عوامی لیگی حکومت کے خلافِ اسلام اقدامات

عوامی لیگی حکومت کے خلافِ اسلام اقدامات
عوامی لیگی حکومت کے خلافِ اسلام اقدامات

  


16دسمبر1971ء وہ سیاہ ترین دن تھا، جب اپنوں کے غیرذمہ دارانہ رویوں اور غیروں کی عداوت وسازش کے نتیجے میں وطن عزیز و لخت ہوگیا۔ مشرقی پاکستان کے محب وطن شہریوں پر قیامت ٹوٹ پڑی۔ آج پھر وہ تمام عناصر جو اس وقت بھارتی فوج کی یلغار کے خلاف اپنے وطن کی حفاظت کے لئے قربانیاں دے رہے تھے، پھانسیوں کے حق دار قرار پائے ہیں۔ نہ کوئی انصاف ہے، نہ عدالت! یہ سب ایک طویل داستان کا حصہ ہے جسے ہر سال سنا اور سنایا جاتا ہے۔ یہ دن گزر جاتا ہے تو ہمارے لوگ بھول جاتے ہیں، مگر بنگلہ دیش میں بے گناہ لوگ ظلم کی چکی میں پس رہے ہیں۔ ان کا کوئی پرسان حال نہیں۔ ہم فریاد بھی اللہ ہی سے کرتے ہیں اور اپنا دکھڑا بھی اسی ذات کبریا کو سناتے ہیں۔ ظالم بنگلہ دیشی وزیراعظم اور اس کی ٹیم کو اپنے باپ اور بنگوبندھو شیخ مجیب الرحمن کا دردناک انجام یاد رکھنا چاہیے۔ فطرت کی تعزیریں بڑی سخت ہیں۔ بنگلہ دیش میں گذشتہ انتخابات کے نتیجے میں عوامی لیگ تیسری مرتبہ حکومت بنانے میں کامیاب ہوئی تھی۔ اس مسلم ملک میں عوامی لیگ کی حکومت جب بھی برسر اقتدار آتی ہے بھارت، امریکہ اور دیگر اسلام دشمن قوتوں کی باچھیں کھل جاتی ہیں۔ عوامی لیگ بنگلہ دیش کے قیام سے قبل مکتی باہنی کے لبادے میں بھارتی فوج کی ایک بٹالین کے طور پر کام کر رہی تھی۔ سقوط ڈھاکہ کے وقت عوامی لیگ کی قیادت بھارتی ٹینکوں پر سوار ہو کر ایوان اقتدار میں داخل ہوئی۔ اس المناک واقعہ کے بارے میں اب تک درجنوں کتب سامنے آچکی ہیں، مگر ڈھاکہ یونی ورسٹی کے سابق وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر سید سجاد حسین کی کتاب ’’شکست آرزو‘‘ اور سابق فوجی افسر وسفیر بنگلہ دیش لیفٹیننٹ کرنل شریف الحق والیم کی کتاب ’’پاکستان سے بنگلہ دیش، ان کہی جدوجہد‘‘ میں اتنے حقائق جمع کردیئے گئے ہیں کہ تصویر کا صحیح رخ سامنے آجاتا ہے۔ اس کے مطابق یہ پارٹی پاکستان اور اسلام کے مقابلے میں بھارت اور لادینیت دوست ہے۔

شیخ مجیب الرحمن کو پاکستانی جیل سے رہائی ملی اور وہ نوزائیدہ ملک میں سیاہ و سفید کے مالک بن بیٹھے ۔ سقوط ڈھاکہ کے موقع پر بھارتی وزیراعظم، اندرا گاندھی نے ایک جانب یہ زہر آلود اور اسلام دشمن فقرہ کہا کہ نظریہ پاکستان کو خلیج بنگال میں ڈبو دیا گیا ہے۔ دوسری جانب اس نے یہ فلسفہ بھی بگھارا کہ اب بنگلہ دیش میں پاکستان کے متعلق نرم گوشہ رکھنے والے غدار کبھی ایوان اقتدار کا منہ نہ دیکھ سکیں گے۔ یوں شیخ مجیب الرحمن اور اندرا گاندھی پاکستان دشمنی میںیک جان دو قالب ہوگئے۔ اپنی ایک ملاقات میں انہوں نے لمبے چوڑے منصوبے سوچے، مگر مخلوق کے سوچنے سے کیا ہوتا ہے۔ فیصلے تو خالق ہی کے صادر ہو کر رہتے ہیں۔ دونوں پاکستان دشمن راہنما یکے بعد دیگر اپنے دردناک انجام کو پہنچے۔

