔ مسجد کے دروازے بند کرکے اہل محلہ کی میٹنگ ہوئی۔ فیصلہ ہوا عورتوں اور بچوں کو فوراً محفوظ علاقوں میں عزیز و اقارب کے گھر بھیج دیا جائے۔ ہمارا گھرانہ والد صاحب کے ماموں زاد کے گھر جو جامع مسجد کے قریب ہی کوچہ میر عاشق میں رہتے تھے، منتقل ہو گیا۔ ایک مہینہ بعد یہ علاقہ بھی فساد کی زد میں آ گیا۔ اب ہم سب جامع مسجد کے سامنے فلیٹوں میں منتقل ہو گئے۔ فسادات زور پکڑتے گئے۔ ہمایوں کا مقبرہ پرانا قلعہ اور جامع مسجد بھی مہاجر کیمپ بن گئے۔ کھلے آسمان کے نیچے کھانا پکانا، سونا جاگنا، رفع حاجت سب کچھ وہیں ہو رہا ہے۔ مسلمانوں پر ایک قیامت ٹوٹ پڑی۔ میرے بڑے بھائی شادی شدہ تھے۔ دوسرے کی مذکورہ فلیٹوں میں شادی کی۔ تیسرے بھائی اچانک گھر سے غائب ہو گئے۔ چند دن بعد یقین ہو گیا کہ فسادات کی نذر ہو گئے ہیں۔

جب کوچہ استاد حامد چھوڑا تھا، عید کے نئی کپڑے دھوبی کو دھونے دیئے تھے۔اب محلہ چھوڑ چکا تھا۔ گھر بار لٹ چکے تھے۔ عیدالاضحیٰ کا چاند چڑھا تو دو خوشیاں میسر آئیں۔ اول لاہور سے بھائی عبدالغفار کا خط آیا کہ مَیں کسی طرح پرانے قلعہ چلا گیا تھا۔ ہنگامی طورپر لاہور جانے والی ٹرین میں بھی جاگھسا۔ ٹرین کچھ کٹی، کچھ بچی اور مَیں لاہور پہنچ گیا۔ انار کلی میں ایک دوست سے ملاقات ہوئی۔اس کے ساتھ کام شروع کر دیا ہے۔ ایک دن امرتسر کے پرانے دوست مظہر سے بھی ملاقات ہو گئی۔ انہوں نے گھر والوں کا پوچھا تو مَیں نے بتایا مَیں ٹرین سے اکیلا آیا ہوں۔ وہ مجھے اپنے گھر لے گئے اور اب مَیں ان کے پاس پرانی انار کلی میں رہتا ہوں اور نئی انار کلی میں کام کرتا ہوں۔ خیریت کی اطلاع دینے کے بعد عرض ہے گھر کا کوئی فرد ریل گاڑی سے لاہور نہ آئے۔ حالات کا جائزہ لیں اور امن کا انتظار کریں۔ اس خوشی کے بعد دوسری خوشی یہ ملی کہ ہمارا دھوبی دو ماہ کی تلاش کے بعد ہمارے فلیٹ میں آ پہنچا۔ اس نے کہا ایک دو روز تک جب حالات نے اجازت دی مَیں کپڑے پہنچا دوں گا۔ مجھے بھی پیسوں کی ضرورت ہے۔ الحمدللہ چند روز بعد کپڑے بھی مِل گئے۔ بقر عید بھی آ گئی اور ہم سب صاف ستھرے کپڑے پہن کر سامنے جامع مسجد میں عید کا دوگانہ پڑھنے گئے۔

بھائی عبدالغفار لاہور میں ہیں۔ کام بھی شروع کردیا ہے۔ اب ہم سب کیسے جائیں۔یہ روز کی بحث اور روز کا موضوع بن گیا۔ ایک دن 64 روپے کے حساب سے ہوائی جہاز کے پانچ ٹکٹ مل گئے۔ بڑے بھائی بھابی، دو ان کے بچے اور پانچواں دس گیارہ سال کا راقم ہوائی جہاز سے لاہور میں والٹن ایئرپورت پہنچ گئے وہاں سے ٹیکسی لے کر انار کلی آئے۔ بھائی عبدالغفار کا پتہ بھی مل گیا۔ہم سب جذبات میں پاگلوں کی طرح ایک دوسرے کو مل کر رو رہے تھے۔ اِسی ٹیکسی میں ہم سب مظہر صاحب کے گھر گئے۔ اللہ کریم انہیں جزا دے، انہوں نے نچلی منزل میں ہم سب کو ٹھہرایا۔