شیخ مجیب الرحمن جنہوں نے تاحیات صدارت حاصل کر لی تھی، اپنی ہی فوج کے چند جونیر افسران کے ہاتھوں 15؍اگست 1975ء کو اپنی بیوی، تین بیٹوں اور دیگر پندرہ افراد کے ساتھ اپنے گھر، دھان منڈی ڈھاکہ میں موت کے گھاٹ اتار دیے گئے۔ شیخ مجیب کی دو بیٹیاں جو اس وقت جرمنی میں تھیں، بچ گئیں۔ انہی میں سے ایک حسینہ واجد تھی جو اس وقت نام نہاد الیکشن کے نتیجے میں تیسری مرتبہ بنگلہ دیش کی وزیر اعظم بنی ہیں۔ اندرا گاندھی کو بھی 9سال بعد اس کے اپنے ہی باڈی گارڈز نے 31؍ اکتوبر 1984ء کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔ عوامی لیگ جب بھی برسر اقتدار آتی ہے، اسلام دشمن اور پاکستان مخالف پالیسیاں اپنائی جاتی ہیں۔ آج کل جماعت اسلامی ہی نہیں خود لفظِ اسلام بھی عوامی لیگ حکومت کی کارروائیوں کا ہدف بنا ہوا ہے۔ ملک میں یہ بحث جاری ہے کہ کوئی پارٹی اپنے نام کے ساتھ اسلامی کا سابقہ یا لاحقہ لگا سکتی ہے یا نہیں۔ اسی طرح اسلامی لٹریچر بالخصوص سرکاری اداروں اور لائبریریوں میں مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودیؒ کی کتب کے تراجم کو ممنوع قرار دے دیا گیا ہے۔ جماعت اسلامی بنگلہ دیش اور اس کی تمام برادر تنظیمات کی قیادت عقوبت خانوں میں بد ترین انتقام کا نشانہ بنائی جارہی ہے۔ جن لوگوں نے 1971ء میں پاکستان کی حمایت کی تھی انہیں جنگی مجرم قرار دیا گیا ہے۔ انہیں پھانسی کی سزا دلوانے کے لئے حکمران پارٹی اور سرکاری وکلا پوری طرح سرگرم عمل رہے ہیں اور جعلی کورٹس کے ذریعے انہیں سزائے موت سناد ی گئی ہے۔ ان میں سے عبدالقادر ملا کو تو لٹکا کر موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔ مولانا اے کے ایم یوسف اور پروفیسر غلام اعظم جیل ہی میں موت سے ہم کنار ہوکر شہادت پا چکے ہیں۔ باقی تمام راہنماؤں کو بھی سزائے موت سنا دی گئی ہے۔

حسینہ واجد کے قریبی حلقوں میں کئی ہندو دانش ور اور شخصیات بھی شامل ہیں۔ وہ بطور تھنک ٹینک کچھ امور طے کرتے ہیں اور پھر بڑی چالاکی سے بنگلہ دیش کے سیکولر عوامی لیگی حلقوں اور این جی اوز کو ان منصوبوں پر عمل درآمد کے لئے منظرعام پر لے آتے ہیں۔ بنگلہ دیش کے عوام میں یہ رائے پائی جاتی ہے کہ ڈھاکہ میں بھارتی سفارت خانہ براہِ راست شیخ حسینہ واجد کو ہدایات دیتا ہے جو سرکاری پالیسی کا حصہ بن جاتی ہیں۔اسلام کی نمایندگی کرنے والی جماعت کی پکڑ دھکڑ اور اسلامی لٹریچر پر پابندی لگوانے کے ’’کامیاب تجربے‘‘ کے بعد اب ان عناصر کی یہ بھی کوشش ہے کہ بنگلہ دیش میں خواتین کے برقع پر پابندی لگا دی جائے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ عمومی طور پر بنگلہ دیشی مسلمانوں کے دلوں میں اسلام اور مذہب کے ساتھ محبت کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی ہے۔ ہندو تہذیب کی یلغار اور میڈیا پر فحش پروگراموں کی بھرمار کے باوجود بنگلہ دیشی مسلمانوں کی اکثریت آج بھی اسلام اور دینی شعائر کا بڑا احترام کرتی ہے۔ ایک خاتون جو نام کی تو مسلمان ہے، مگر کلچر کے لحاظ سے ہندو تہذیب کی نمائندگی کرتی ہے، ایک سکول کی ہیڈ مسٹریس ہے، موصوفہ کا نام شبانہ ارجمند بانو ہے۔ اسے انتہائی قابل اعتراض لباس میں دیکھ کر ایک مسلمان سینئر سرکاری افسر نے شرم دلائی کہ اس کے اس لباس سے سکول کی بچیوں اور استانیوں پر کیا اثر پڑتا ہوگا۔ کلکتہ کے مشہور انگریزی اخبار ’’دی ڈیلی ٹیلی گراف‘‘ 5؍اکتوبر کے مطابق موصوفہ نے سینئر افسر کے خلاف ہتک عزت کا دعویٰ کر دیا۔ عدالت عالیہ نے متعلقہ افسر کو حکم دیا کہ وہ معزز خاتون سے غیر مشروط معافی مانگے۔ ساتھ ہی یہ رولنگ دی کہ عورت کی مرضی ہے چاہے تو برقع پہنے، چاہے نہ پہنے، چاہے تو پورا جسم ڈھانپے اور چاہے تو اس کے خلاف عمل اختیار کرلے، کسی کو اس پر اعتراض کرنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔

عوامی لیگ کے برسر اقتدار آنے سے قبل پولیس ملکی قوانین کے مطابق عوامی جگہوں پر خواتین کی عریانی اور غیر مہذب لباس پر سرزنش کرتی تھی۔ اس پر بنگلہ دیش ہائی کورٹ نے گذشتہ سال مارچ میں پولیس کو سخت وارننگ دی کہ وہ یہ ’’غیر معقول‘‘ رویہ ترک کر دے۔ ان عدالتی فیصلوں سے حوصلہ پاکر کئی مغرب زدہ اور ہندو تہذیب کی دلدادہ خواتین اور این جی اوز نے عدالتوں کے دروازے کھٹکھٹائے اور مطالبہ کیا کہ برقع پر مکمل پابندی لگائی جائے۔ عوامی لیگ حکومت کی طرف سے سرکاری اداروں میں مولانا مودودیؒ کے اسلامی لٹریچر پر پابندی کی مذموم حرکت کے باوجود یہ غنیمت ہے کہ پرائیویٹ سیکٹر میں مولانا کی کتب خاص طور پر تفہیم القرآن کا ترجمہ تمام کتب سے زیادہ چھپ اور بک رہا ہے۔ یہ بھی قابل ذکر ہے عدالتوں نے جہاں عریانی پھیلانے والی عورتوں کو آزادی دی ہے وہاں حجاب اور سکارف پہننے والی خواتین پر بھی قدغن لگانے کا بے ہودہ مطالبہ سردست مسترد کردیا ہے۔ آگے آگے دیکھیے ہوتا ہے کیا!

یہ امر بہرحال باعث اطمینان ہے کہ بنگلہ دیش میں عوامی لیگ اور اس کے حامی طبقوں کی ساری بھارت نوازی اور اباحیت پرستی کے باوجود نوجوان خواتین پہلے سے زیادہ باپردہ ہو رہی ہیں۔ ڈھاکہ یونی ورسٹی کی ایک پروفیسر جو سائیکالوجسٹ ہے، نے ایک حالیہ بیان میں بہت ایمان افروز انکشافات کیے ہیں۔ اگرچہ ڈھاکہ یونی ورسٹی کے بارے میں یہ کہا جاتا ہے کہ روایتی طور پر یہاں کے طلبہ و اساتذہ ہندو تہذیب کے زیر اثر ہمیشہ عوامی لیگ کے حامی ہوتے ہیں، مگر پروفیسر مہتاب خانم نے کہا: ’’میں نے 1983ء میں اس یونی ورسٹی میں پڑھانا شروع کیا۔ اس وقت کے مقابلے میں آج نوجوان لڑکیاں کہیں بڑی تعداد میں سکارف پہنتی ہیں۔‘‘ پروفیسر خانم کے بقول: ’’بہت سی نوجوان لڑکیاں یہ جانتی ہیں کہ بے پردگی کے ساتھ، انہیں تنگ کرنے والے جری ہوجاتے ہیں، جبکہ باپردہ ہونے کی صورت میں وہ ایسی جسارت نہیں کرسکتے۔ ٹیکنالوجی اور علم کی بہت زیادہ ترقی کے باوجود ایک جانب والدین اسلام سے زیادہ قریب ہو رہے ہیں اور دوسری جانب نوجوان نسل بھی لچر ملبوسات کے مقابلے میں سنجیدہ اور پروقار لباس کو ترجیح دیتی ہے۔ بے آستین بلاوز، جینز اور ٹی شرٹس میں بہت کم لڑکیاں کشش محسوس کرتی ہیں۔ عدالتیں جو چاہیں فیصلے دیں لیکن لوگوں کی ذہنی ساخت، اسلامی اقدار کی جانب مائل ہے۔‘‘