کوئی ایک مہینے بعد بھائی مظہر نے بھائی عبدالغفار کو بتایا کہ میرا ایک دوست کیپٹن عبدالرشید کانوائے لے کر دہلی جا رہا ہے۔ مَیں اس کے ساتھ جا کر آپ کے والدین اور باقی فیملی کو لے کر آتا ہوں۔ بھائی عبدالغفار نے والد صاحب کے نام خط لکھ کر دیا۔ چند دن بعد یہ کانوائے دہلی جا پہنچا۔ جامع مسجد کے مغربی جانب ٹرک کھڑے کئے۔ سامنے ہی مطلوبہ فلیٹ تھا۔ بھائی مظہر خط لے کر فلیٹ پر گئے۔ والد صاحب سے اپنا تعارف کرایا۔ بھائی عبدالغفار کا خط دیا۔ گھر میں تو خوشی سے نعرے بلند ہو گئے۔ اگلے روز واپسی ہے۔ سفر کے لئے شام تک جو کچھ پک سکتا تھا، پکا لیا۔ سامان مختصر تھا، اسے سمیٹ لیا۔ دیگر عزیز و اقارب جوان چند ٹرکوں میں آ سکتے تھے، ان کو ساتھ لے کر یہ کانوائے واپس پاکستان روانہ ہوا، والدین اور بھائیوں سمیت چھ افراد میرے گھر کے تھے، باقی دیگر عزیز و اقارب رات کو کانوائے پانی پت پہنچا۔ زمین پر دریاں بچھا کر سب اپنا اپنا کھانا کھول بیٹھے۔ دعوتِ شیراز کا منظر تھا۔ شکر اور خوشی سے رو بھی رہے تھے۔ کیپٹن عبدالرشید بار بار ان کو تسلی دیتے، دلاسا دلاتے، محبت اور بھائی چارے کا اظہار کرتے۔ انہوں نے سب کو بے غم اور خوشگوار ماحول میں لپیٹ دیا۔ سکون کی نیند سونے کے بعد فجر ہوئی۔ فوجی بھائیوں نے سب کی چائے سے تواضع کی، سب کو فریش کیا۔ خوش کیا اور آگے چلنے کی نوید سنائی۔ اس عرصے میں دوستی کی ایک تکون بن گئی۔ کیپٹن عبدالرشید، بھائی مظہر اور میرے بھائی عبدالجبار یہ تینوں تقریباً ہم عمر بھی ہیں اور خوش اخلاق بھی۔ پانی پت سے کانوائے لاہور کے لئے روانہ ہوا۔ کہیں رک گئے، کہیں شام کی چائے کے لئے رُک گئے اور کرتے کراتے لاہور آ گیا۔ الحمد للہ لاہور آ گیا، رات ہے، ہر طرف اندھیرا ہے، سخت سردی میں کانوائے چوبرجی پہنچا۔ کیپٹن عبدالرشید نے بخیریت پہنچنے پر سب کو مبارک باد دی۔ سب کو فرداً فرداً گلے لگایا اور سب کو شب بخیر کہہ کر رخصت کیا۔ میرے الدین زیادہ عمر رسیدہ تھے اُن سے کیپٹن عبدالرشید نے اپنے حق میں دُعا کرائی۔

چوبرجی پر اندھیرا ہے، ہر طرف کھیت ہیں، گیدڑ بول رہے ہیں، کوئی سواری نہیں ہے، دائیں بائیں جا کر بھائی مظہر نے ایک تانگہ پکڑا۔ تانگے میں سامان اور سامان پر سواریاں، نزدیک ہی ربانی روڈ ہے۔ تانگہ گھر پر پہنچا ، گھر میں بجلی نہیں ہے، نچلی منزل میں بھائی، بھابھی، بچے اور راقم لیمپ جلا کر سوئے ہوئے ہیں۔ کسی نے دروازہ کھٹکھٹایا۔ بھائی عبدالغفار نے پوچھا کون؟ جواب آیا۔ مظہر۔ لیمپ کی لو اونچی کی۔ زور کی آواز دی اُٹھو سب گھر والے آ گئے۔