ایک اور تعلیم یافتہ نوجوان لڑکی سلمیٰ حیدر (عمر23سال) جو ایک بڑی مارکیٹ میں خریداری کر رہی تھی، نے کلکتہ کے انگریزی اخبار کو ایک سوال کے جواب میں کہا کہ ’’میں اپنے حجاب میں خود کو خوبصورت بھی پاتی ہوں اور محفوظ بھی محسوس کرتی ہوں۔ پہلے میں حجاب نہیں کرتی تھی، چند ماہ قبل اپنے خاندان کے بزرگوں کی نصیحت پر عمل کرتے ہوئے میں نے حجاب کیااوریہ تجربہ کامیاب ثابت ہوا۔ اب میں اس ساتر لباس میں بہت خوش ہوں۔‘‘ فہمیدہ اسلام انیس سال کی ایک لڑکی ہے جو ٹیلی ویژن میں پروگرام پیش کرتی ہے، کا کہنا ہے کہ ’’میں اگرچہ برقع نہیں پہنتی لیکن چادر اور سکارف سے اپنے بالوں اور چہرے کے بیش تر حصے کو حجاب میں رکھتی ہوں۔ اس نے ایک غیرملکی خبررساں ایجنسی کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا: ’’میرا یہ حجاب میری آزادی کی علامت ہے اور میں سمجھتی ہوں کہ بنگلہ دیشی خواتین کو رسوم و رواج میں اسلامی احکام کو ضرور ملحوظ رکھنا چاہیے۔‘‘

جہاں ایک جانب یہ خیالات ہیں وہاں دوسری جانب آزاد منش خواتین بھی میدان میں سرگرم عمل ہیں۔ کمپیوٹر سائنس کی ایک طالبہ عشرت جہاں نے اوپر بیان کردہ نظریات سے اختلاف کرتے ہوئے کہا کہ ’’برقع اور حجاب میں محفوظ ہونے کا تصور غلط ہے۔ یہ محض ایک خوش خیالی ہے۔ ماڈرن لباس میں ملبوس خواتین کو اتنا تنگ نہیں کیا جاتا جتنا برقعے والیوں کو کیا جاتا ہے۔‘‘ مندرجہ بالا بھارتی اخبار کے مطابق عشرت جہاں نے برقع پوش خواتین کا مذاق اڑاتے ہوئے قہقہے لگائے۔ بنگلہ دیش کا المیہ یہ ہے کہ یہاں تعلیم کے شعبے میں شروع سے ہندو اقلیت کا تسلط تھا۔ انہوں نے اپنی تہذیب کو مسلط کرنے اور اسلامی تہذیب سے مسلمان آبادی کو بے گانہ کرنے کے لئے بہت منصوبہ بندی سے کام کیا، مگر کلکتہ سے نکلنے والے انگریزی اخبار ’’دی ٹیلی گراف‘‘ کے مطابق اب فضا بدل رہی ہے اور اخبار کی تجزیہ نگار اے سینگوفتہ کے مطابق یہ عوامی لیگ حکومت کی پالیسیوں کا رد عمل ہوسکتا ہے۔

اخباری نمایندے کے اس نتیجے میں یقیناًوزن ہے کیوں کہ اسلام اور اسلامی شعائرکے خلاف جب بھی اور جہاں بھی ہرزہ سرائی کی جاتی ہے، ایک عام مسلمان کے اندر سوئی ہوئی غیرت بھی بیدار ہوجاتی ہے۔ یہ بھی ایک آزمودہ اور تجربہ شدہ امر ہے کہ بسااوقات ردّعمل میں بیدار ہونے والے یہ بظاہر بے عمل مسلمان، بہت سے عملی مسلمانوں سے بھی آگے نکل جاتے ہیں۔ یوں اللہ تعالیٰ شر میں سے خیر برآمد کردیتا ہے۔ بنگلہ دیش کے اسلامی عناصر پر آج بڑا مشکل وقت آن پڑا ہے۔ وہ مصر اور شام کے اخوان کی طرح ابتلاوامتحان کا شکار بنائے گئے ہیں، مگر ہمیں یقین ہے کہ اس شر میں سے بھی ان شاء اللہ خیر ہی برآمد ہوگا۔

مزید : کالم


loading...