دروازہ کھولا۔ تانگے سے سب اتر چکے تھے، ہم تینوں بھائی اور بھابھی باہر بھاگے۔ ایک دوسرے کو چمٹ گئے، پھر وہی منظر ہے۔ پاگلوں کی طرح چمٹ رہے ہیں، چوم رہے ہیں، رو رہے ہیں۔ الحمد للہ ثم الحمد للہ سب گھر والے اللہ کریم کی امان میں پھر اکٹھے ہو گئے ہیں۔ ہم بھائی مظہر کو چوم رہے ہیں، کیپٹن عبدالرشید کو دُعائیں دے رہے ہیں۔ گھر کی اوپر کی منزل میں ہماری آوازیں گئیں۔ بھائی مظہر کی والدہ، خالہ اور بہنیں بھی نیچے آ گئیں۔ سب ایک دوسرے کو پیار کر رہے ہیں۔ مبارک باد دے رہے ہیں۔کچھ روز بعد کیپٹن عبدالرشید کا پیغام ملا کہ مَیں دہلی جا رہا ہوں۔ پانی پت میں جو مثلث بنی تھی، وہ سامنے آئی اور کیپٹن عبدالرشید کے ساتھ بھائی مظہر اور بھائی عبدالجبار فوجی کانوائے کو لے کر دہلی روانہ ہوئے۔ جامع مسجد کے قرب و جواز میں جو مہاجرین موجود تھے، ان کو لے کر یہ واپس روانہ ہوئے۔ کچھ عرصہ بعد پھر یہ تینوں کچھ مزید لوگوں کو بحفاظت دہلی سے نکالنے میں کامیاب ہوئے، جبکہ ریل گاڑی کا حساب وہی رہا کہ کوئی کٹی اور کوئی بچی۔

1954ء میں بھائی مظہر اور بھائی عبدالجبار سعودی عرب میں آرامکو میں ملازمت لے کر وہاں منتقل ہو گئے۔ لاہور میں وقت کے ساتھ ساتھ ہم دونوں گھرانوں کی مختلف جگہوں پر رہائش بدلتی رہی، مگر ہمارا ساتھ کبھی نہیں چھوٹا، اب صورت حال یہ ہے کہ میرے گھرانے میں میرے والدین اور پانچوں بھائی فوت ہو چکے ہیں۔ د وسری طرف صرف بھائی مظہر اپنے گھرانے میں الحمد للہ حیات ہیں۔ اگر کیپٹن عبدالرشید بھی بفضل تعالیٰ حیات ہوں، تو یہ تکون پھر اس طرح بن سکتی ہے۔ کیپٹن عبدالرشید، بھائی مظہر اور بھائی عبدالجبار کا چھوٹا بھائی عبدالخالق۔

راقم تو دسمبر1947ء میں جہاز سے اپنے بڑے بھائی کی فیملی کے ساتھ لاہور آ گیا تھا۔ کیپٹن عبدالرشید والی کہانی جنوری1948ء کی ہے۔ اس کے بعد یقیناًروٹین میں کیپٹن عبدالرشید کے عہدے بڑھتے رہے ہوں گے۔ ممکن ہے وہ جنرل عبدالرشید بنے ہوں۔ خدا کرے ایسے نیک انسان کے ساتھ ایسا ہی ہوا ہو۔اب اگر وہ بفضلِ تعالیٰ حیات ہیں تو وہ تکون مکمل ہے جس کا مَیں نے نیچے ذکر کیا ہے۔ اگر وہ اس مضمون کو پڑھیں تو بندہ رابطے کا ممنون ہو گا۔ میرے والدین اور سب بھائی تو اللہ کو پیارے ہو چکے۔اگر کیپٹن عبدالرشید کے ساتھ بھی یہی دستورِ زمانہ والا معاملہ ہے، تو مَیں دُعا کروں گا۔ اللہ کریم سب کی قبروں کو نور سے بھر دے(آمین ثم آمین) اگر ماضی کی اس روداد کو کیپٹن صاحب کے لواحقین بھی پڑھیں تو ان سے مل کر مجھے خوشی ہو گی۔

مزید :

کالم -